الرحیق المختوم
غزوہ خیبر اور غزوۂ وادی القریٰ
خیبر ، مدینہ کے شمال میں ایک سو ستر کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں قلعے بھی تھے اور کھیتیاں بھی۔ اب یہ ایک بستی رہ گئی ہے۔ اس کی آب وہوا قدرے غیر صحت مند ہے۔
غزوے کا سبب:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں جنگِ احزاب کے تین بازوؤں میں سب سے مضبوط بازو (قریش ) کی طرف سے پوری طرح مطمئن اور مامون ہوگئے تو آپ نے چاہا کہ بقیہ دوبازوؤں ۔یہود اور قبائل نجد۔سے بھی حساب کتاب چکا لیں۔ تاکہ ہرجانب سے مکمل امن وسلامتی حاصل ہوجائے۔ اور پورے علاقے میں سکون کا دور دورہ ہو۔ اور مسلمان ایک پیہم خون ریز کشمکش سے نجات پاکر اللہ کی پیغام رسانی اور اس کی دعوت کے لیے فارغ ہوجائیں۔
چونکہ خیبر سازشوں اور دسیسہ کاریوں کا گڑھ ، فوجی انگیخت کا مرکز اور لڑانے بھڑانے اور جنگ کی آگ بھڑکانے کی کان تھا۔ اس لیے سب سے پہلے یہی مقام مسلمانوں کی نگہِ التفات کا مستحق تھا۔
رہا یہ سوال کہ خیبر واقعتاً ایسا تھا یا نہیں تواس سلسلے میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اہل ِ خیبر ہی تھے جو جنگ ِ خندق میں مشرکین کے تمام گروہوں کو مسلمانوں پر چڑھالائے تھے۔ پھر یہی تھے جنہوں نے بنو قریظہ کو غدر وخیانت پر آمادہ کیا تھا۔ نیز یہی تھے جنہوں نے اسلامی معاشرے کے پانچویں کالم منافقین سے اور جنگِ احزاب کے تیسرے بازو ۔ بنو غطفان اور بدوؤں ۔ سے رابطہ پیہم کر رکھا تھا اور خود بھی جنگ کی تیاریاں کررہے تھے۔ اور اپنی ا ن کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کو آزمائشوں میں ڈال رکھا تھا۔ یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شہید کرنے کا پروگرام بنالیا تھا۔ اور ان حالات سے مجبور ہوکر مسلمانوں کو بار بارفوجی مہمیں بھیجنی پڑی تھیں۔ اور ان دسیسہ کاروں اور سازشیوں کے سربراہوں مثلاً:’’سلام بن ابی الحقیق اور اسیر بن زارم ‘‘کا صفایا کرنا پڑا تھا۔ لیکن ان یہود کے تئیں مسلمانوں کا فرض درحقیقت اس سے بھی کہیں بڑاتھا۔ البتہ مسلمانوں نے اس فرض کی ادائیگی میں قدرے تاخیر سے کام لیا تھا کہ ابھی ایک قوت ۔ یعنی قریش۔ جو ان یہود سے زیادہ بڑی ،طاقتور،جنگجو اورسرکش تھی۔ مسلمانوں کے مد مقابل تھی۔ اس لیے مسلمان اسے نظر انداز کر کے یہود کا رُخ نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن جو نہی قریش کے ساتھ اس محاذآرائی کا خاتمہ ہوا ان مجرم یہودیوں کے محاسبہ کے لیے فضا صاف ہوگئی اور ان کا یوم الحساب قریب آگیا۔
خیبر کو روانگی:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ سے واپس آکر ذی الحجہ کا پورا مہینہ اور محرم کے چند دن مدینے میں قیام فرمایا۔ پھر محرم کے باقی ماندہ ایام میں خیبر کے لیے روانہ ہوگئے۔
مفسرین کا بیان ہے کہ خیبر اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا جوا س نے اپنے ارشاد کے ذریعہ فرمایا تھا :
﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ ﴾(۴۸: ۲۰)
’’اللہ نے تم سے بہت سے اموال ِ غنیمت کا وعدہ کیا ہے جسے تم حاصل کرو گے تو اس کو تمہارے لیے فوری طور پر عطاکردیا۔‘‘
’’جس کو فوری طور پر ادا کردیا ‘‘اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور ’’بہت سے اموال ِ غنیمت ‘‘ سے مراد خیبر ہے۔
اسلامی لشکر کی تعداد:
چونکہ منافقین اور کمزور ایمان کے لوگ سفر حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیار کرنے کے بجائے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں حکم دیتے ہوئے فرمایا :
﴿ سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ إِلَى مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللّٰهِ قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونَا كَذَلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾(۴۸: ۱۵)
’’جب تم اموال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑ ے گئے لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات بدل دیں۔ ان سے کہہ دینا کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اللہ نے پہلے ہی سے یہ بات کہہ دی ہے (اس پر) یہ لوگ کہیں گے کہ (نہیں) بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو۔ (حالانکہ حقیقت یہ ہے ) کہ یہ لوگ کم ہی سمجھتے ہیں۔‘‘
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی روانگی کا ارادہ فرمایا تو اعلان فرمادیا کہ آپ کے ساتھ صرف وہی آدمی روانہ ہوسکتا ہے جسے واقعۃ ً جہاد کی رغبت اور خواہش ہے۔ اس اعلان کے نتیجہ میں آپ کے ساتھ صرف وہی لوگ جاس کے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت ِ رضوان کی تھی۔ اور ان کی تعداد صرف چودہ سو تھی۔
اس غزوے کے دوران مدینہ کا انتظام حضرت سباع بن عرفطہ غفاری کو ______ اور ابن اسحاق کے بقول ______ نمیلہ بن عبداللہ لیثی کو سونپا گیا تھا۔ محققین کے نزدیک پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔[1]
اسی موقع پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہوکر مدینہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت حضرت سباع بن عرفطہ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں پہنچے۔ انہوں نے توشہ فراہم کردیا۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے لیے خیبر کی جانب چل پڑے۔ جب خدمت نبوی میں پہنچے تو (خیبر فتح ہوچکاتھا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے گفتگو کر کے حضرت ابو ہریرہ اور ان کے رفقاء کو بھی مال غنیمت میں شریک کر لیا۔
یہود کے لیے منافقین کی سرگرمیاں :
اس موقع پر یہود کی حمایت میں منافقین نے بھی خاصی تگ ودو کی۔ چنانچہ راس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے یہود ِ خیبر کو یہ پیغام بھیجا کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہار ا رُخ کیا ہے۔ لہٰذا چوکنا ہو جاؤ ،تیاری کرلو۔ اوردیکھو !ڈرنا نہیں۔ کیونکہ تمہاری تعداد اور تمہارا سازوسامان زیادہ ہے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء بہت تھوڑے اور تہی دست ہیں۔ اور ان کے پاس ہتھیار بھی بس تھوڑے ہی سے ہیں۔
جب اہل خیبر کو اس کا علم ہو ا تو انہوں نے کنانہ بن ابی الحقیق اور ہوذہ بن قیس کو حصولِ مدد کے لیے بنو غطفان کے پاس روانہ کیا۔ کیونکہ وہ خیبر کے یہودیوں کے حلیف اور مسلمانوں کے خلاف ان کے مدد گار تھے۔ یہود نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر انہیں مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوگیا تو خیبر کی نصف پیداوار انہیں دی جائے گی۔
خیبر کا راستہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر جاتے ہوئے۔ جبل عِصْر کو عبور کیا ۔ عِصْر کے عین کو زیر ہے اور ص ساکن ہے۔ اور کہا جاتاہے کہ دونو ں پر زبر ہے ۔ پھر وادیٔ صہباء سے گذرے۔ اس کے بعد ایک اور وادی میں پہنچے جس کا نام رجیع ہے۔ (مگر یہ وہ رجیع نہیں جہاں عضل وقارہ کی غداری سے بنو لحیان کے ہاتھو ں آٹھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت اور حضرت زید وخبیب رضی اللہ عنہما کی گرفتاری اور پھر مکہ میں شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا )
رجیع سے بنو غطفان کی آبادی صرف ایک دن اور ایک رات کی دوری پر واقع تھی اور بنو غطفان نے تیار ہوکر یہود کی اِمداد کے لیے خیبر کی راہ لے لی تھی۔ لیکن اثنائِ راہ میں انھیں اپنے پیچھے کچھ شور وشغب سنائی پڑا تو انہوں نے سمجھا کہ مسلمانوں نے ان کے بال بچوں اور مویشیوں پر حملہ کردیا ہے اس لیے وہ واپس پلٹ کر آگئے اور خیبر کو مسلمانوں کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔
اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں ماہرین ِ راہ کو بلایا جو لشکر کو راستہ بتانے پر مامور تھے ان میں سے ایک کا نام حسیل تھا ۔ ان دونو ں سے آپ نے ایسا مناسب ترین راستہ معلوم کرنا چاہا جسے اختیار کر کے خیبر میں شمال کی جانب سے یعنی مدینہ کے بجائے شام کی جانب سے داخل ہوسکیں۔ تاکہ اس حکمت ِ عملی کے ذریعے ایک طرف تو یہود کے شام بھاگنے کا راستہ بند کردیں۔ اور دوسری طرف بنو غطفان اور یہود کے درمیان حائل ہوکر ان کی طرف سے کسی مدد کی رسائی کے امکانات ختم کردیں۔
ایک راہنمانے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو ایسے راستے سے لے چلوں گا۔ چنانچہ وہ آگے آگے چلا۔ ایک مقام پر پہنچ کر جہاں متعدد راستے پھوٹتے تھے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ان سب راستوں سے آپ منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہرایک کا نام بتائے۔ اس نے بتایا کہ ایک کام حَزن (سخت اور کھردرا) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چلنا منظور نہ کیا۔ اس نے بتایا : دوسرے کانام شاش (تفرق واضطراب والا) ہے۔ آپ نے اسے بھی منظور نہ کیا۔ اس نے بتایا: تیسرے کانام حاطب (لکڑہارا ) ہے آپ نے اس پر بھی چلنے سے انکار کردیا۔ حُسَیْل نے کہا : اب ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کا نام کیا ہے ؟ حُسیل نے کہا: مرحب۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر چلنا پسند فرمایا۔
راستے کے بعض واقعات :
1۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر روانہ ہوئے۔ رات میں سفر طے ہورہا تھا۔ ایک آدمی نے عامر سے کہا : اے عامر ! کیوں نہ ہمیں اپنے کچھ نوادرات سناؤ ۔عامر شاعر تھے ۔ سواری سے اترے اور قوم کی حدی خوانی کرنے لگے۔ اشعار یہ تھے:
اللہم لولا أنت ما اہتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا
فاغفر فداء لک ما اتقینا وثبت الأقدام إن لاقینا
وألقین سکینۃ علینا إنا إذا صیح بنا أبینا
وبالصیاح عولوا علینا
’’اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۔ ہم تجھ پر قربان ! تو ہمیں بخش دے۔ جب تک ہم تقویٰ اختیار کریں۔ اور اگر ہم ٹکرائیں تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب ہمیں للکارا جاتا ہے تو ہم اکڑجاتے ہیں، اور للکار میں ہم پر لوگوں نے اعتماد کیا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون حدی خوان ہے ؟ لوگوں نے کہا: عامر بن اکوع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اس پر رحم کرے۔ قوم کے ایک آدمی نے کہا : اب تو (ان کی شہادت ) واجب ہوگئی۔ آپ نے ان کے وجود سے ہمیں بہرہ ورکیوں نہ فرمایا۔[1]
صحابہ کرام کو معلوم تھا کہ( جنگ کے موقع پر )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انسان کے لیے خصوصیت سے دعائے مغفرت کریں تو وہ شہید ہوجاتا ہے۔[2]اور یہی واقعہ جنگِ خیبر میں (حضرت عامر کے ساتھ ) پیش آیا۔ (اسی لیے
انہوں نے یہ عرض کی تھی کہ کیوں نہ ان کے لیے درازیٔ عمر کی دعا کی گئی کہ ان کے وجود سے ہم مزید بہرہ ور ہوتے)
2۔ خیبر کے بالکل قریب وادی ٔ صہباء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر توشے منگوائے تو صرف ستو لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سانا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور صحابہ نے بھی کھایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے لیے اُٹھے تو صرف کلی کی۔ صحابہ نے بھی کلی کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اوروضو نہیں فرمایا۔[3] (پچھلے ہی وضو پر اکتفا کیا۔ )پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا فرمائی۔[4]
مسلمانوں نے آخری رات جس کی صبح جنگ شروع ہوئی خیبر کے قریب گذاری لیکن یہودیو ں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ جب رات کے وقت کسی قوم کے پاس پہنچتے تو صبح ہوئے بغیر ان کے قریب نہ جاتے۔ چنانچہ اس رات جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلس (اندھیرے ) میں فجر کی نماز ادا فرمائی۔ اس کے بعد مسلمان سوار ہوکر خیبر کی طرف بڑھے۔ ادھر اہل خیبر بے خبری میں اپنے پھاوڑے اور کھانچی وغیرہ لے کر اپنی کھیتی باڑی کے لیے نکلے تو اچانک لشکر دیکھ کر چیختے ہوئے شہر کی طرف بھاگے کہ اللہ کی قسم! محمد لشکر سمیت آگئے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ منظر دیکھ کر ) فرمایا:اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوا۔ اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترپڑتے ہیں تو ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بُری ہوجاتی ہے۔[5]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے پڑاؤ کے لیے ایک جگہ کا انتخاب فرمایا۔ اس پر حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا یارسول اللہ ! یہ بتلایئے کہ اس مقام پر اللہ نے آپ کو پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا ہے یایہ محض آپ کی جنگی تدبیر اور رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں یہ محض ایک رائے اور تدبیر ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ مقام قلعہ ٔنطاۃ سے بہت ہی قریب ہے اور خیبر کے سارے جنگ جو افراد اسی قلعے میں ہیں۔ انہیں ہمارے حالات کا پورا پورا علم رہے گا اور ہمیں ان کے حالات کی خبر نہ ہوگی۔ ان کے تیر ہم تک پہنچ جائیں گے۔ اور ہمارے تیر ان تک نہ پہنچ سکیں گے۔ ہم ان کے شبخون سے بھی محفوظ نہ رہیں گے۔ پھر یہ مقام کھجوروں کے درمیا ن ہے۔ پستی میں واقع ہے۔ اور یہاں کی زمین بھی وبائی ہے۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ کسی ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے کا حکم فرمائیں جو ان مفاسد سے خالی ہو۔ اور ہم اسی جگہ منتقل ہوکر پڑاؤ ڈالیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے جورائے دی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد آپ دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔
نیز جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ شہر دکھائی پڑنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔ لشکر ٹھہر گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی :
(( اللہم رب السماوات السبع وما أظللن، ورب الأرضین السبع وما أقللن، ورب الشیاطین وما أضللن فإنا نسألک خیر ہذہ القریۃ وخیر أہلہا وخیر ما فیہا، ونعوذ بک من شر ہذہ القریۃ وشر أہلہا وشر ما فیہا ))
’’اے اللہ ! ساتوں آسما ن ، اور جن پروہ سایہ فگن ہیں ، ان کے پروردگار ! اور ساتوں زمین ، اور جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے پروردگار ! اور شیاطین ، اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ، ان کے پروردگار! ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی ، اس کے باشندوں کی بھلائی اور اس میں جو کچھ ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں۔ اور اس بستی کے شر سے ، اس کے باشندوں کے شر سے ، اور اس میں جو کچھ ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔‘‘
(اس کےبعد فرمایا: چلو ) اللہ کے نام سے آگے بڑھو۔[1]
جنگ کی تیاری اور خیبر کے قلعے:
جس رات خیبر کی حدود میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے فرمایا : میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اور جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ صبح ہوئی تو صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہر ایک یہی آرزو باندھے اور آس لگائے تھا کہ جھنڈا اسے مل جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ صحابہ نے کہا: یارسول اللہ ! ان کی تو آنکھ آئی ہوئی ہے۔[2] فرمایا : انہیں بلالاؤ۔ وہ لائے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب ِ دہن لگایا اور دعا فرمائی۔ وہ شفایاب ہوگئے، گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ پھر انہیں جھنڈا عطافرمایا۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں ان سے اس وقت تک لڑوں کہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا : اطمینان سے جاؤ یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو۔ پھر انہیں اسلام کی دعوت دو۔ اور اسلام میں اللہ کے جو حقوق ان پر واجب ہوتے ہیں ان سے آگاہ کرو۔ واللہ تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔[1]
خیبر کی آبادی دو منطقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک منطقے میں حسب ذیل پانچ قلعے تھے:
1۔ حصن ناعم 2۔ حصن صعب بن معاذ
3۔ حصن قلعہ زبیر 4۔ حصن ابی
5۔ حصن نزار
ان میں سے مشہور تین قلعوں پر مشتمل علاقہ نطاۃ کہلاتا تھا۔ اور بقیہ دوقلعوں پر مشتمل علاقہ شق کے نام سے مشہور تھا۔ خیبر کی آبادی کا دوسرا منطقہ کَتیبَہ کہلاتا تھا۔ اس میں صرف تین قلعے تھے :
1۔ حصن قموص (یہ قبیلہ بنو نضیر کے خاندان ابو الحقیق کا قلعہ تھا۔ )
2۔حصن وطیح 3۔حصن سلالم
ان آٹھ قلعوں کے علاوہ خیبر میں مزید قلعے اور گڑھیاں بھی تھیں، مگر وہ چھوٹی تھیں اور قوت وحفاظت میں ان قلعوں کے ہم پلہ نہ تھیں۔
جہاں تک جنگ کا تعلق ہے تو وہ صرف پہلے منطقے میں ہوئی۔ دوسرے منطقے کے تینوں قلعے لڑنیوالوں کی کثرت کے باوجود جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کے حوالے کردیے گئے۔
معرکے کا آغاز اور قلعہ ناعم کی فتح :
بہرحال یہود نے جب لشکر دیکھا تو سیدھے شہر میں بھاگے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ اور یہ بالکل فطری بات تھی کہ جنگ گے لیے تیارہوجائیں مسلمانوں نے سب سے پہلے قلعہ ناعم پر حملہ کیا۔ کیونکہ یہ قلعہ اپنے محلِ وقوع کی نزاکت اور اسٹراٹیجی کے لحاظ سے یہود کی پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور یہی قلعہ مَرْحب نامی اس شہ زور اور جانبازیہودی کا قلعہ تھا جسے ایک ہزار مردوں کے برابرمانا جاتا تھا۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی فوج لے کر اس قلعے کے سامنے پہنچے اور یہود کو اسلام کی دعوت دی۔ تو انہوں نے یہ دعوت مسترد کردی۔ اور اپنے بادشاہ مرحب کی کمان میں مسلمانوں کے مد مقابل آکھڑے ہوئے۔ میدان جنگ میں اتر کر پہلے مرحب نے دعوتِ مبارزت دی جس کی کیفیت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے یوں بیان کی ہے کہ جب ہم لوگ خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر نازوتکبر کے ساتھ اَٹْھلاتا اور یہ کہتا ہو نمودار ہوا :
قد علمت خیبر أنی مرحب شاکی السلاح بطل مجرب
إذا الحروب أقبلت تلہب
خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش ، بہادر اور تجربہ کار ! جب جنگ وپیکار شعلہ زن ہو۔
اس کے مقابل میرے چچا عامر نمودار ہوئے اور فرمایا:
قد علمت خیبر أنی عامر شاکی السلاح بطل مغامر
’’خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہو ں۔ ہتھیار پوش ، شہ زور اور جنگجو۔ ‘‘
پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار میرے چچا عامر کے ڈھال میں جاچبھی۔ اور عامر نے اسے نیچے سے مارنا چاہا۔ لیکن ان کی تلوار چھوٹی تھی۔ انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وار کیا تو تلوار کا سرا پلٹ کر ان کے گھٹنے پر آلگا۔ اور بالآخر اسی زخم سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں اکٹھا کرکے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے دوہرا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے۔ کم ہی ان جیسا کوئی عرب رُوئے زمین پر چلا ہوگا۔[1]
بہرحال حضرت عامر کے زخمی ہوجانے کے بعد مرحب کے مقابلے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے:
أنا الذي سمتني أمي حیدرہ کلیث غابات کریہ المنظرہ
أوفیہم بالصاع کیل السندرہ
’’میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر ( شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک، میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔‘‘
اس کے بعد مرحب کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کے ہاتھوں فتح حاصل ہوئی۔[2]
جنگ کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ یہود کے قلعہ کے قریب پہنچے تو ایک یہودی نے قلعہ کی چوٹی سے جھانک کرکہا : تم کون ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ یہودی نے کہا: اس کتاب کی قسم جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی ! تم لوگ بلند ہو ئے۔ اس کے بعد مرحب کا بھائی یاسر یہ کہتے ہوئے نکلا کہ کون ہے جو میرا مقابلہ کرے گا۔ اس کے اس چیلنج پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ میدان اترے۔ اس پر ان کی ماں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : یارسول اللہ ! کیا میرا بیٹا قتل کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا:نہیں ! بلکہ تمہارا بیٹا اسے قتل کرے گا۔ چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے یاسر کو قتل کردیا۔
اس کے بعد حصن ناعم کے پاس زور دار جنگ ہوئی، جس میں کئی سربرآوردہ یہودی مارے گئے۔ اور بقیہ یہود میں تابِ مقاومت نہ رہی۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کا حملہ نہ روک سکے۔ بعض مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ کئی دن جاری رہی اور اس میں مسلمانوں کو شدید مقاومت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم یہود، مسلمانوں کو زیر کرنے سے مایوس ہوچکے تھے۔ اس لیے چپکے چپکے اس قلعے سے منتقل ہوکر قلعہ صعب میں چلے گئے اور مسلمانو ں نے قلعہ ناعم پر قبضہ کرلیا۔
قلعہ صعب بن معاذ کی فتح :
قلعہ ناعم کے بعد ، قلعہ صعب قوت وحفاظت کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑااور مضبوط قلعہ تھا۔ مسلمانوں نے حضرت حُباب بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ کی کمان میں اس قلعہ پر حملہ کیا اور تین روز تک اسے گھیرے میں لیے رکھا۔ تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قلعہ کی فتح کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اسلم کی شاخ بنوسہم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم لوگ چور ہوچکے ہیں ____اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : یا اللہ ! تجھے ان کا حال معلوم ہے، تو جانتا ہے کہ ان کے اندر قوت نہیں اور میرے پاس بھی کچھ نہیں کہ میں انہیں دوں۔ لہٰذا انہیں یہود کے ایسے قلعے کی فتح سے سرفروز فرماجو سب سے زیادہ کار آمد ہو۔ اور جہاں سب سے زیادہ خوراک اور چربی دستیاب ہو۔ اس کے بعد لوگوں نے حملہ کیا۔ اور اللہ عزوجل نے قلعہ صعب بن معاذ کی فتح عطافرمائی۔ خیبر میں کوئی ایسا قلعہ نہ تھا جہاں اس قلعے سے زیادہ خوراک اور چربی رہی ہو۔[1]
اور جب دعا فرمانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس قلعے پر حملے کی دعوت دی تو حملہ کرنے میں بنواسلم ہی پیش پیش تھے۔ یہاں بھی قلعے کے سامنے مبارزت اور مار کاٹ ہوئی۔ پھر اسی روز سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہوگیا۔ اور مسلمانوں نے اس میں بعض منجنیق اور دبابے[2] بھی پائے۔
ابن اسحاق کی اس روایت میں جس شدید بھوک کا تذکرہ کیا گیا ہے اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ لوگوں نے (فتح حاصل ہوتے ہی) گدھے ذبح کردیے۔ اور چولہوں پر ہنڈیاں چڑھادیں لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرمادیا۔
قلعہ زبیر کی فتح:
قلعہ ناعم اور قلعہ صعب کی فتح کے بعد یہود ، نطاۃ کے سارے قلعوں سے نکل کر قلعہ زبیر میں جمع ہوگئے۔ یہ ایک محفوظ قلعہ تھا، اور پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔ راستہ اتنا پر پیچ اور مشکل تھا کہ یہاں نہ سواروں کی رسائی ہوسکتی تھی نہ پیادوں کی۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گرد محاصرہ قائم کیا۔ اور تین روز تک محاصرہ کیے پڑے رہے۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر کہا : اے ابو القاسم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک محاصرہ جاری رکھیں تو بھی انہیں کوئی پروا نہ ہوگی۔ البتہ ان کے پینے کاپانی اور چشمے زمین کے نیچے ہیں۔ یہ رات میں نکلتے ہیں پانی پی لیتے ہیں اور لے لیتے ہیں۔ پھر قلعہ میں واپس چلے جاتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگر آپ ان کا پانی بند کردیں تو یہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔ اس اطلاع پر آپ نے ان کا پانی بند کردیا۔ اس کے بعد یہود نے باہر آکر زبردست جنگ کی جس میں کئی مسلمان مارے گئے اور تقریباً دس یہودی بھی کام آئے لیکن قلعہ فتح ہوگیا۔
قلعہ ابی کی فتح:
قلعہ زبیر سے شکست کھانے کے بعد یہود ، حصنِ ابی میں قلعہ بند ہوگئے۔ مسلمانوں نے اس کا بھی محاصرہ کرلیا۔ اب کی بار دوشہ زور اور جانباز یہودی یکے بعد دیگرے دعوت ِ مبارزت دیتے ہوئے میدان میں اترے۔ اور دونوں ہی مسلمان جانبازوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ دوسرے یہودی کے قاتل سُر خ پٹی والے مشہور جانفروش حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ دوسرے یہودی کو قتل کرکے نہایت تیزی سے قلعے میں جاگھسے۔ اور ان کے ساتھ ہی اسلامی لشکر بھی قلعے میں جاگھسا۔ قلعے کے اندر کچھ دیر تک تو زوردار جنگ ہوئی لیکن اس کے بعد یہودیوں نے قلعے سے کھسکنا شروع کردیا۔ اور بالآخر سب کے سب بھاگ کر قلعہ نزار میں پہنچ گئے ، جو خیبر کے نصف اوّل (یعنی پہلے منطقے ) کا آخری قلعہ تھا۔
قلعہ نزار کی فتح :
یہ قلعہ علاقے کا سب سے مضبوط قلعہ تھا اور یہود کو تقریباً یقین تھا کہ مسلمان اپنی انتہائی کوشش صرف کردینے کے باوجود اس قلعہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس قلعے میں انہوں نے عورتوں اور بچوں سمیت قیام کیا جبکہ سابقہ چار قلعوں میں عورتوں اور بچوں کو نہیں رکھا گیا تھا۔
مسلمانوں نے اس قلعے کا سختی سے محاصرہ کیا۔ اور یہود پر سخت دباؤ ڈالا لیکن قلعہ چونکہ ایک بلند اور محفوظ پہاڑی پر واقع تھا اس لیے اس میں داخل ہونے کی کوئی صورت بن نہیں پڑرہی تھی۔ ادھر یہود قلعے سے باہر نکل کر مسلمانوں سے ٹکرانے کی جرأت نہیں کر رہے تھے۔ البتہ تیر برسابرسا کر اور پتھر پھینک پھینک کر سخت مقابلہ کررہے تھے۔
جب اس قلعہ (نزار) کی فتح مسلمانوں کے لیے زیادہ دشوار محسوس ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منجنیق کے آلات نصب کرنے کا حکم فرمایا۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے چند گولے پھینکے بھی جس سے قلعہ کی دیواروں میں شگاف پڑگیا۔ اور مسلمان اندر گھس گئے۔ اس کے بعد قلعے کے اندر سخت جنگ ہوئی۔ اور یہود نے فاش اور بدترین شکست کھائی۔ کیونکہ وہ بقیہ قلعوں کی طرح اس قلعے سے چپکے چپکے کھسک کر نہ نکل سکے بلکہ اس طرح بے محابا بھاگے کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی ساتھ نہ لے جاس کے اور انہیں مسلمانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔
اس مضبوط قلعے کی فتح کے بعد خیبر کا نصف اول یعنی نطاۃ اور شق کا علاقہ فتح ہوگیا۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے کچھ مزید قلعے بھی تھے۔ لیکن اس قلعے کے فتح ہوتے ہی یہودیوں نے ان باقی ماندہ قلعوں کو بھی خالی کردیا۔ اور شہر خیبر کے دوسرے منطقے یعنی کتیبہ کی طرف بھاگ گئے۔
خیبر کے نصف ثانی کی فتح:
نطاۃ اور شق کا علاقہ فتح ہوچکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتیبہ ،و طیح اور سلالم کے علاقے کا رُخ کیا۔ سلالم بنو نضیر کے ایک مشہور یہودی ابو الحقیق کا قلعہ تھا۔ ادھر نطاۃ اور شق کے علاقے سے شکست کھا کر بھاگنے والے سارے یہودی بھی یہیں پہنچے تھے۔ اور نہایت ٹھوس قلعہ بندی کرلی تھی۔
اہل مغازی کے درمیان اختلاف ہے کہ یہاں کے تینوں قلعوں میں سے کسی قلعے پر جنگ ہوئی یا نہیں ؟ ابن اسحاق کے بیان میں یہ صراحت ہے کہ قلعہ قموص کو فتح کرنے کے لیے جنگ لڑی گئی۔ بلکہ اس کے سیاق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قلعہ محض جنگ کے ذریعے فتح کیاگیا اور یہودیوں کی طرف سے خودسپردگی کے لیے یہاں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔[1]
لیکن واقدی نے دوٹوک لفظوں میں صراحت کی ہے کہ اس علاقے کے تینوں قلعے بات چیت کے ذریعے مسلمانوں کے حوالے کیے گئے۔ ممکن ہے قلعہ قموص کی حوالگی کے لیے کسی قدر جنگ کے بعد گفت وشنید ہوئی ہو۔ البتہ باقی دونوں قلعے کسی جنگ کے بغیر مسلمانوں کے حوالے کیے گئے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس علاقے ۔ کتیبہ ۔ میں تشریف لائے تو وہاں کے باشندوں کا سختی سے محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ چودہ روز جاری رہا۔ یہود اپنے قلعوں سے نکل ہی نہیں رہے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصد فرمایا کہ منجنیق نصب فرمائیں۔ جب یہود کو تباہی کا یقین ہوگیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کے لیے سلسلہ ٔ جنبانی کی۔
صلح کی بات چیت :
پہلے ابن ابی الحقیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بات چیت کرسکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! اور جب یہ جواب ملا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر اس شرط پر صلح کرلی کہ قلعے میں جو فوج ہے اس کی جان بخشی کردی جائے گی۔ اور ان کے بال بچے انہیں کے پاس رہیں گے۔ (یعنی انہیں لونڈی اور غلام نہیں بنایا جائے گا ) بلکہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر خیبر کی سر زمین سے نکل جائیں گے۔ اور اپنے اموال ، باغات ، زمینیں ، سونے ، چاندی، گھوڑے ، زرہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردیں گے۔ صرف وہ کپڑا لے جائیں گے جو انسان کی پشت پر ہوگا۔ [1]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اوراگر تم لوگوں نے مجھ سے کچھ چھپایا تو پھر اللہ اور اس کے رسول برئ الذمہ ہوں گے۔ یہود نے یہ شرط منظور کرلی اور مصالحت ہوگئی۔[2] اس مصالحت کے بعد تینوں قلعے مسلمانوں کے حوالے کردیے گئے۔ اور اس طرح خیبر کی فتح مکمل ہوگئی۔
ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کی بد عہدی اور ان کا قتل :
اس معاہدے کے علی الرغم ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں نے بہت سا مال غائب کردیا۔ ایک کھال غائب کردی جس میں مال اور حیی بن اخطب کے زیورات تھے۔ اسے حیی بن اخطب مدینہ سے بنو نضیر کی جلاوطنی کے وقت اپنے ہمراہ لایا تھا۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کنانہ بن ابی الحقیق لایا گیا۔ اس کے پاس بنو نضیر کاخزانہ تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ اسے خزانے کی جگہ کے بارے میں کوئی علم ہے۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر بتایا کہ میں کنانہ کو روزانہ اس ویرانے کا چکر لگاتے ہوئے دیکھتا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنانہ سے فرمایا : یہ بتاؤ کہ اگر یہ خزانہ ہم نے تمہارے پاس سے برآمد کر لیا تو پھر تو ہم تمہیں قتل کردیں گے نا؟ اس نے کہا: جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویرانہ کھودنے کا حکم دیا۔ اور ا س سے کچھ خزانہ برآمد ہوا۔ پھر باقی ماندہ خزانہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو اس نے پھر ادائیگی سے انکار کردیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا اور فرمایا: اسے سزادو، یہاں تک کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کا سب ہمیں حاصل ہوجائے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر چقماق کی ٹھوکر یں ماریں یہاں تک کہ اس کی جان پر بن آئی۔ پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا۔ اور انہوں نے محمود بن مسلمہ کے بدلے اس کی گردن ماردی (محمود سایہ حاصل کر نے کے لیے قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے کہ اس شخص نے ان پر چکی کا پاٹ گراکر انہیں قتل کردیا تھا ) ابن قیم کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کرادیا تھا۔ اور ان دونوں کے خلاف مال چھپانے کی گواہی کنانہ کے چچیرے بھائی نے دی تھی۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیی بن اخطب کی صاحبزادی صفیہ کو قیدی بنالیا۔ وہ کنانہ بن ابی الحقیق کے تحت تھیں۔ اور ابھی دلہن تھیں، انہیں حال ہی میں رخصت کیا گیا تھا۔
اموال غنیمت کی تقسیم:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خیبر سے جلاوطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا۔ اور معاہدہ میں یہی طے بھی ہوا تھا۔ مگر یہود نے کہا : اے محمد ! ہمیں اسی سرزمین میں رہنے دیجیے۔ ہم اس کی دیکھ ریکھ کریں گے۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے زیادہ اس کی معلومات ہیں۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس اتنے غلام نہ تھے جو اس زمین کی دیکھ ریکھ اور جوتنے بونے کاکام کرسکتے اور نہ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی فرصت تھی کہ یہ کام سر انجام دے سکتے۔ اس لیے آپ نے خیبر کی زمین اس شرط پر یہود کے حوالے کردی کہ ساری کھیتی اور تمام پھلوں کی پیداوار کا آدھا یہود کو دیا جائے گا۔ اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی ہوگی اس پر برقرار رکھیں گے (اور جب چاہیں گے جلاوطن کردیں گے ) اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگایا کرتے تھے۔
خیبر کی تقسیم اس طرح کی گئی کہ اسے ۳۶ حصوں مین بانٹ دیا گیا۔ ہر حصہ ایک سو حصوں کا جامع تھا۔ اس طرح کل تین ہزار چھ سو (۳۶۰۰ ) حصے ہوئے۔ اس میں سے نصف، یعنی اٹھارہ سو حصے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے تھے۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صرف ایک ہی حصہ تھا۔ باقی یعنی اٹھارہ سو حصوں پر مشتمل دوسرا نصف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات و حوادث کے لیے الگ کر لیا تھا۔ اٹھارہ سو حصوں پر خیبر کی تقسیم اس لیے کی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل حدیبیہ کے لیے ایک عطیہ تھا۔ جو موجود تھے ان کے لیے بھی اور جو موجود نہ تھے ان کے لیے بھی۔ اور اہل حدیبیہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ جو خیبر آتے ہوئے اپنے ساتھ دو سو گھوڑے لائے تھے۔ چونکہ سوار کے علاوہ خود گھوڑے کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اور گھوڑے کا حصہ ڈبل، یعنی دو فوجیوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس لیے خیبر کو اٹھارہ سو حصوں پر تقسیم کیا گیا تو دوسو شہ سواروں کو تین تین حصے کے حساب سے چھ سو ملے تھے۔ اور بارہ سو پیدل فوج کو ایک ایک حصے کے حساب سے بارہ سو حصے ملے۔[1]
خیبر کے اموال غنیمت کی کثرت کا اندازہ صحیح بخاری میں مروی ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا’’ ہم لوگ آسودہ نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے خیبر فتح کیا۔ ‘‘ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا : اب ہمیں پیٹ بھر کر کھجور ملے گی[1] نیز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کردیے جو انصار نے امداد کے طور پر انہیں دے رکھے تھے۔ کیونکہ اب ان کے لیے خیبر میں مال اور کھجور کے درخت ہوچکے تھے۔[2]
حضرت جعفر بن ابی طالب اور اشعری صحابہ کی آمد:
اسی غزوے میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ خدمت نبویؐ میں حاضر ہوئے ان کے ساتھ اشعری مسلمان یعنی حضرت ابو موسیٰ اور ان کے رفقاء بھی تھے۔ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یمن میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا علم ہوا تو ہم لوگ یعنی میں اور میرے دوبھائی اپنی قوم کے پچاس آدمیوں سمیت اپنے وطن سے ہجرت کر نے کے لیے ایک کشتی پر سوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہوئے۔ لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں پھینک دیا۔ وہاں حضرت جعفر اور ان کے رفقاء سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے۔ اور یہیں ٹھہر ے رہنے کا حکم دیا ہے اور آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ ٹھہر جایئے۔ چنانچہ ہم لوگ بھی ان کے ساتھ ٹھہر گئے۔ اور خدمت نبوی ؐ میں اس وقت پہنچ سکے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرچکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا بھی حصہ لگایا لیکن ہمارے علاوہ کسی بھی شخص کا جو فتح خیبر میں موجود نہ تھا ،کوئی حصہ نہیں لگایا۔ صرف شرکاء ِ جنگ ہی کا حصہ لگایا۔ البتہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کے ساتھ ہماری کشتی والوں کا بھی حصہ لگایا۔ اور ان کے لیے بھی مال غنیمت تقسیم کیا۔[3]
اور جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استقبال کیا۔ اور انھیں چوم کر فرمایا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ مجھے کس بات کی خوشی زیادہ ہے۔ خیبر کے فتح کی یاجعفر کی آمد کی۔[4]
یاد رہے کہ ان لوگوں کو بلانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عَمرو بن اُمیہ ضمری کو نجاشی کے پاس بھیجا تھا اور اس سے کہلوایا تھا کہ وہ ان لوگوں کو آپ کے پا س روانہ کرے۔ چنانچہ نجاشی نے دوکشتیوں پر سوار کرکے انہیں روانہ کردیا۔ یہ کل سولہ آدمی تھے اور ان کے ساتھ ان کے باقی ماندہ بچے اور عورتیں بھی تھیں۔ بقیہ لوگ اس سے پہلے مدینہ آچکے تھے۔[5]
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی:
ہم بتاچکے ہیں کہ جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا شوہر کنانہ بن ابی الحقیق اپنی بد عہدی کے سبب قتل کردیا گیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قیدی عورتوں میں شامل کرلی گئیں۔ اس کے بعد جب یہ قیدی عورتیں جمع کی گئیں تو حضرت دِحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکرعرض کیا : اے اللہ کے نبی ! مجھے قیدی عورتوں میں سے ایک لونڈی دے دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو۔ انہوں نے جاکر حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو منتخب کرلیا۔ اس پر ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کی سیّدہ صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا حالانکہ وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایانِ شان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دِحیہ کو صفیہ سمیت بلاؤ۔ حضرت دِحیہ ان کو ساتھ لیے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر حضرت دِحیہ سے فرمایا کہ قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لے لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ پر اسلام پیش کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر کے ان سے شادی کرلی۔ اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ مدینہ واپسی میں سدّ ِ صہباء پہنچ کر وہ حلال ہوگئیں۔ اس کے بعد ام سُلیم رضی اللہ عنہا نے انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آراستہ کیا۔ اور رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رخصت کردیا۔ آپ نے دولہے کی حیثیت سے ان کے ہمراہ صبح کی۔ اور کھجور ، گھی اور ستو سان کر ولیمہ کھلایا۔ اور راستہ میں تین روز شبہائے عروسی کے طور پر ان کے پاس قیام فرمایا۔[1] اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر ہرا نشان دیکھا۔ دریافت فرمایا: یہ کیا ہے ؟ کہنے لگیں : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیبر آنے سے پہلے میں نے خواب دیکھا تھا کہ چاند اپنی جگہ سے ٹوٹ کر میری آغوش میں آگرا ہے۔ واللہ ! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے کا کوئی تصور بھی نہ تھا لیکن میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا تو اس نے میرے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا : یہ بادشاہ جو مدینہ میں ہے تم اس کی آرزو کررہی ہو۔[2]
زہر آلود بکری کا واقعہ :
خیبر کی فتح کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن اور یکسوہوچکے تو سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ کے پاس بھُنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا۔ اس نے پوچھ رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ن ساعضو زیادہ پسند کرتے ہیں ؟ اور اسے بتایا گیا تھا کہ دستہ ، اس لیے اس نے دستے میں خوب زہر ملادیا تھا۔ اور اس کے بعد بقیہ حصہ بھی زہر آلود کردیا تھا۔ پھر اسے لے کروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا تو آپ نے دستہ اُٹھاکر اس کاایک ٹکڑا چبایا۔ لیکن نگلنے کے بجائے تھوک دیا۔ پھر فرمایا کہ یہ ہڈی مجھے بتلارہی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب کو بلایا تو اس نے اقرار کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا : میں نے سوچا کہ اگر یہ بادشاہ ہے تو ہمیں اس سے راحت مل جائے گی۔ اور اگر نبی ہے تو اسے خبر دے دی جائے گی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کردیا۔
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے ایک لقمہ نگل لیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
روایات میں اختلاف ہے کہ آپ نے اس عورت کو معاف کردیا تھایاقتل کردیا تھا۔ تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلے تو آپ نے معاف کردیا لیکن جب حضرت بشر رضی اللہ عنہ کی موت واقع ہوگئی تو پھر قصاص کے طور پر قتل کردیا۔[1]
جنگ ِ خیبر میں فریقین کے مقتولین:
خیبر کے مختلف معرکوں میں کل مسلمان جو شہید ہوئے ان کی تعداد سولہ ہے۔ چار قریش سے ، ایک قبیلہ اشجع سے ، ایک قبیلہ اسلم سے، ایک اہل خیبر سے ، اور بقیہ انصار سے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ ان معرکوں میں کل ۱۸ مسلمان شہید ہوئے۔ علامہ منصور پوری نے ۱۹ لکھا ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں: ’’اہل سیر نے شہدائے خیبر کی تعداد پندرہ لکھی ہے۔ مجھے تلاش کرتے ہوئے ۲۳ نام ملے ____زنیف بن وائلہ کا نام صرف واقدی نے اور زنیف بن حبیب کا نام صرف طبری نے لیا ہے۔ بشر بن براء بن معرور کا انتقال خاتمہ جنگ کے بعد زہر آلود گوشت کھانے سے ہوا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زینب یہودیہ نے بھیجا تھا۔ بشر بن عبد المنذر کے بارے میں دو روایا ت ہیں۔ [۱] بدر میں شہید ہوئے۔ [۲] جنگ خیبر میں شہید ہوئے۔ میرے نزدیک روایتِ اوّل قوی ہے۔[2]
دوسرے فریق، یعنی یہود کے مقتولین کی تعداد ۹۳ ہے۔
فدک:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرپہنچ کر مُحیّصَہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے فدک کے یہود کے پاس بھیج دیا تھا۔ لیکن اہل ِ فدک نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی۔ مگر جب اللہ نے خیبر فتح فرمادیاتو ان کے دلوں میں رعب پڑگیا۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیج کر اہل ِ خیبر کے معاملہ کے مطابق فدک کی نصف پیداواردینے کے شرائط پر مصالحت کی پیشکش کی۔ آپ نے پیشکش قبول کرلی اور اس طرح فدک کی سرزمین خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوئی کیونکہ مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ [1] (یعنی اسے بزور شمشیر فتح نہیں کیا تھا) فد ک کا موجودہ نام حائط ہے جو حائل کے منطقہ میں واقع ہے۔ اور مدینہ سے کم وبیش ،ڈھائی سو کلو میٹر دور ہے۔
وادیٔ القریٰ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے فارغ ہوئے تو وادی القریٰ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی یہود کی ایک جماعت تھی۔ اور ان کے ساتھ عرب کی ایک جماعت بھی شامل ہوگئی تھی۔
جب مسلمان وہاں اترے تو یہود نے تیروں سے استقبال کیا۔ وہ پہلے سے صف بندی کیے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام مارا گیا۔ لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت مبارک ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے جنگ خیبر میں مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے جو چادر چرائی تھی وہ آگ بن کر اس پر بھڑک رہی ہے۔ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک تسمہ یادوتسمہ آگ کا ہے۔[2]
اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ترتیب اور صف بندی کی۔ پورے لشکر کا عَلَم حضرت سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ ایک پرچم حُباب رضی اللہ عنہ بن مُنذر کو دیا اور تیسرا پر چم عُبادہ بن بشر کو دیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے قبول نہ کیا۔ اور ان کا ایک آدمی میدانِ جنگ میں اترا۔ ادھر سے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے۔ اور اس کاکام تمام کردیا۔ پھر دوسرا آدمی نکلا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے بھی قتل کردیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی میدان میں آیا۔ اس کے مقابلے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نکلے اور اسے قتل کردیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ ان کے گیارہ آدمی مارے گئے، جب ایک آدمی مارا جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باقی یہودیو ں کو اسلام کی دعوت دیتے۔
اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نمازپڑھاتے اور پھر پلٹ کر یہود کے بالمقابل چلے جاتے اور انہیں اسلام ، اللہ اور اس کے رسول ؐ کی دعوت دیتے۔ اس طرح لڑتے لڑتے شام ہوگئی۔ دوسرے دن صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لے گئے۔ لیکن ابھی سورج نیزہ برابر بھی بلند نہ ہوا ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ تھا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردیا۔ یعنی آپ نے بزورِ قوت فتح حاصل کی اور اللہ نے ان کے اموال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت میں دیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت سارا سازوسامان ہاتھ آیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیٔ القریٰ میں چار روز قیام فرمایا۔ اور جو مال ِ غنیمت ہاتھ آیا اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تقسیم فرما دیا۔ البتہ زمین اور کھجور کے باغات کو یہود کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ اوراس کے متعلق ان سے بھی (اہل ِ خیبر جیسا) معاملہ طے کر لیا۔[1]
تَیْمَاء:
تیماء کے یہودیوں کو جب خیبر ، فدک اور وادی القری کے باشندوں کے سپر انداز ہونے کی اطلاع ملی تو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی کا مظاہر کرنے کے بجائے از خود آدمی بھیج کر صلح کی پیش کش کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیشکش قبول فرمالی۔ اور یہ یہود اپنے اموال کے اندر مقیم رہے۔[2]اس کے متعلق آپ نے ایک نوشتہ بھی تحریر فرمادیا جو یہ تھا :
’’یہ تحریر ہے محمد رسول اللہ کی طرف سے بنو عادیا کے لیے۔ ان کے لیے ذمہ ہے۔ اور ان پر جزیہ ہے ان پر نہ زیادتی ہوگی نہ انہیں جلاوطن کیاجائے گا۔ رات معاون ہوگی اور دن پختگی بخش ( یعنی یہ معاہدہ دائمی ہوگا ) اور یہ تحریر خالد بن سعید نے لکھی۔‘‘[3]
مدینہ کو واپسی:
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ واپسی کی راہ لی۔ واپسی کے دوران لوگ ایک وادی کے قریب پہنچے تو بلند آواز سے اللّٰہ اکبر اللّٰہ أکبر لا إلٰہ إلا اللّٰہ کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے نفسوں کے ساتھ سہولت برتو تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ اس ہستی کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور قریب ہے۔[4]
نیز اثنائے راہ میں ایک باررات بھر سفر جاری رکھنے کے بعد آپ نے اخیررات میں راستے میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالا اور حضرت بلال کویہ تاکید کرکے سورہے کہ ہمار ے لیے رات پر نظر رکھنا (یعنی صبح ہوتے ہی نماز کے لیے بیدار کردینا) لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی بھی آنکھ لگ گئی۔ وہ (پورب کی طرف منہ کرکے ) اپنی سواری پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ سو گئے پھر کوئی بھی بیدار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ لوگوں پر دھوپ آگئی۔ اس کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ پھر (لوگوں کو بیدار کیا گیا ) اور آپ اس وادی سے نکل کر کچھ آگے تشریف لے گئے۔ پھر لوگو ں کو فجر کی نماز پڑھائی۔ کہاجاتا ہے کہ یہ واقعہ کسی دوسرے سفر میں پیش آیاتھا۔[5]
خیبر کے معرکوں کی تفصیلات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی یا تو ( ۷ھ کے ) صفر کے اخیر میں ہوئی تھی یا پھر ربیع الاول کے مہینے میں۔
سریہ ابان بن سعید:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارے سپہ سالاروں سے زیادہ اچھی طرح یہ بات جانتے تھے کہ حرام مہینوں کے خاتمے کے بعد مدینہ کو مکمل طور پر خالی چھوڑ دینا تدبر اور دُور اندیشی کے بالکل خلاف ہے۔ درآں حالیکہ مدینہ کے گردوپیش ایسےبدو مقیم ہیں جو لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کے لیے مسلمانوں کی غفلت کے منتظر رہتے ہیں۔ اسی لیے جن ایام میں آپ خیبر تشریف لے گئے تھے، انہی ایام میں آپ نے بدوؤں کو خوف زدہ کرنے کے لیے اَبان بن سعید رضی اللہ عنہ کی کمان میں نجد کی جانب ایک سریہ بھیج دیا تھا۔ اَ بَان بن سعید اپنا فرض ادا کرکے واپس پلٹے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر میں ملاقات ہوئی۔ اس وقت آپ فتح خیبر فرماچکے تھے۔
اغلب یہ ہے کہ یہ سریہ صفر ۷ھ میں بھیجا گیا تھا۔ اس کا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے۔[1]حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مجھے اس سریہ کا حال معلوم نہ ہوسکا۔[2]