الرحیق المختوم

غَزَوَات پر ایک نظر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات ، سرایا اور فوجی مہمات پر ایک نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی شخص جو جنگ کے ماحول ، پس منظر وپیش منظر اور آثار ونتائج کا علم رکھتا ہو یہ اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا کے سب سے بڑے اور باکمال فوجی کمانڈ ر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سوجھ بوجھ سب سے زیادہ درست اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست اور بیدارمغزی سب سے زیادہ گہری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح نبوت ورسالت کے اوصاف میں سیّد الرسل اور اعظم الانبیاء تھے ، اسی طرح فوجی قیادت کے وصف میں بھی آپ یگانہ ٔ روزگار اور نادر عبقریت کے مالک تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی معرکہ آرائی کی اس کے لیے ایسے حالات وجہات کا انتخاب فرمایا جوحزم وتدبر اور حکمت وشجاعت کے عین مطابق تھے۔ کسی معرکے میں حکمت عملی ، لشکر کی ترتیب اور حساس مراکز پر اس کی تعیناتی ، موزوں ترین مقام جنگ کے انتخاب اور جنگی پلاننگ وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کوئی چوک نہیں ہوئی۔ اور اسی لیے اس بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی زک نہیں اٹھانی پڑی۔ بلکہ ان تمام جنگی معاملات ومسائل کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عملی اقدامات سے ثابت کردیا کہ دنیا ، بڑے بڑے کمانڈروں کے تعلق سے جس طرح کی قیادت کا علم رکھتی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت کچھ مختلف ایک نرالی ہی قسم کی کمانڈرانہ صلاحیت کے مالک تھے۔ جس کے ساتھ شکست کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ اس موقع پر یہ عرض کردینا بھی ضروری ہے کہ اُحد اور حنین میں جو کچھ پیش آیااس کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حکمتِ عملی کی خامی نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے حنین میں کچھ افرادِ لشکر کی بعض کمزوریاں کار فرما تھیں اور اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت اہم حکمت عملی اور لازمی ہدایات کو نہایت فیصلہ کن لمحات میں نظر انداز کردیا گیا تھا۔ پھر ان دونوں غزوات میں جب مسلمانوں کو زک اٹھانے کی نوبت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عبقریت کا مظاہرہ فرمایا وہ اپنی مثال آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھی۔ آپ دشمن کے مد مقابل ڈٹے رہے اور اپنی نادرۂ روزگار حکمت عملی سے اسے یاتو اس کے مقصد میں ناکام بنادیا ۔ جیسا کہ اُحد میں ہوا ۔ یا جنگ کا پانسہ اس طرح پلٹ دیا کہ مسلمانوں کی شکست ، فتح میں تبدیل ہوگئی ۔ جیسا کہ حنین میں ہوا۔ حالانکہ اُحد جیسی خطرناک صورت حال اور حنین جیسی بے لگام بھگدڑ سپہ سالاروں کی قوتِ فیصلہ سلب کرلیتی ہے۔ اور ان کے اعصاب پر اتنا بدترین اثر ڈالتی ہے کہ انہیں بچاؤ کے علاوہ اور کوئی فکر نہیں رہ جاتی۔ یہ گفتگو تو ان غزوات کے خالص فوجی اور جنگی پہلو سے تھی۔ باقی رہے دوسرے گوشے تو وہ بھی بے حد اہم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غزوات کے ذریعے امن وامان قائم کیا۔ فتنے کی آگ بجھائی۔ اسلام وبُت پرستی کی کشمکش میں دشمن کی شوکت توڑ کر رکھ دی۔ اور انہیں اسلامی دعوت وتبلیغ کی راہ آزاد چھوڑنے اور مصالحت کر نے پر مجبور کردیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جنگوں کی بدولت یہ بھی معلوم کرلیا کہ آپ کا ساتھ دینے والوں میں سے کون سے لوگ مخلص ہیں اور کون سے لوگ منافق ؟ جو نہاں خانہ ٔ دل میں غدر وخیانت کے جذبات چھپائے ہوئے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاذ آرائی کے عملی نمونوں کے ذریعے مسلمان کمانڈروں کی ایک زبردست جماعت بھی تیار کر دی ، جنہوں نے آپ کے بعد عراق و شام کے میدانوں میں فارس و روم سے ٹکر لی۔ اور جنگی پلاننگ اور تکنیک میں ان کے بڑے بڑے کمانڈروں کو مات دے کر انہیں ان کے مکانات و سرزمین سے ،اموال و باغات سے ، چشموں اور کھیتوں سے، آرام دہ اور باعزت مقام سے اور مزے دار نعمتوں سے نکال باہر کیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غزوات کی بدولت مسلمانوں کے لیے رہائش ، کھیتی ، پیشے اور کام کا انتظام فرمایا۔ بے خانماں اور محتاج پناہ گزینوں کے مسائل حل فرمائے۔ ہتھیار ، گھوڑے ، ساز و سامان اور اخراجات جنگ مہیا کیے۔ اور یہ سب کچھ اللہ کے بندوں پر ذرہ برابر ظلم و زیادتی اور جور و جفا کیے بغیر حاصل کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسباب و وجوہ اور اغراض و مقاصد کو بھی تبدیل کر ڈالا جن کے لیے دور جاہلیت میں جنگ کے شعلے بھڑکا کرتے تھے۔ یعنی دور جاہلیت میں جنگ نام تھی لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا ، ظلم و زیادتی اور انتقام و تشدد کا ، کمزوروں کو کچلنے ، آبادیاں ویران کرنے اور عمارتیں ڈھانے کا ، عورتوں کی بے حرمتی کرنے اور بوڑھوں ، بچوں اور بچیوں کے ساتھ سنگدلی سے پیش آنے کا ، کھیتی باڑی اور جانوروں کو ہلاک کرنے اور زمین میں تباہی و فساد مچانے کا۔ مگر اسلام نے اس جنگ کی روح تبدیل کر کے اسے ایک مقدس جہاد میں بدل دیا۔ جسے نہایت موزوں اور معقول اسباب کے تحت شروع کیا جاتا ہے۔ اوراس کے ذریعے ایسے شریفانہ مقاصد اور بلند پایہ اغراض حاصل کیے جاتے ہیں جنہیں ہر زمانے اور ہر ملک میں انسانی معاشرہ کے لیے باعث اعزاز تسلیم کیا گیا ہے۔ کیونکہ اب جنگ کا مفہوم یہ ہوگیا کہ انسان کو قہر و ظلم کے نظام سے نکال کر عدل و انصاف کے نظام میں لانے کی مسلح جد و جہد کی جائے۔ یعنی ایک ایسے نظام کو جس میں طاقتور کمزور کو کھارہا ہو ، الٹ کر ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں طاقتور کمزور ہو جائے جب تک کہ اس سے کمزور کا حق نہ لیا جائے۔ اسی طرح اب جنگ کا معنی یہ ہوگیا کہ ان کمزور مردوں ، عورتوں اور بچوں کو نجات دلائی جائے جو دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں۔ اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ولی بنا ، اور اپنے پاس سے مدد گاربنا۔ نیز اس جنگ کا معنی یہ ہوگیا کہ اللہ کی زمین کو غدر وخیانت ، ظلم وستم اور بدی وگناہ سے پاک کر کے اس کی جگہ امن وامان ، رافت ورحمت ، حقوق رسانی اور مروت وانسانیت کا نظم بحال کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے لیے شریفانہ ضوابط بھی مقرر فرمائے اور اپنے فوجیوں اور کمانڈروں پر ان کی پابندی لازمی قرار دیتے ہوئے کسی حال میں ا ن سے باہر جانے کی اجازت نہ دی۔ حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سَریہ کا امیر مقرر فرماتے تو اسے خاص اس کے اپنے نفس کے بارے اللہ عزوجل کے تقویٰ کی اور اس کے مسلمان ساتھیوں کے بارے میں خیر کی وصیت فرماتے۔ پھر فرماتے : اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں غزوہ کرو۔ جس نے اللہ کے ساتھ کفرکیا ان سے لڑائی کرو۔ غزوہ کرو ، خیانت نہ کرو ، بد عہدی نہ کرو ، ناک کان وغیرہ نہ کاٹو ، کسی بچے کو قتل نہ کرو۔ الخ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسانی برتنے کا حکم دیتے اور فرماتے : ’’آسانی کرو ، سختی نہ کرو۔ لوگوں کو سکون دلاؤ، متنفر نہ کرو۔‘‘ [1]اور جب رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کے پاس پہنچتے تو صبح ہونے سے پہلے چھاپہ نہ مارتے۔ نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو آگ میں جلانے سے نہایت سختی کے ساتھ منع کیا۔ اسی طرح باندھ کر قتل کرنے اور عورتوں کو مارنے اور انہیں قتل کرنے سے بھی منع کیا۔ اور لوٹ پاٹ سے روکا۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی باڑی تباہ کرنے ، جانور ہلاک کرنے اور درخت کاٹنے سے منع فرمایا ، سوائے اس صورت کے کہ اس کی سخت ضرورت آن پڑے۔ اور درخت کاٹے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ کسی زخمی پر حملہ نہ کرو۔ کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرو۔ اور کسی قیدی کو قتل نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت بھی جاری فرمائی کہ سفیر کو قتل نہ کیا جائے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدین (غیر مسلم شہریوں )کے قتل سے بھی نہایت سختی سے روکا۔ یہاں تک کہ فرمایا: جو شخص کسی معاہد کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے فاصلے سے پائی جاتی ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے بلند پایہ قواعد وضوابط تھے جن کی بدولت جنگ کا عمل جاہلیت کی گندگیوں سے پاک وصاف ہو کر مقدس جہاد میں تبدیل ہوگیا۔