Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 10. Yunus · Ayah 24

  1. اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿24﴾

    1. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    2. مَثَلُمثال
    3. الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    4. كَمَآءٍجیسے پانی
    5. اَنْزَلْنٰهُہم نے اسے اتارا
    6. مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
    7. فَاخْتَلَطَتو ملا جلا نکلا
    8. بِهٖاس سے
    9. نَبَاتُ الْاَرْضِزمین کا سبزہ
    10. مِمَّاجس سے
    11. يَاْكُلُکھاتے ہیں
    12. النَّاسُلوگ
    13. وَالْاَنْعَامُاور چوپائے
    14. حَتّٰٓيیہانتک کہ
    15. اِذَآجب
    16. اَخَذَتِپکڑ لی
    17. الْاَرْضُزمین
    18. زُخْرُفَهَااپنی رونق
    19. وَازَّيَّنَتْاور مزین ہوگئی
    20. وَظَنَّاور خیال کیا
    21. اَهْلُهَآزمین والے
    22. اَنَّھُمْکہ وہ
    23. قٰدِرُوْنَقدرت رکھتے ہیں
    24. عَلَيْهَآاس پر
    25. اَتٰىھَآاس پر آیا
    26. اَمْرُنَاہمارا حکم
    27. لَيْلًارات میں
    28. اَوْ نَهَارًایا دن کے وقت
    29. فَجَعَلْنٰھَاتو ہم نے کردیا
    30. حَصِيْدًاکٹا ہوا ڈھیر
    31. كَاَنْگویا کہ
    32. لَّمْ تَغْنَوہ نہ تھی
    33. بِالْاَمْسِکل
    34. كَذٰلِكَاسی طرح
    35. نُفَصِّلُہم کھول کر بیان کرتے ہیں
    36. الْاٰيٰتِآیتیں
    37. لِقَوْمٍلوگوں کے لیے
    38. يَّتَفَكَّرُوْنَجو غور وفکر کرتے ہیں
Translation · Aasan Quran
دنیوی زندگی کی مثال تو کچھ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے زمین سے اگنے والی وہ چیزیں خوب گھنی ہوگئیں جو انسان اور مویشی کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا یہ زیور پہن لیا، اور سنگھار کر کے خوشنما ہوگئی اور اس کے مالک سمجھنے لگے کہ بس اب یہ پوری طرح ان کے قابو میں ہے، تو کسی رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا (کہ اس پر کوئی آفت آجائے) اور ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی سپاٹ زمین میں اس طرح تبدیل کردیا جیسے کل وہ تھی ہی نہیں۔ (12) اسی طرح ہم نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
12: دنیا کی حالت بھی ایسی ہی ہے کہ اس وقت وہ بڑی خوبصورت اور سجی معلوم ہوتی ہے، لیکن اول تو کبھی قیامت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے کسی عذاب کی وجہ سے اس کی ساری خوبصورتی ملیامیٹ ہوتی ہے، دوسرے جب انسان کی موت کا وقت آتا ہے، تب بھی اس کے لئے یہ دنیا اندھیری ہوجاتی ہے، اور اگر ایمان اور عمل صالح کی پونجی پاس نہ ہو تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری خوبصورتی درحقیقت ایک عذاب تھی اور جب قیامت آئے گی تب تو یہ ظاہری زیب وزینت بھی پوری دنیا سے ختم ہوجائے گی۔