الرحیق المختوم

حجۃ الوداع

دعوت وتبلیغ کاکام پورا ہوگیا۔ اور اللہ کی الوہیت کے اثبات ، اس کے ماسوا کی الوہیت کی نفی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی بنیاد پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر وتشکیل عمل میں آگئی۔ اب گویا غیبی ہاتف آپ کے قلب وشعور کو یہ احساس دلارہا تھا کہ دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا زمانہ اختتام کے قریب ہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ۱۰ ھ میں یمن کا گورنر بنا کر روانہ فرمایا تو رخصت کرتے ہوئے منجملہ اور باتوں کے فرمایا : اے معاذ! غالباً تم مجھ سے میرے اس سال کے بعد نہ مل سکو گے۔ بلکہ غالباً میری اس مسجد اورمیری اس قبر کے پاس سے گذرو گے۔ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم سے رونے لگے۔ درحقیقت اللہ چاہتا تھا کہ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دعوت کے ثمرات دکھلادے جس کی راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس برس سے زیادہ عرصہ تک طرح طرح کی مشکلات اور مشقتیں برداشت کی تھیں۔ اور اس کی صورت یہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر اطرافِ مکہ میں قبائلِ عرب کے افراد و نمائندگان کے ساتھ جمع ہوں۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کے احکام وشرائع حاصل کریں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ شہادت لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت ادا کردی۔ پیغام ِ رب کی تبلیغ فرمادی۔ اور امّت کی خیر خواہی کا حق ادا فرمادیا۔ اس مَشیّتِ ایزدی کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس تاریخی حجِ مبرور کے لیے اپنے ارادے کا اعلان فرمایا۔ تو مسلمانانِ عرب جوق درجوق پہنچنا شروع ہوگئے۔ ہر ایک کی آرزو تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش ِ پاکو اپنے لیے نشان ِ راہ بنائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرے۔[1]پھر سنیچر کے دن جبکہ ذی قعدہ میں چار د ن باقی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کی تیاری فرمائی۔[2]بالو ں میں کنگھی کی۔ تیل لگایا۔ تہبند پہنا ، چادر اوڑھی ، قربانی کے جانوروں کو قَلادَہ پہنایا۔ اور ظہر کے بعد کوچ فرمایا۔ اور عصر سے پہلے ذو الحلیفہ پہنچ گئے۔ وہاں عصر کی نماز دورکعت پڑھی۔ اور رات بھر خیمہ زن رہے۔ صبح ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : رات میرے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والے نے آکر کہا : اس مبارک وادی میں نماز پڑھو۔ اور کہو: حج میں عمرہ ہے۔[1] پھر ظہر کی نمازسے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِحْرام کے لیے غسل فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر اور سرَ مبارک میں اپنے ہاتھ سے ذَرِیْرَہ اور مُشک آمیز خوشبو لگائی۔ خوشبو کی چمک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ اور داڑھی میں دکھائی پڑتی تھی۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشبو دھوئی نہیں۔ بلکہ برقرار رکھی، پھر اپنا تہبند پہنا، چادر اوڑھی اور دورکعت ظہر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد مصلے ہی پر حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھتے ہوئے صدائے لَبَّیک بلند کی۔ پھر باہر تشریف لائے۔ قَصْوَاء اُونٹنی پر سوار ہوئے۔ اور دوبارہ صدائے لبیک بلند کی۔ اس کے بعد اُونٹنی پر سوار کھلے میدان میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی لبَّیک پُکار ا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا۔ ہفتہ بھر بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر شام مکہ کے قریب پہنچے تو ذی طویٰ میں ٹھہر گئے۔ وہیں رات گذاری اور فجر کی نماز پڑھ کر غسل فرمایا۔ پھر مکہ میں صبح دم داخل ہوئے۔ یہ اتوار ۴ /ذی الحجہ ۱۰ ھ کا دن تھا۔راستے میں آٹھ راتیں گذری تھیں ۔ اوسط رفتار سے اس مسافت کا یہی حساب بھی ہے ۔ مسجد حرام پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ پھر صفا مروہ کے درمیان سعی کی، مگر احرام نہیں کھولا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وعمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا۔ اور اپنے ساتھ ہَدْی (قربانی کے جانور ) لائے تھے۔ طواف وسَعْی سے فارغ ہوکرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالائی مکہ میں حجون کے پاس قیام فرمایا لیکن دوبارہ طواف ِ حج کے سِوا کوئی اور طواف نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ساتھ ہَدْی (قربانی کا جانور ) نہیں لائے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنا احرام عمرہ میں تبدیل کردیں۔ اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سَعْی کر کے پُوری طرح حلال ہوجائیں لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود حلال نہیں ہورہے تھے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تردّد ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنے معاملے کی وہ بات پہلے جان گیا ہوتا جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہَدْی نہ لاتا۔ اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سرِ اطاعت خَم کردیا اور جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہوگئے۔ آٹھ ذی الحجہ ۔ تَرویہ کے دن ۔ آپ مِنی ٰتشریف لے گئے۔ اور وہاں ۹/ ذی الحجہ کی صبح تک قیام فرمایا۔ ظہر، عصر، مغرب ، عشاء اور فجر ( پانچ وقت ) کی نماز یں وہیں پڑھیں۔ پھر اتنی دیر توقف فرمایا کہ سورج طلوع ہوگیا۔ اس کے بعد عرفہ کوچل پڑے۔ وہاں پہنچے تو وادی نِمرَہ میں قبہ تیار تھا۔ اسی میں نزول فرمایا۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قَصْواء پر کجاوہ کسا گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطن وادی میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان ایک جامع خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگو! میری بات سن لو ، کیونکہ میں نہیں جانتا غالباً اپنے اس سال کے بعد اس مقام پر تم سے کبھی نہ مل سکوں گا۔[1] تمہار ا خون اور تمہار ا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے ، جس طرح تمہارے آج کے دن کی ، رواں مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے۔ سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے رونددی گئی۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کردیے گئے۔ اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کررہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے ۔ یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہی ایّام میں قبیلہ ہُذَیْل نے اسے قتل کردیا اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا۔ اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، اب یہ سارا کا سارا سود ختم ہے۔ ہاں ! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے۔ اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں گوارا نہیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن سخت مار نہ مار نا اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاؤ اور پہناؤ۔ اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہاہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑ ے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب۔[2] لوگو ! یاد رکھو ! میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ لہٰذا اپنے رب کی عبادت کرنا۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنا۔ رمضان کے روزے رکھنا۔ خوشی خوشی اپنے مال کی زکوٰۃ دینا، اپنے پروردگار کے گھر کا حج کرنا اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا۔ ایسا کرو گے تو اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوگے۔[1] اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے ؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کردی ، پیغام پہنچادیا۔ اور خیر خواہی کا حق ادا فرمادیا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا : اے اللہ گواہ رہ۔[2] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو ربیعہ بن امیہ بن خلف اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔[3]جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوچکے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾ (المائده ۵: ۳) ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا۔ اورتم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ آیت سن کر رونے لگے۔ دریافت کیاگیا کہ آپ کیوں رورہے ہو؟ فرمایا: اس لیے کہ کمال کے بعد زوال ہی تو ہے ۔[4] خطبہ کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان اور پھر اقامت کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے پھر اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائے وقوف پر تشریف لے گئے۔ اپنی اونٹنی قَصْواء کا شکم چٹانوں کی جانب کیا۔ اور حبل مشاۃ (پیدل چلنے والو ں کی راہ میں واقع ریتیلے تودے ) کو سامنے کیا۔ اور قبلہ رُ خ مسلسل ( اسی حالت میں) وقوف فرمایا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔ تھوڑی زردی ختم ہوئی ، پھر سورج کی ٹکیہ غائب ہوگئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھایا۔ اور وہاں سے روانہ ہوکر مُزْدَلْفہ تشریف لائے۔ مُزْدَلْفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دواقامت سے پڑھیں۔ درمیان میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ اور طلوع فجر تک لیٹے رہے۔ البتہ صبح نمودار ہوتے ہی اذان واقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد قَصْواء پر سوار ہوکر مَشْعَر حَرَام تشریف لائے۔ اور قبلہ رخ ہوکر اللہ سے دعا کی۔ اور اس کی تکبیر وتہلیل اور توحید کے کلمات کہے۔ یہاں اتنی دیرتک ٹھہرے رہے کہ خوب اجالا ہوگیا۔ اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے منیٰ کے لیے روانہ ہوگئے۔ اور اب کی بار حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ بَطنِ مُحسر میں پہنچے تو سواری کو ذرا تیزی سے دوڑایا۔ پھر جو درمیانی راستہ جمرۂ کبریٰ پر نکلتا تھا۔ اس سے چل کر جمرۂ کبریٰ پر پہنچے ____اس زمانے میں وہاں ایک درخت بھی تھا۔ اور جمرۂ کبریٰ اس درخت کی نسبت سے بھی معروف تھا۔ اس کے علاوہ جمرۂ کبریٰ کو جمرہ ٔ عقبہ اور جمرۂ اُ وْلیٰ بھی کہتے ہیں ____پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرۂ کبریٰ کوسات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے جاتے تھے۔ کنکریاں چھوٹی چھوٹی تھیں۔ جنہیں چٹکی میں لے کر چلایا جاسکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کنکریاں بطن وادی میں کھڑے ہوکر ماری تھیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ تشریف لے گئے۔ اور اپنے دست مبارک سے ۶۳ اُونٹ ذبح کیے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سونپ دیا۔ اور انہوں نے بقیہ ۳۷ اونٹ ذبح کیے۔ اس طرح سواونٹ کی تعداد پوری ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنی ہَدْی (قربانی) میں شریک فرمالیا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کرہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس گوشت میں سے کچھ تناول فرمایا، اور اس کا شور باپیا۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوکر مکہ تشریف لے گئے۔ بیت اللہ کا طواف فرمایا ۔ اسے طوافِ افاضہ کہتے ہیں اور مکہ ہی میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر (چاہ زمزم پر )بنوعبد المطلب کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنو عبدالمطلب تم لوگ پانی کھینچو۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ پانی پلانے کے اس کام میں لوگ تمہیں مغلوب کردیں گے تو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ کھینچتا ۔ یعنی اگر صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود پانی کھینچتے ہوئے دیکھتے تو ہر صحابی خود پانی کھینچنے کی کوشش کرتا۔ اور اس طرح حجاج کو زمزم پلانے کا جو شرف بنو عبد المطلب کو حاصل تھا اس کا نظم ان کے قابو میں نہ رہ جاتا ۔ چنانچہ بنو عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ڈول پانی دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے حسبِ خواہش پیا۔[1] آج یو م النحرتھا۔ یعنی ذی الحجہ کی دس تاریخ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آج بھی دن چڑھے (چاشت کے وقت ) ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ خطبہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم خچر پر سوار تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات صحابہ کو سنا رہے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کچھ بیٹھے اور کچھ کھڑے تھے۔ [1]آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کے خطبے میں بھی کل کی کئی باتیں دہرائیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ ) کو خطبہ دیا۔ فرمایا: ’’زمانہ گھوم پھر کر اپنی اسی دن کی ہیئت پر پہنچ گیا ہے جس دن اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے۔ جن میں سے چار مہینے حرام ہیں، تین پے در پے، یعنی ذی قعدہ ذی الحجہ اور محرم اور ایک رجب ِمُضَر جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے درمیان ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہترجانتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ بلدہ (مکہ ) نہیں ہے ؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو یہ دن کون سا ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ یوم النحر(قربانی کادن ، یعنی دس ذی الحجہ ) نہیں ہے ؟ہم نے کہا: کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو سنو کہ تمہار امال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے۔ اور تم لوگ بہت جلد اپنے پروردگار سے ملو گے۔ اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا ، لہٰذا دیکھو ! میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ بتاؤ ! کیا میں نے تبلیغ کردی ؟ صحابہ نے کہا: ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! گواہ رہ۔ جو شخص موجود ہے وہ غیر موجود تک (میری باتیں ) پہنچادے۔ کیونکہ بعض وہ افراد جن تک ( یہ باتیں) پہنچائی جائیں گی وہ بعض ( موجودہ) سننے والے سے کہیں زیادہ ان باتوں کے دَروبست کو سمجھ سکیں گے۔[2] ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا : یادر کھو ! کوئی بھی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر جرم نہیں کرتا۔ (یعنی اس جرم کی پاداش میں کوئی اور نہیں بلکہ خود مجرم ہی پکڑا جائے گا ) یاد رکھو! کوئی جرم کرنے والا اپنے بیٹے پر یاکوئی بیٹا اپنے باپ پر جرم نہیں کرتا۔ (یعنی باپ کے جرم میں بیٹے کو یا بیٹے کے جرم میں باپ کو نہیں پکڑا جائے گا ) یاد رکھو ! شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی بھی اس کی پوجا کی جائے، لیکن اپنے جن اعمال کو تم لوگ حقیر سمجھتے ہو ان میں اس کی اطاعت کی جائے گی اور وہ اسی سے راضی ہوگا۔[1] اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایام تشریق (۱۱۔ ۱۲۔ ۱۳۔ ذی الحجہ کو ) منیٰ میں مقیم رہے۔ اس دورا ن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے مناسک بھی ادا فرمارہے تھے ، اور لوگوں کو شریعت کے احکام بھی سکھا رہے تھے۔ اللہ کا ذکر بھی فرمارہے تھے۔ سنت ابراہیمی کے سنن ہدی بھی قائم کررہے تھے۔ اور شرک کے آثار ونشانات کا صفایا بھی فرمارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق میں بھی ایک دن خطبہ دیا۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں بہ سند حسن مروی ہے کہ حضرت سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رؤس کے دن[2]خطبہ دیا۔ اور فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے۔[3]آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آج کا خطبہ بھی کل (یوم النحر ) کے خطبے جیسا تھا، اور یہ خطبہ سورہ ٔ نصر کے نزول کے بعد دیا گیا تھا۔ ایام تشریق کے خاتمے پر دوسرے یوم النفر یعنی ۱۳۔ ذی الحجہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے کو چ فرمایا۔ اور وادی اَبْطح کے خیف بنی کنانہ میں فروکش ہوئے۔ دن کا باقی ماندہ حصہ اور رات وہیں گذاری۔ اور ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں وہیں پڑھیں۔ البتہ عشاء کے بعد ایک نیند سو کر اٹھے پھر سوار ہوکر بیت اللہ تشریف لے گئے اور طوافِ وداع فرماآئے۔ اور اب تمام مناسک ِ حج سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کا رُخ مدینہ منورہ کی راہ پر ڈال دیا۔ اس لیے نہیں کہ وہاں پہنچ کر راحت فرمائیں، بلکہ اس لیے کہ اب پھر اللہ کی خاطر اللہ کی راہ میں ایک نئی جدوجہد کا آغاز فرمائیں۔ [4]