آسان قرآن
Aasan Quran · 10. Yunus · Ayah 11
وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿11﴾
- وَلَوْاور اگر
- يُعَجِّلُجلد بھیجدیتا
- اللّٰهُاللہ
- لِلنَّاسِلوگوں کو
- الشَّرَّبرائی
- اسْتِعْجَالَھُمْجلد چاہتے ہیں
- بِالْخَيْرِبھلائی
- لَقُضِيَتو پھر ہوچکی ہوتی
- اِلَيْهِمْان کی طرف
- اَجَلُھُمْان کی عمر کی میعاد
- فَنَذَرُپس ہم چھوڑ دیتے ہیں
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- لَا يَرْجُوْنَوہ امید نہیں رکھتے
- لِقَآءَنَاہماری ملاقات
- فِيْمیں
- طُغْيَانِهِمْان کی سرکشی
- يَعْمَهُوْنَوہ بہکتے ہیں
Translation · Aasan Quran
اور اگر اللہ (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) کا نشانہ بنانے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی جلدی وہ اچھائیاں مانگنے میں مچاتے ہیں تو ان کی مہلت تمام کردی گئی ہوتی (5)۔ (لیکن ایسی جلد بازی ہماری حکمت کے خلاف ہے) لہذا جو لوگ ہم سے (آٓخرت میں) ملنے کی توقع نہیں رکھتے، ہم انہیں اس حال پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔
Tafseer · Aasan Quran
5: یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں بھٹکتے رہیں اور ان پر حجت تمام ہوجائے، اور جو سمجھ سے کام لینا چاہتے ہوں، انہیں راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔