الرحیق المختوم

غزوہ فتح مکہ

امام ابن ِ قیم لکھتے ہیں کہ یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے دین کو ، اپنے رسول کو ، اپنے لشکر کو اور اپنے امانت دار گروہ کو عزت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو ، دنیا والوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا ہے۔ کفار ومشرکین کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلایا۔ اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی، اس کی عزت کی طنابیں جوزاء کے شانوں پر تن گئیں۔ اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور روئے زمین کا چہرہ روشنی اور چمک دمک سے جگمگا اٹھا۔[1] اس غزوے کا سبب: صلح حدیبیہ کے ذکر میں ہم یہ بات بتاچکے ہیں کہ اس معاہدے کی ایک دفعہ یہ تھی کہ جوکوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو کوئی قریش کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو قبیلہ جس فریق کے ساتھ شامل ہوگا اس فریق کا ایک حصہ سمجھاجائے گا۔ لہٰذا ایسا کوئی قبیلہ اگر کسی حملے یا زیادتی کا شکار ہوگا تو یہ خود ااس فریق پر حملہ اور زیادتی تصور کی جائے گی۔ اس دفعہ کے تحت بنو خُزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد وپیما ن میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کے عہد وپیمان میں۔ اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہوگئے۔ لیکن چونکہ ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی ، اس لیے جب اسلام کی آمد آمد ہوئی ، اور صلح حدیبیہ ہوگئی ، اور دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہوگئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں۔ چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان ۸ ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنوخزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچادیا۔ حرم پہنچ کر بنو بکر نے کہا : اے نوفل ، اب تو ہم حرم میں داخل ہوگئے۔ تمہارا الٰہ ! ____تمہارا الٰہ ! ____اس کے جواب میں نوفل نے ایک بڑی بات کہی ، بولا: بنو بکر !آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم ! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔ ادھر بنو خزاعہ نے مکہ پہنچ کر بُدَیْل بن وَرْقَاء خُزاعی اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام رافع کے گھروں میں پناہ لی اور عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے کہا : یارب إني ناشد محمدا حلفنا وحلف أبیہ ألا تلدا قد کنتم ولداً وکنا والدا ثمۃ أسلمنا ولم ننزع یدا فانصر ہداک اللّٰه نصراً أیدا وادع عباد اللّٰه یأتوا مددا فیہم رسول اللّٰه قد تجردا أبیض مثل البدر یسمو صعدا إن سیم خسفا وجہہ تربدا في فیلق کالبحر یجری مزبدا إن قریشاً أخلفوک الموعدا ونقضوا میثاقک المؤکدا وجعلوا لی فی کداء رصدا وزعموا أن لست أدعوا أحدا وہم أذل وأقل عددا ہم بیتونا بالوتیر ہجدا وقتلونا رکعاً وسجدا ’’اے پروردگار ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے عہد اور ان کے والد کے قدیم عہد[1]کی دہائی دے رہا ہوں۔ آپ لوگ اولاد تھے اورہم جننے والے۔[2]ھر ہم نے تابعداری اختیار کی اور کبھی دست کش نہ ہوئے۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے ، وہ مدد کو آئیں گے۔ جن میں اللہ کے رسول ہوں گے ہتھیار پوش ، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت۔ اگر ان پر ظلم اور ان کی توہین کی جائے تو چہرہ تمتما اٹھتا ہے۔ آپ ایک ایسے لشکر ِ جرار کے اندر تشریف لائیں گے جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہوگا۔ يقيناً قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑدیا ہے۔ انہوں نے میرے لیے کداء میں گھات لگائی اور یہ سمجھا کہ میں کسی کو (مدد کے لیے ) نہ پکاروں گا۔ حالانکہ وہ بڑے ذلیل اور تعداد میں قلیل ہیں۔ انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا۔‘‘(یعنی ہم مسلمان تھے اور ہمیں قتل کیا گیا۔ ) ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عَمرو بن سالم ! تیری مدد کی گئی۔ اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا۔ آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے۔ اس کے بعد بُدَیْل بن ورقاء خُزاعی کی سرکردگی میں بنو خزاعہ کی ایک جماعت مدینہ آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ کون سے لوگ مارے گئے اور کس طرح قریش نے بنو بکر کی پشتیبانی کی۔ اس کے بعد یہ لوگ مکہ واپس چلے گئے۔ تجدید ِ صلح حدیبیہ کے لیے ابو سفیان مدینہ میں: اس میں شبہ نہیں کہ قریش اور ان کے حلیفوں نے جو کچھ کیا تھا وہ کھلی ہوئی بدعہدی اور صریح پیمان شکنی تھی۔ جس کی کوئی وجہ جواز نہ تھی، اسی لیے خودقریش کو بھی اپنی بدعہدی کا بہت جلداحساس ہوگیا اور انہو ں نے اس کے انجام کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ جس میں طے کیا کہ وہ اپنے سپہ سالار ابو سفیان کو اپنا نمائندہ بناکر تجدیدِ صلح کے لیے مدینہ روانہ کریں۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا کہ قریش اپنی اس عہد شکنی کے بعد اب کیا کرنے والے ہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ’’گویا میں ابو سفیان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عہد کو پھر سے پختہ کرنے اور مدتِ صلح کو بڑھانے کے لیے آگیا ہے ‘‘ ادھر ابو سفیان طے شدہ قرارداد کے مطابق روانہ ہوکر عُسفان پہنچا تو بُدَیل بن ورقاء سے ملاقات ہوئی۔ بُدیل مدینہ سے واپس آرہا تھا۔ ابو سفیان سمجھ گیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوکر آرہا ہے۔ پوچھا : بُدیل ! کہا ں سے آرہے ہو ؟ بُدیل نے کہا : میں خزاعہ کے ہمراہ اس ساحل اور وادی میں گیا ہوا تھا۔ پوچھا : کیا تم محمد ؐ کے پاس نہیں گئے تھے ؟بُدیل نے کہا : نہیں۔ مگر جب بدیل مکہ کی جانب روانہ ہوگیا تو ابو سفیان نے کہا : اگر وہ مدینہ گیا تھا تو وہاں (اپنے اونٹ کو ) گٹھلی کا چارہ کھلایا ہوگا۔ اس لیے ابو سفیان اس جگہ گیا جہاں بُدیل نے اپنے اونٹ بٹھایا تھا اور اس کی مینگنی لے کر توڑی تو اس میں کھجور کی گٹھلی نظر آئی۔ ابو سفیان نے کہا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بُدیل ، محمد ؐ کے پاس گیا تھا۔ بہرحال ابو سفیان مدینہ پہنچا اور اپنی صاحبزادی ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے گھرگیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے بستر لپیٹ دیا۔ ابو سفیان نے کہا : بیٹی ! کیا تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا یا مجھے اس بستر کے لائق نہیں سمجھا ؟ انہوں نے کہا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے اور آپ ناپاک مشرک آدمی ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میرے بعد تمہیں شر پہنچ گیا ہے۔ پھر ابو سفیان وہاں سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے گفتگو کی۔ آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کریں۔ انہوں نے کہا : میں ایسا نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بات کی۔ انہوں نے کہا : بھلا میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے لکڑی کے ٹکڑے کے سوا کچھ دستیاب نہ ہوتو میں اسی کے ذریعے تم لوگوں سے جہاد کروں گا۔ اس کے بعد وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ وہاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو ابھی چھوٹے سے بچے تھے اور سامنے پھدک پھدک کر چل رہے تھے۔ ابوسفیان نے کہا : اے علی ! میرے ساتھ تمہارا سب سے گہرانسبی تعلق ہے۔ میں ایک ضرورت سے آیا ہوں۔ ایسا نہ ہوکہ جس طرح میں نامراد آیا اسی طرح نامراد واپس جاؤں۔ تم میرے لیے محمد ؐ سے سفارش کردو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو سفیان ! تجھ پر افسوس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات کا عزم کرلیا ہے۔ ہم اس بارے میں آپ سے کوئی بات نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوا ، اور بولا: کیا آپ ایسا کرسکتی ہیں کہ اپنے اس بیٹے کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرکے ہمیشہ کے لیے عرب کا سردار ہوجائے ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : واللہ ! میرا یہ بیٹا ا س درجہ کو نہیں پہنچاہے کہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرسکے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے کوئی پناہ دے بھی نہیں سکتا۔ ان کوششوں اور ناکامیوں کے بعد ابو سفیان کی آنکھوں کے سامنے دنیا تاریک ہوگئی۔ اس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سخت گھبراہٹ ، کش مکش اور مایوسی وناامیدی کی حالت میں کہا کہ ابو الحسن ! میں دیکھتا ہوں کہ معاملات سنگین ہوگئے ہیں ، لہٰذامجھے کوئی راستہ بتاؤ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے کوئی کار آمد چیز نہیں جانتا۔ البتہ تم بنوکنانہ کے سردار ہو ، لہٰذا کھڑے ہوکر لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردو۔ اس کے بعد اپنی سرزمین میں واپس چلے جاؤ۔ ابو سفیان نے کہا : کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ میرے لیے کچھ کار آمد ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کار آمد تو نہیں سمجھتا ، لیکن اس کے علاوہ کوئی صورت بھی سمجھ میں نہیں اتی۔ اس کے بعد ابو سفیان نے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ لوگو! میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کررہا ہوں، پھراپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ چلا گیا۔ قریش کے پاس پہنچاتو وہ پوچھنے لگے پیچھے کا کیا حال ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: میں محمدؐ کے پاس گیا۔ بات کی تو واللہ! انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ابو قحافہ کے بیٹے کے پاس گیا تواس کے اندر کوئی بھلائی نہیں پائی۔ اس کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو اسے سب سے کٹر دشمن پایا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو اسے سب سے نرم پایا۔ اس نے مجھے ایک رائے دی اور میں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن پتہ نہیں وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں ؟ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا رائے تھی؟ ابو سفیان نے کہا: وہ رائے یہ تھی کہ میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردوں۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔ قریش نے کہا : تو کیا محمد نے اسے نافذ قرار دیا۔ ابو سفیان نے کہا : نہیں۔ لوگوں نے کہا : تیری تباہی ہو۔ اس شخص (علی) نے تیرے ساتھ محض کھلواڑ کیا۔ ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بن سکی۔ غزوے کی تیاری اور اخفاء کی کوشش: طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد شکنی کی خبر آنے سے تین روز پہلے ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دے دیا تھا کہ آپ کا سازوسامان تیار کر دیں لیکن کسی کو پتہ نہ چلے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو پوچھا : بیٹی ! یہ کیسی تیاری ہے ؟ انہوں نے کہا : واللہ! مجھے نہیں معلوم۔ حضرت ا بو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ بنو اَصْفر یعنی رومیوں سے جنگ کا وقت نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کدھر کا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : واللہ مجھے علم نہیں۔ تیسرے روز علی الصباح عمرو بن سالم خزاعی چالیس سواروں کو لے کر پہنچ گیا اور یا رب إني ناشد محمدا ____الخ والے اشعار کہے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ عہد شکنی کی گئی ہے۔ اس کے بعد بدیل آیا۔ پھر ابو سفیان آیا ، اور لوگوں کو حالات کا ٹھیک ٹھیک علم ہو گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیاری کا حکم دیتے ہوئے بتلایا کہ مکہ چلنا ہے اور ساتھ ہی یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اورپکڑ لے تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر ایک دم جاپہنچیں۔ پھر کمال اخفاء اور رازداری کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع ماہ رمضان ۸ ھ میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی کی قیادت میں آٹھ آدمیوں کا ایک سریہ بطن اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ مقام ذی خشب اور ذی المروہ کے درمیان مدینہ سے ۳۶ عربی میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقصد یہ تھا کہ سمجھنے والا سمجھے کہ آپ اسی علاقے کا رخ کریں گے اور یہی خبریں اِدھر اُدھر پھیلیں۔ لیکن یہ سریہ جب اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گیا تو اسے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ چنانچہ یہ بھی آپ سے جاملا۔[1] ادھر حاطب ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے قریش کو ایک رقعہ لکھ کر یہ اطلاع دے بھیجی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حملہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ رقعہ ایک عورت کو دیا تھا۔ اور اسے قریش تک پہنچانے پر معاوضہ رکھا تھا۔ عورت سر کی چوٹی میں رقعہ چھپا کر روانہ ہوئی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان سے حاطب کی اس حرکت کی خبر دے دی گئی۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی، حضرت مقداد ، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد غنوی کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ روضۂ خاخ پہنچو۔ وہاں ایک ہودج نشین عورت ملے گی۔ جس کے پاس قریش کے نام ایک رقعہ ہوگا۔ یہ حضرات گھوڑوں پر سوار تیزی سے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو عورت موجود تھی۔ اس سے کہا کہ وہ نیچے اُترے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی خط ہے ؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ انہوں نے اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کہا ہے نہ ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ تم یاتو خط نکالو ، یا ہم تمہیں ننگا کردیں گے۔ جب اس نے یہ پختگی دیکھی تو بولی : اچھا منہ پھیرو۔ انہوں نے منہ پھیر ا تو اس نے چوٹی کھول کر خط نکالا اور ان کے حوالے کردیا۔ یہ لوگ خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو اس میں تحریر تھا : (حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے قریش کی جانب ) پھر قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی خبر دی تھی۔ [1]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب کو بلا کر پوچھا کہ حاطب ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے خلاف جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان ہے۔ میں نہ تو مرتد ہوا ہوں اور نہ مجھ میں تبدیلی آئی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں خود قریش کا آدمی نہیں۔ البتہ ان میں چپکا ہوا تھا اور میرے اہل وعیال اور بال بچے وہیں ہیں۔ لیکن قریش سے میری کوئی قرابت نہیں کہ وہ میرے بال بچوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بر خلاف دوسرے لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں جو ان کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے جب مجھے یہ چیز حاصل نہ تھی تو میں نے چاہا کہ ان پر ایک احسان کردوں جس کے عوض وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن ماردوں۔ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی ہے اور یہ منافق ہوگیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دیکھو! یہ جنگِ بدر میں حاضر ہوچکا ہے۔ اور عمر ! تمہیں کیا پتہ ؟ ہوسکتا ہے اللہ نے اہلِ بدر پر نمودار ہوکر کہا ہو تم لوگ جو چاہو کرو ، میں نے تمہیں بخش دیا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔[2] اس طرح اللہ نے جاسوسوں کو پکڑ لیا اور مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کی کوئی خبرقریش تک نہ پہنچ سکی۔ اسلامی لشکر مکہ کی راہ میں: ۱۰ رمضان المبارک ۸ ھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کیا۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے، مدینہ پر ابو رھم غفاری رضی اللہ عنہ کی تقرری ہوئی۔ جحفہ میں یااس سے کچھ اوپر آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب ملے۔ وہ مسلمان ہوکر اپنے بال بچوں سمیت ہجرت کرتے ہوئے تشریف لارہے تھے۔ پھر اَبوَاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث اور پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن اُمیہ ملے۔ آپ نے ان دونوں کو دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ کیونکہ یہ دونوں آپ کو سخت اذیت پہنچایا کرتے اور آپ کی ہجو کیا کرتے تھے۔ یہ صورت دیکھ کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے چچیرے بھائی اور پھوپھی زاد بھائی ہی آپ کے یہاں سب سے بدبخت ہوں۔ ادھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان بن حارث کو سکھا یا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جاؤ ، اور وہی کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا تھا کہ ﴿ قَالُوا تَاللّٰهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ﴾(۱۲ :۹۱)’’اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور يقيناً ہم خطاکار تھے۔‘‘کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند نہیں کریں گے کہ کسی اور کا جواب آپ سے عمدہ رہا ہو۔ چنانچہ ابو سفیان نے یہی کیا اور جواب میں فور اً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ﴿ قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ﴾(۱۲ :۹۲) ’’آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔‘‘اس پر ابو سفیان نے آپ کو چند اشعار سنائے۔ جن میں سے بعض یہ تھے : لعمرک إني حین أحمل رأیۃ لتغلب خیل اللات خیل محمد لکالمدلج الحیران أظلم لیلہ فہذا أواني حین أہدی فأہتدی ہدانی ہاد غیر نفسی ودلنی علی اللّٰه من طردتہ کل مطرد ’’تیری عمر کی قسم ! جس وقت میں نے اس لیے جھنڈا اٹھایا تھا کہ لات کے شہسوار محمد کے شہسوار پر غالب آجائیں تو میری کیفیت رات کے اس مسافر کی سی تھی جو تیرہ وتار رات میں حیران وسرگردان ہو ، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مجھے ہدایت دی جائے ، اور میں ہدایت پاؤں۔ مجھے میرے نفس کی بجائے ایک ہادی نے ہدایت دی اور اللہ کا راستہ اسی شخص نے بتایا جسے میں نے ہر موقع پر دھتکاردیا تھا۔ ‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا : تم نے مجھے ہر موقع پر دھتکارا تھا۔[1] مرالظہران میں اسلامی لشکر کا پڑاؤ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا۔ آپ اور صحابہ روزے سے تھے لیکن عسفان اور قُدَید کے درمیان کدید نامی چشمے پر پہنچ کر آپ نے روزہ توڑ دیا۔[2] اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام نے بھی روزہ توڑدیا۔ اس کے بعد پھر آپ نے سفر جاری رکھا یہاں تک کہ رات کے ابتدائی اوقات میں مرالظہران ۔وادی فاطمہ ۔ پہنچ کر نزول فرمایا۔ وہاں آپ کے حکم سے لوگوں نے الگ الگ آگ جلائی۔ اس طرح دس ہزار (چولہوں میں) آگ جلائی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہرے پر مقرر فرمایا۔ ابو سفیان دربارِ نبوت میں: مر الظہران میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہوکر نکلے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی لکڑہارا یا کوئی بھی آدمی مل جائے تو اس سے قریش کے پاس خبر بھیج دیں تاکہ وہ مکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داخل ہونے سے پہلے آپ کے پاس حاضر ہوکر امان طلب کرلیں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے قریش پر ساری خبروں کی رسائی روک دی تھی۔ اس لیے انہیں حالات کا کچھ علم نہ تھا، البتہ وہ خوف اور اندیشے سے دوچار تھے اور ابو سفیان باہر جاجاکر خبروں کا پتہ لگا تا رہتا تھا۔ چنانچہ اس وقت بھی وہ اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء خبروں کا پتہ لگانے کی غرض سے نکلے ہوئے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ واللہ ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار جارہا تھا کہ مجھے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی گفتگوسنائی پڑی۔ وہ باہم ردوقدح کررہے تھے۔ ابو سفیان کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں نے آج رات جیسی آگ اور ایسا لشکر تو کبھی دیکھا ہی نہیں، اور جواب میں بدیل کہہ رہا تھا : یہ اللہ کی قسم! بنو خزاعہ ہیں۔ جنگ نے انہیں نوچ کر رکھ دیا ہے، اور اس پر ابو سفیان کہہ رہا تھا:خزاعہ اس سے کہیں کمتر اور ذلیل ہیں کہ یہ ان کی آگ اور ان کا لشکر ہو۔ حضر ت عباس کہتے ہیں کہ میں نے ا س کی آواز پہچان لی اور کہا : ابو حنظلہ ؟ اس نے بھی میری آواز پہچان لی اور بولا : ابو الفضل ؟ میں نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : کیا بات ہے ؟ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ، میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لوگوں سمیت۔ ہائے قریش کی تباہی ۔۔ واللہ ! اس نے کہا : اب کیا حیلہ ہے ؟ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ میں نے کہا: واللہ! اگر وہ تمہیں پاگئے تو تمہاری گردن ماردیں گے۔ لہٰذا اس خچر پر پیچھے بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلتا ہوں ، اور تمہارے لیے امان طلب کیے دیتا ہوں۔ اس کے بعد ابو سفیان میرے پیچھے بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس چلے گئے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابو سفیان کو لے کر چلا۔ جب کسی الاؤ کے پاس سے گزرتا تو لوگ کہتے : کون ہے ؟ مگر جب دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر ہے اور میں اس پر سوار ہوں تو کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور آپ کے خچر پر ہیں۔ یہاں تک کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے الاؤ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا : کون ہے ؟ اور اٹھ کر میری طرف آئے۔ جب پیچھے ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے : ابو سفیان ؟ اللہ کا دشمن ؟ اللہ کی حمد ہے کہ اس نے بغیر عہدوپیمان کے تجھے (ہمارے ) قابو میں کردیا۔ اس کے بعد وہ نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔ اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی۔ میں آگے بڑھ گیا۔ اور خچر سے کود کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاگھسا۔ اتنے میں عمر بن خطاب بھی گھس آئے اور بولے کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ابو سفیان ہے۔ مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن ماردوں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر آپ کا سر پکڑ لیا۔ اور کہا : اللہ کی قسم آج رات میرے سوا کوئی اور آپ سے سرگوشی نہ کرے گا۔ جب ابو سفیان کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بار بار کہا تو میں نے کہا : عمر ! ٹھہرجاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم ایسی بات نہ کہتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : عباس ! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا اسلام لانا میرے نزدیک خطّاب کے اسلام لانے سے ۔ اگر وہ اسلام لاتے ۔ زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی وجہ میرے لیے صرف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمہارا اسلام لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عباس ! اسے (یعنی ابوسفیان کو ) اپنے ڈیرے میں لے جاؤ۔ صبح میرے پاس لے آنا۔ اس حکم کے مطابق میں اسے ڈیرے میں لے گیا اور صبح خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر کیا۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ا بو سفیان! تم پر افسوس ، کیا اب بھی تمہارے لیے وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ، آپ کتنے بردبار ، کتنے کریم اور کتنے خویش پرورہیں۔ میں اچھی طرح سمجھ چکاہوں کہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو اب تک میرے کچھ کام آیا ہوتا۔ آپ نے فرمایا : ابو سفیان تم پر افسوس ! کیا تمہارے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابو سفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا۔ آپ کس قدر حلیم ، کس قدر کریم اور کس قدر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ اس بات کے متعلق تو اب بھی دل میں کچھ نہ کچھ کھٹک ہے۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ارے ! گردن مارے جانے کی نوبت آنے سے پہلے پہلے اسلام قبول کرلو !اور یہ شہادت واقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا اور حق کی شہادت دی۔ حضرت عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابوسفیان اعزاز پسند ہے، لہٰذا اسے کوئی اعزاز دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے امان ہے اور جو مسجد ِ حرام میں داخل ہوجائے اسے امان ہے۔ اسلامی لشکر مر الظَہران سے مکے کی جانب : اسی صبح ۔منگل ۱۷/رمضان ۸ ھ کی صبح ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر الظہران سے مکہ روانہ ہوئے اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابو سفیان کو وادی کی تنگنائے پر پہاڑکے ناکے کے پاس روک رکھیں تاکہ وہاں سے گزرنے والی الٰہی فوجوں کو ابو سفیان دیکھ سکے۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ ادھر قبائل اپنے اپنے پھریرے لیے گزر رہے تھے۔ جب وہاں سے کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب میں حضرت عباس ۔ بطورِ مثال۔ کہتے کہ بنو سلیم ہیں۔ تو ابوسفیان کہتا کہ مجھے سلیم سے کیا واسطہ ؟ پھر کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ اے عباس !یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ کہتے: مُزَیْنَہ ہیں۔ ابو سفیان کہتا:، مجھے مزینہ سے کیا مطلب ؟ یہاں تک کہ سارے قبیلے ایک ایک کرکے گزر گئے۔ جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا توابو سفیان حضرت عباس سے اس کی بابت ضرور دریافت کرتا اور جب وہ اسے بتاتے تو وہ کہتا کہ مجھے بنی فلاں سے کیا واسطہ ؟ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سبز دستے کے جلو میں تشریف لائے۔ آپ مہاجرین وانصار کے درمیان فروکش تھے۔ یہاں انسانوں کے بجائے صرف لوہے کی باڑھ دکھائی پڑرہی تھی۔ ابو سفیان نے کہا : سبحان اللہ ! اے عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ انصار ومہاجرین کے جلو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماہیں۔ ابو سفیان نے کہا : بھلا ان سے محاذآرائی کی طاقت کسے ہے ؟ اس کے بعد اس نے مزید کہا کہ ابو الفضل ! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو واللہ بڑی زبردست ہوگئی۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو سفیان ! یہ نبوت ہے۔ ابو سفیان نے کہا: ہاں ! اب تو یہی کہاجائے گا۔ اس موقع پر ایک واقعہ اور پیش آیا۔ انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ وہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو بولے: الیوم یوم الملحمۃ الیوم تستحل الحرمۃ ’’آج خونریزی اور مار دھاڑ کادن ہے۔ آج حرمت حلال کرلی جائے گی۔‘‘ آج اللہ نے قریش کی ذلت مقدر کردی ہے۔ اس کے بعد جب وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو ابو سفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سعد نے کہی ہے ؟ آپ نے فرمایا :سعد نے کیا کہا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: یہ اور یہ بات کہی ہے۔ یہ سن کر حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں سعد قریش کے اندر مار دھاڑ نہ مچا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ آج کا دن وہ دن ہے جس میں کعبہ کی تعظیم کی جائے گی۔ آج کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت بخشے گا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیج کر جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے صاحبزادے قیس کے حوالے کردیا۔ گویا جھنڈا حضرت سعد کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ اور کہاجاتاہے کہ آپ نے جھنڈا حضرت زبیر کے حوالے کردیا تھا۔ اسلامی لشکر اچانک قریش کے سر پر: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان کے پاس سے گزرچکے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : اب دوڑ کر اپنی قوم کے پاس جاؤ۔ ابو سفیان تیزی سے مکہ پہنچا اور نہایت بلندآواز سے پکارا : قریش کے لوگو! یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تمہارے پاس اتنا لشکر لے کر آئے ہیں کہ مقابلے کی تا ب نہیں ، لہٰذا جو ابو سفیان کے گھر گھس جائے اسے امان ہے۔ یہ سن کر اس کی بیوی ہند بنت عتبہ اٹھی اور اس کی مونچھ پکڑ کر بولی : مار ڈالو اس چرب دار، کڑے گوشت والے مشک کو۔ بُرا ہوایسے (لینڈ والے ) پیشتر و خبر رساں کا۔ ابو سفیان نے کہا : تمہاری بربادی ہو۔ دیکھو تمہاری جانوں کے بارے میں یہ عورت تمہیں دھوکا میں نہ ڈال دے۔ کیونکہ محمد ؐ ایسا لشکر لے کر آئے ہیں جس سے مقابلے کی تاب نہیں۔ اس لیے جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے۔ لوگوں نے کہا :اللہ تجھے مارے ، تیرا گھر ہمارے کتنے آدمیوں کے کام آسکتا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا : اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے بھی امان ہے۔ اور جو مسجد حرام میں داخل ہوجائے اسے بھی امان ہے۔ یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام کی طرف بھاگے۔ البتہ اپنے کچھ اوباشوں کو لگادیا اور کہا کہ انہیں ہم آگے کیے دیتے ہیں۔ اگر قریش کو کچھ کامیابی ہوئی تو ہم ان کے ساتھ ہورہیں گے اور اگر ان پر ضرب لگی تو ہم سے جو کچھ مطالبہ کیا جائے گا منظور کرلیں گے۔ قریش کے یہ احمق اوباش مسلمانوں سے لڑنے کے لیے عِکْرَمَہ بن ابی جہل ، صفوان بن اُمیہ اور سُہَیْل بن عَمرو کی کمان میں خندمہ کے اندر جمع ہوئے۔ ان میں بنو بکر کاایک آدمی حماس بن قیس بھی تھا۔ جو اس سے پہلے ہتھیار ٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا۔ جس پر اس کی بیوی نے (ایک روز ) کہا : یہ کاہے کی تیاری ہے جو میں دیکھ رہی ہوں ؟ اس نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں سے مقابلے کی تیاری ہے۔ اس پر بیوی نے کہا : اللہ کی قسم ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کے مقابل کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ اس نے کہا :اللہ کی قسم !مجھے امید ہے کہ میں ان کے بعض ساتھیوں کو تمہارا خادم بناؤں گا۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا : إن یقبلوا الیوم فما لي علۃ ہذا سلاح کامل وألۃ وذو غرارین سریع السلۃ ’’اگر وہ آج مد مقابل آگئے تو میرے لیے کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ مکمل ہتھیار، دراز انی والا نیزہ اور جھٹ سونتی جانے والی دودھاری تلوار ہے ‘‘ خندمہ کی لڑائی میں یہ شخص بھی آیا ہوا تھا۔ اسلامی لشکر ذی طویٰ میں: ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر الظہران سے روانہ ہوکر ذی طویٰ پہنچے۔ اس دوران میں اللہ کے بخشے ہوئے اعزاز ِ فتح پر فرطِ تواضع سے آپ نے اپنا سر جھکا رکھا تھا۔یہاں تک کہ داڑھی کے بال کجاوے کی لکڑی سے جالگ رہے تھے ۔ ذی طویٰ میں آپ نے لشکر کی ترتیب وتقسیم فرمائی۔ خالد بن ولید کو داہنے پہلو پر رکھا ۔ اس میں اسلم ، سُلَیْم، غِفار ، مُزَیْنہ ، جُہَینہ اور کچھ دوسرے قبائل ِ عرب تھے ۔ اور خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں زیریں حصے سے داخل ہوں ، اور اگر قریش میں سے کوئی آڑے آئے تو اسے کاٹ کررکھ دیں، یہاں تک کہ صفا پر آپ سے آملیں۔ حضرت زبیر بن عوام بائیں پہلو پر تھے۔ ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھریرا تھا۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ مکے میں بالائی حصے، یعنی کداء سے داخل ہوں اور حجون میں آپ کا جھنڈا گاڑ کر آپ کی آمد تک وہیں ٹھہرے رہیں۔ حضرت ابو عبیدہ پیادے پر مقرر تھے۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بطن وادی کا راستہ پکڑیں۔ یہاں تک کہ مکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اتریں۔ مکہ میں اسلامی لشکر کا داخلہ: ان ہدایات کے بعد تمام دستے اپنے اپنے مقررہ راستوں سے چل پڑے۔ حضرت خالد اور ان کے رفقاء کی راہ میں جو مشرک بھی آیا اسے سلادیا گیا۔ البتہ ان کے رفقاء میں سے بھی کرزبن جابر فہری اور خُنَیس بن خالد بن ربیعہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ دونوں لشکر سے بچھڑ کر ایک دوسرے راستے پر چل پڑے اور اسی دوران انہیں قتل کردیا گیا۔ خندمہ پہنچ کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی مڈبھیڑ قریش کے اوباشوں سے ہوئی۔ معمولی سی جھڑپ میں بارہ مشرک مارے گئے اور اس کے بعد مشرکین میں بھگدڑ مچ گئی۔ حماس بن قیس جو مسلمانوں سے جنگ کے لیے ہتھیارٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا بھاگ کر اپنے گھر میں جاگھسا اور اپنی بیوی سے بولا: دروازہ بند کر لو۔ اس نے کہا : وہ کہاں گیا جو تم کہا کرتے تھے ؟ کہنے لگا : إنک لو شہدت یوم الخندمہ إذ فر صفوان وفر عکرمۃ واستقبتنا بالسیوف المسلمۃ یقطعن کل ساعد وجمجمہ ضرباً فلا یسمع إلا غمغمہ لھم نہیت خلفنا وہمہمہ لم تنطقی في اللوم أدنی کلمۃ ’’اگر تم نے جنگ خندمہ کا حال دیکھا ہوتا جب کہ صفوان اورعکرمہ بھاگ کھڑے ہوئے اور سونتی ہوئی تلواروں سے ہمارا استقبال کیا گیا ، جو کلائیاں اور کھوپڑیاں اس طرح کاٹتی جارہی تھیں کہ پیچھے سوائے ان کے شور وغوغا اور ہمہمہ کے کچھ سنائی نہیں پڑتا تھا ، تو تم ملامت کی ادنیٰ بات نہ کہتیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ مکہ کے گلی کوچوں کو روندتے ہوئے کوہِ صفا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے۔ ادھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حجون میں مسجد فتح کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا گاڑ ا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک قُبہّ نصب کیا۔ پھر مسلسل وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ مسجد حرام میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا داخلہ اور بتوں سے تطہیر : اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور آگے پیچھے اور گرد وپیش موجود انصار ومہاجرین کے جَلو میں مسجد حرام کے اندر تشریف لائے۔ آگے بڑھ کرحجرِ اسود کو چوما اور اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کمان تھی ، اور بیت اللہ کے گرد اور اس کی چھت پر تین سو ساٹھ بُت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کمان سے ان بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے ، اور کہتے جاتے تھے : ﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ (۱۷: ۸۱) ’’حق آگیا اور باطل چلاگیا، باطل جانے والی چیز ہے۔‘‘ ﴿قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ﴾ (۳۴: ۴۸) ’’حق آگیا اور باطل کی چلت پھرت ختم ہوگئی۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوکر سے بُت چہروں کے بل گرتے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر فرمایا تھا اور حالتِ احرام میں نہ ہونے کی وجہ سے صرف طواف ہی پر اکتفاکیا۔ تکمیل ِ طواف کے بعد حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان سے کعبہ کی کنجی لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ اندر داخل ہوئے تو تصویریں نظر آئیں ، جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں ،اور ان کے ہاتھ میں فال گیری کے تیر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: اللہ ان مشرکین کو ہلاک کرے۔ اللہ کی قسم ! ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال کے تیر استعمال نہیں کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری بھی دیکھی اسے اپنے دست مبارک سے توڑدیا اور تصویریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مٹادی گئیں۔ خانہ کعبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قریش سے خطاب : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی اندر ہی تھے۔ پھر دروازے کے مقابل کی دیوار کا رخ کیا۔ جب دیوار صرف تین ہاتھ کے فاصلے پر رہ گئی تو وہیں ٹھہر گئے۔ دو کھمبے آپ کے دائیں جانب تھے ، ایک کھمبا بائیں جانب اور تین کھمبے پیچھے تھے۔ ان دنوں خانہ کعبہ میں چھ کھمبے تھے ۔ پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، اس کے بعد بیت اللہ کے اندرونی حصے کا چکر لگایا۔ تمام گوشوں میں تکبیر وتوحید کے کلمات کہے۔ پھر دروازہ کھول دیا۔ قریش (سامنے ) مسجد حرام میں صفیں لگائے کھچاکھچ بھرے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے دونوں بازوپکڑ لیے۔ قریش نیچے تھے۔ انہیں یو ں مخاطب فرمایا : اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا سارے جتھوں کو شکست دی۔ سنو ! بیت اللہ کی کلیدبرداری اور حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ سارا اعزاز یاکمال یا خون میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ یادرکھو ، قتل ِ خطا شبہ عمد میں ۔ جو کوڑے یاڈنڈے سے ہو ۔ مغلظ دیت ہے ، یعنی سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیوں کے شکم میں ان کے بچے ہوں۔ اے قریش کے لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کردیا۔ سارے لوگ آدم سے ہیں اور آدم مٹی سے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی : ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴾ (۴۹: ۱۳) ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ آج کو ئی سرزنش نہیں: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے۔ میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں ؟ انہوں نے کہا : اچھا۔ آپ کریم بھائی ہیں۔ اور کریم بھائی کے صاحبزادے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ ﴿ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾(۱۲: ۹۲) آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ کعبے کی کنجی( حق بحقدار رسید) : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں بیٹھ گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے …جن کے ہاتھ میں کعبے کی کنجی تھی …حاضر خدمت ہوکر عرض کی : حضور ہمارے لیے حجاج کو پانی پلانے کے اعزاز کے ساتھ خانہ کعبہ کی کلید برداری کا اعزاز بھی جمع فرمادیجیے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل کرے۔ ایک اور روایت کے بموجب یہ گذارش حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عثمان بن طلحہ کہاں ہیں ؟ انہیں بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! عثمان ! یہ لو اپنی کنجی ، آج کا دن نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔ طبقات ابن سعد کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنجی دیتے ہوئے فرمایا : اسے ہمیشہ ہمیش کے لیے لو۔ تم لوگوں سے اسے وہی چھینے گا جو ظالم ہوگا۔ اے عثمان ! اللہ نے تم لوگوں کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔ لہٰذا اس بیت اللہ سے تمہیں جو کچھ ملے اس سے معرف کے ساتھ کھانا۔ کعبے کی چھت پر اذانِ بلالی : اب نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کعبے پر چڑھ کر اذان کہیں۔ ا س وقت ابو سفیان بن حرب ، عتاب بن اَسِید اور حارث بن ہشام کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔ عتاب نے کہا : اللہ نے اسید کو یہ شرف بخشا کہ انہوں نے یہ (اذان) نہ سنی ، ورنہ انہیں ایک ناگوار چیز سننی پڑتی۔ اس پر حارث نے کہا : سنو! واللہ ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ وہ برحق ہیں تو میں ان کا پیروکار بن جاؤں گا۔ اس پر ابو سفیان نے کہا : دیکھو ! واللہ ! میں کچھ نہیں کہوں گا۔ کیونکہ اگر میں بولوں گا تو یہ کنکریاں بھی میرے متعلق خبر دے دیں گی۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : ابھی تم لوگو ں نے جو باتیں کی ہیں ، وہ مجھے معلوم ہوچکی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گفتگو دہرادی۔ اس پر حارث اور عتاب بول اٹھے : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کی قسم ! کوئی شخص ہمارے ساتھ تھا ہی نہیں کہ ہماری اس گفتگو سے آگاہ ہوتا اور ہم کہتے کہ اس نے آپ کو خبر دی ہوگی۔ فتح یا شکر انے کی نماز : اسی روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُ مِّ ہانیٔ بنت ابی طالب کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں غسل فرمایا اور ان کے گھر میں ہی آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ اس لیے کسی نے اس کو چاشت کی نماز سمجھا اور کسی نے فتح کی نماز۔ اُمِّ ہانی ٔ نے اپنے دو دیوروں کو پناہ د ے رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام ہانی !جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔ اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ اُم ہانی ٔ کے بھائی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان دونوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے ام ہانی ٔ نے ان دونوں کو چھپا کر گھر کا دروازہ بند کررکھا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو ان کے بارے میں سوال کیا اور مذکورہ جواب سے بہرہ ور ہوئیں۔ اکابرمجرمین کا خون رائیگاں قرار دے دیا گیا : فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکابر مجرمین میں سے نو آدمیوں کا خون رائیگاں قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ اگر وہ کعبے کے پردے کے نیچے بھی پائے جائیں تو انہیں قتل کردیا جائے۔ ان کے نام یہ ہیں : (۱) عبد العزیٰ بن خَطل (۲) عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح (۳) عکرمہ بن ابی جہل (۴) حارث بن نُفیل بن وہب (۵) مقیس بن صبابہ (۶) ہبّار بن اسود (۷،۸) ابن ِ خطل کی دولونڈیاں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گایا کرتی تھیں (۹) سارہ ، جو اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کی لونڈی تھی، اسی کے پاس حاطب کا خط پایا گیا تھا۔ ابن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ اسے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لے جاکرجان بخشی کی سفارش کردی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جان بخشی فرماتے ہوئے اس کا اسلام قبول کرلیا لیکن اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر تک اس امید میں خاموش رہے کہ کوئی صحابی اٹھ کر اسے قتل کردیں گے۔ کیونکہ یہ شخص اس سے پہلے بھی ایک بار اسلام قبول کرچکا تھا اور ہجرت کرکے مدینہ آیا تھا لیکن پھر مرتد ہو کر بھاگ گیا تھا (تاہم اس کے بعد کا کردار ان کے حسنِ اسلام کا آئینہ دار ہے۔ رضی اللہ عنہ ) عکرمہ بن ابی جہل نے بھاگ کر یمن کی راہ لی۔ لیکن اس کی بیوی خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر اس کے لیے امان کی طالب ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امان دے دی۔ اس کے بعد وہ عکرمہ کے پیچھے پیچھے گئی اور اسے ساتھ لے آئی۔ اس نے واپس آکر اسلام قبول کیا اور اس کے اسلام کی کیفیت بہت اچھی رہی۔ ابن خطل خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر لٹکا ہوا تھا۔ ایک صحابی نے خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے قتل کردو، انہوں نے اسے قتل کردیا۔ مقیس بن صبابہ کو حضرت نُمیلہ بن عبد اللہ نے قتل کیا۔ مقیس بھی پہلے مسلمان ہوچکا تھا لیکن پھر ایک انصاری کو قتل کرکے مرتد ہوگیا اور بھاگ کر مشرکین کے پاس چلاگیا تھا۔ حارث ، مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ ہَبَّار بن اسود وہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ان کی ہجرت کے موقع پر ایسا کچوکا مارا تھا کہ وہ ہودج سے ایک چٹان پر جاگری تھیں اور اس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا تھا۔ یہ شخص فتح مکہ کے روز نکل بھاگا، پھر مسلمان ہوگیا اور اس کے اسلام کی کیفیت اچھی رہی۔ ابن خطل کی دونوں لونڈیوں میں سے ایک قتل کی گئی۔ دوسری کے لیے امان طلب کی گئی اوراس نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح سارہ کے لیے امان طلب کی گئی اور وہ بھی مسلمان ہوگئی۔ (خلاصہ یہ کہ نو میں سے چار قتل کیے گئے ، پانچ کی جان بخشی ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کیا) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جن لوگوں کا خون رائیگاں قرار دیا گیا ان کے ضمن میں ابو معشر نے حارث بن طلال خزاعی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ امام حاکم نے اسی فہرست میں کعب بن زہیر کا ذکر کیا ہے ____ کعب کا واقعہ مشہور ہے۔ اس نے بعد میں آکر اسلام قبول کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کی۔ (اسی فہرست میں ) وحشی بن حرب اور ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ ہیں ، جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ابن خطل کی لونڈی ارنب ہے جو قتل کی گئی۔ اور امِ سعد ہے ، یہ بھی قتل کی گئی۔ جیسا کہ ابن ِ اسحاق نے ذکر کیا ہے۔ اس طرح مردوں کی تعداد آٹھ اور عورتوں کی تعداد چھ ہوجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دونوں لونڈیاں ارنب اور ام ِ سعد ہوں اور اختلاف محض نام کا ہو یا کنیت اور لقب کے اعتبار سے اختلا ف ہوگیا ہو۔[1] صفوان بن اُمیہّ اور فضالہ بن عُمیر کا قبولِ اسلام : صفوان کا خون اگر چہ رائیگاں نہیں قرار دیا گیا تھا لیکن قریش کا ایک بڑا لیڈر ہونے کی حیثیت سے اسے اپنی جان کا خطرہ تھا۔ اسی لیے وہ بھی بھاگ گیا۔ عُمیر بن وَہب جمحی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکراس کے لیے امان طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امان دے دی اور علامت کے طور پر عمیر کو اپنی وہ پگڑی بھی دے دی جو مکہ میں داخلے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر باندھ رکھی تھی۔ عمیر ، صفوان کے پاس پہنچے تو وہ جدہ سے یمن جانے کے لیے سمندر پر سوار ہونے کی تیاری کررہا تھا۔ عُمیر اسے واپس لے آئے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے دومہینے کا اختیار دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں چار مہینے کا اختیار ہے۔ اس کے بعد صفوان نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کی بیوی پہلے ہی مسلمان ہوچکی تھی۔ آپ نے دونوں کو پہلے ہی نکاح پر برقرار رکھا۔ فضالہ ایک جری آدمی تھا۔ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کررہے تھے وہ قتل کی نیت سے آپ کے پاس آیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ اس پر وہ مسلمان ہوگیا۔ فتح کے دوسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ : فتح کے دوسرے دن خطبہ دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان پھرکھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثنا کی اور اس کے شایانِ شان اس کی تمجید کی۔ پھر فرمایا : لوگو! اللہ نے جس دن آسمان کو پیدا کیااسی دن مکہ کو حرام (حرمت والا شہر ) ٹھہرایا۔ اس لیے وہ اللہ کی حرمت کے سبب قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ کوئی آدمی جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ اس میں خون بہائے یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص اس بناپر رخصت اختیار کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قتال کیا تواس سے کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی ،لیکن تمہیں اجازت نہیں دی ہے۔ اور میرے لیے بھی اسے صرف دن کی ایک ساعت میں حلال کیا گیا، پھر آج اس کی حرمت اسی طرح پلٹ آئی۔ جس طرح کل اس کی حرمت تھی۔ اب چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ ایک روایت میں اتنا مزید اضافہ ہے کہ یہا ں کاکا نٹانہ کاٹا جائے۔ شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے۔ البتہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جواس کا تعارف کرائے اور یہاں کی گھاس نہ اکھاڑی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اِذخر (عرب کی مشہور گھاس جو موج کی ہم شکل ہوتی ہے اور چائے اور دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے ) کیونکہ یہ لوہار اور گھر کی( ضروریات)کی چیز ہے آپ نے فرمایا : مگر اِذْخر۔ بنو خزاعہ نے اس روز بنو لیث کے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا کیونکہ بنو لیث کے ہاتھوں ان کا ایک آدمی جاہلیت میں مارا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں فرمایا :خزاعہ کے لوگو! اپنا ہاتھ قتل سے روک لو کیونکہ قتل اگر نفع بخش ہوتا تو بہت قتل ہوچکا۔ تم نے ایک ایسا آدمی قتل کیا ہے کہ میں اس کی دیت لازما ً ادا کروں گا۔ پھر میرے اس مقام کے بعد اگر کسی نے کسی کو قتل کیا تو مقتول کے اولیاء کو دوباتوں کا اختیار ہوگا۔ چاہیں تو قاتل کا خون بہائیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کے بعد یمن کے ایک آدمی نے جس کا نام ابوشاہ تھا اُٹھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! (اسے ) میرے لیے لکھوا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔[1] انصار کے اندیشے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کی تکمیل فرماچکے ۔ اورمعلوم ہے کہ یہی آپ کا شہر ، آپ کی جائے پیدائش اور وطن تھا ۔ تو انصار نے آپس میں کہا : کیا خیال ہے اب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی اپنی سرزمین اور آپ کا شہر فتح کرا دیا ہے تو آپ یہیں قیام فرمائیں گے ؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر ہاتھ اٹھائے دعا فرمارہے تھے۔ دعا سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ تم لوگوں نے کیا بات کی ہے ؟ انہوں نے کہا : کچھ نہیں یا رسول اللہ! مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصرار فرمایا تو بالآخر ان لوگوں نے بتلادیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی پناہ !اب زندگی اور موت تمہارے ساتھ ہے۔ بیعت : جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مکہ کی فتح عطا فرمادی تو اہل ِ مکہ پر حق واضح ہوگیا اور وہ جان گئے کہ اسلام کے سوا کامیابی کی کوئی راہ نہیں۔ اس لیے وہ اسلام کے تابعدار بنتے ہوئے بیعت کے لیے جمع ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر بیٹھ کر لوگوں سے بیعت لینی شروع کی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ سے نیچے تھے اور لوگوں سے عہد وپیمان لے رہے تھے۔ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ جہاں تک ہوسکے گا آپ کی بات سنیں گے اور مانیں گے۔ اس موقع پر تفسیر مدارک میں یہ روایت مذکور ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کی بیعت سے فارغ ہوچکے تو وہیںصفا ہی پر عورتوں سے بیعت لینی شروع کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیچے بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عورتوں سے بیعت لے رہے تھے۔ اور انہیں آپ کی باتیں پہنچارہے تھے۔ اسی دوران ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ بھیس بدل کر آئی۔ دراصل حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کے ساتھ اس نے جو حرکت کی تھی اس کی وجہ سے وہ خوف زدہ تھی کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہچان نہ لیں۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیعت شروع کی ) تو فرمایا : میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (یہی بات دہراتے ہوئے ) عورتوں سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور چوری نہ کروگی۔ اس پر ہندہ بول اٹھی کہ ابو سفیان بخیل آدمی ہے۔ اگر میں اس کے مال سے کچھ لے لوں تو؟ ابو سفیان نے (جو وہیں موجود تھے ) کہا: تم جو کچھ لے لو وہ تمہارے لیے حلال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندہ کو پہچان لیا۔ فرمایا : اچھا ____تو تم ہو ہندہ ؟ وہ بولی : ہاں ، اے اللہ کے نبی ، جو کچھ گزر چکا ہے اسے معاف فرمادیجیے۔ اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور زنانہ کروگی۔ اس پر ہندہ نے کہا : بھلا کہیں حُرَّہ (آزاد عورت ) بھی زنا کرتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور اپنی اولاد کو قتل نہ کروگی۔ ہندہ نے کہا : ہم نے تو بچپن میں انہیں پالا پو سا، لیکن بڑے ہونے پر آپ لوگوں نے انہیں قتل کردیا۔ اس لیے آپ اور و ہی بہتر جانیں ۔ یاد رہے کہ ہندہ کا بیٹا حنظلہ بن ابی سفیان بدر کے دن قتل کیا گیا تھا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہنستے ہنستے چت لیٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تبسم فرمایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور کوئی بہتان نہ گھڑو گی۔ ہندہ نے کہا : واللہ! بہتان بڑی بُری بات ہے اور آپ ہمیں واقعی رشد اور مکارم اخلاق کا حکم دیتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور کسی معروف بات میں رسول کی نافرمانی نہ کروگی۔ ہندہ نے کہا : اللہ کی قسم !ہم اپنی اس مجلس میں اپنے دلوں کے اندر یہ بات لے کر نہیں بیٹھی ہیں کہ آپ کی نافرمانی بھی کریں گی۔ پھر واپس ہوکر ہندہ نے اپنا بُت توڑ دیا۔ وہ اسے توڑتی جارہی تھی اور کہتی جارہی تھی : ہم تیرے متعلق دھوکے میں تھے۔[1] مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اور کام : مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنیس ۱۹ روز قیام فرمایا اس دوران آپ نقوش ِ اسلام کی تجدید کرتے رہے۔ اور لوگوں کو ہدایت وتقویٰ کی رہنمائی فرماتے رہے۔ انہی دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت ابو اسید خزاعی نے نئے سرے سے حدود حرم کے کھمبے نصب کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت اور مکہ کے آس پاس بتوں کو توڑنے کے لیے متعدد سرایا بھی روانہ کیے اور اس طرح سارے بت توڑ ڈالے گئے۔ آپ کے منادی نے مکے میں اعلان کیا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے گھر میں کوئی بت نہ چھو ڑے بلکہ اسے توڑ ڈالے۔ سرایا اور وفود: 1۔ فتح مکہ سے یک سو ہوجانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۵ / رمضان ۸ھ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں عُزّیٰ کے انہدام کے لیے ایک سریہ روانہ فرمایا۔ عُزّیٰ نخلہ میں تھا۔ قریش اور سارے بنو کنانہ اس کی پوجا کرتے تھے اور یہ ان کا سب سے بڑا بت تھا۔ بنو شیبان اس کے مجاور تھے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے تیس سواروں کی معیت میں نخلہ جاکر اسے ڈھا دیا۔ واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے کچھ دیکھا بھی تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا : تب تو درحقیقت تم نے اسے ڈھایا ہی نہیں۔ پھر سے جاؤ اور اسے ڈھادو۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ بپھرے ہوئے اور تلوار سونتے ہوئے دوبارہ تشریف لے گئے۔ اب کی بار ان کی جانب ایک ننگی ، کالی ، پراگندہ سر عورت نکلی۔ مجاور اسے چیخ چیخ کر پکارنے لگا۔ لیکن اتنے میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس زور کی تلوار ماری کہ اس عورت کے دوٹکڑے ہوگئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آکر خبر دی۔ آپ نے فرمایا: ہا ں ! وہی عُزّیٰ تھی۔ اب وہ مایوس ہوچکی ہے کہ تمہارے ملک میں کبھی بھی اس کی پوجا کی جائے۔ 2۔ اس کے بعد آپ نے عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اسی مہینے سُوَاع نامی بُت ڈھانے کے لیے روانہ کیا۔ یہ مکہ سے تین دن کے فاصلے پر رہاط میں بنو ہُذَیل کا ایک بت تھا۔ جب حضرت عمرو رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو مجاور نے پوچھا : تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈھانے کا حکم دیا ہے۔ اس نے کہا : تم اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں؟ اس نے کہا : (قدرتاً) روک دیے جاؤ گے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اب تک باطل پر ہو ؟ تم پر افسوس، کیا یہ سنتا یا دیکھتا ہے ؟ اس کے بعد بت کے پاس جاکر اسے توڑ ڈالا، اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے خزانہ والا مکان ڈھادیں لیکن اس میں کچھ نہ ملا۔ پھر مجاور سے فرمایا : کہو کیسا رہا ؟ اس نے کہا : میں اللہ کے لیے اسلام لایا۔ 3۔ اسی ماہ حضرت سعد بن زید اشہلی کو بیس سوار دے کر مَنَاۃ کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ قُدید کے پاس مشلل میں اوس وخزرج اور غسّان وغیرہ کا بت تھا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو اس کے مجاور نے ان سے کہا: تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا : مناۃ کوڈھانا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا : تم جانو اور تمہارا کام جانے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ مناۃ کی طرف بڑھے تو ایک کالی ننگی ،پراگندہ سر عورت نکلی۔ وہ اپنا سینہ پیٹ پیٹ کر ہائے ہائے کررہی تھی۔ اس سے مجاور نے کہا : مناۃ ! اپنے کچھ نافرمانوں کو پکڑ لے۔ لیکن اتنے میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے تلوار مار کر اس کا کام تمام کردیا۔ پھر لپک کر بت ڈھادیا، اور اسے توڑ پھوڑ ڈالا۔ خزانے میں کچھ نہ ملا۔ 4۔ عُزّیٰ کو ڈھاکر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ماہ رمضان ۸ھ میں بنوجَذِیمہ کے پاس روانہ فرمایا۔ لیکن مقصود حملہ نہیں بلکہ اسلام کی تبلیغ تھی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ مہاجرین وانصار اور بنو سلیم کے ساڑھے تین سو افراد لے کر روانہ ہوئے اور بنو جذیمہ کے پاس پہنچ کر اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے أسلمنا (ہم اسلام لائے ) کے بجائے صَبَاٗنا صَبَاٗنا (ہم نے اپنا دین چھوڑ ا، ہم نے اپنا دین چھوڑا ) کہا۔ اس پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کا قتل اور ان کی گرفتاری شروع کردی، اور ایک ایک قیدی اپنے ہر ہر ساتھی کے حوالے کیا۔ پھر ایک دن حکم دیا کہ ہر آدمی اپنے قیدی کو قتل کردے۔ لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کردیا۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونو ں ہاتھ اٹھائے اور دوبار فرمایا : اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا میں اس سے تیری طرف براء ت اختیار کرتا ہوں۔[1] اس موقع پر صرف بنوسُلیم کے لوگوں نے اپنے قیدیوں کو قتل کیا تھا۔ انصار ومہاجرین نے قتل نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیج کر ان کے مقتولین کی دیت اور ان کے نقصانات کا معاوضہ ادا فرمایا۔ اس معاملے میں حضرت خالد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ سخت کلامی اور برائی بھی ہوگئی تھی۔ اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا : خالد ! ٹھہرجاؤ۔ میرے رفقاء کو کچھ کہنے سے باز رہو۔ اللہ کی قسم! اگر احد پہاڑ سونا ہوجائے اور وہ سارا کا سارا تم اللہ کی راہ میں خرچ کردو تب بھی میرے رفقاء میں سے کسی ایک آدمی کی ایک صبح کی عبادت یاایک شام کی عبادت کو نہیں پہنچ سکتے۔[1] ________________________ یہ ہے غزوۂ فتح مکہ ۔ یہی وہ فیصلہ کن معرکہ اور فتح اعظم ہے جس نے بت پرستی کی قوت مکمل طور پر توڑ کررکھ دی اور اس کاکام اس طرح تمام کر دیا کہ جزیرۃ العرب میں اس کے باقی رہنے کی کوئی گنجائش اور کوئی وجہ جواز نہ رہ گیا۔ کیونکہ عام قبائل منتظر تھے کہ مسلمانوں اور بت پرستوں میں جو معرکہ آرائی چل رہی ہے دیکھیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ان قبائل کو یہ بات بھی اچھی طرح معلوم تھی کہ حرم پر وہی مسلّط ہوسکتا ہے جو حق پر ہو۔ ان کے اس اعتقاد ِ جازم میں مزید حد درجہ پختگی نصف صدی پہلے اصحابِ فیل اَبْرَہَہ اور اس کے ساتھیوں کے واقعہ سے آگئی تھی۔ کیونکہ اہلِ عرب نے دیکھ لیا تھا کہ ابرہہ اور اس کے ساتھیوں نے بیت اللہ کا رُخ کیا تو اللہ نے انہیں ہلاک کر کے بھُس بنادیا۔ یاد رہے کہ صلح حدیبیہ اس فتح عظیم کا پیش خیمہ اورتمہید تھی۔ اس کی وجہ سے امن امان کا دَور دورہ ہو گیا تھا۔ لوگ کھل کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ اسلام کے متعلق تبادلۂ خیال اور بحثیں ہوتی تھیں، مکہ کے جو لوگ درپردہ مسلمان تھے ، انہیں بھی اس صلح کے بعد اپنے دین کے اظہار وتبلیغ اور اس پر بحث ومناظرہ کا موقع ملا۔ ان حالات کے نتیجے میں بہت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ یہاں تک کہ اسلامی لشکر کی جو تعداد گزشتہ کسی غزوے میں تین ہزار سے زیادہ نہ ہوسکی تھی اس غزوۂ فتح مکہ میں دس ہزار تک جا پہنچی۔ اس فیصلہ کن غزوے نے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں اور ان پر پڑا ہوا وہ آخری پر دہ ہٹا دیا جو قبول اسلام کی راہ میں روک بنا ہوا تھا۔ اس فتح کے بعد پورے جزیرۃ العرب کے سیاسی اوردینی اُفق پر مسلمانوں کا سورج چمک رہا تھا اور اب دینی سربراہی اوردنیوی قیادت کی زمام ان کے ہاتھ آچکی تھی۔ گویا صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کی موافقت میں جو مفید تغیر شروع ہوا تھا اس فتح کے ذریعے مکمل اور تما م ہوگیا۔ اور اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوا جو پورے طور پر مسلمانوں کے حق میں تھا اور جس میں پوری صورت حال مسلمانوں کے قابو میں تھی اور عرب اقوام کے سامنے صرف ایک ہی راستہ تھا کہ وہ وفود کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیں۔ اور آپ کی دعوت لے کر چار دانگ عالم میں پھیل جائیں۔ اگلے دوبرسوں میں اسی کی تیاری کی گئی۔