Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 10. Yunus · Ayah 98

  1. فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ﴿98﴾

    1. فَلَوْلَاپس کیوں نہ
    2. كَانَتْہوتی
    3. قَرْيَةٌکوئی بستی
    4. اٰمَنَتْکہ وہ ایمان لاتی
    5. فَنَفَعَهَآتو نفع دیتا اس کو
    6. اِيْمَانُهَآاس کا ایمان
    7. اِلَّامگر
    8. قَوْمَ يُوْنُسَقوم یونس
    9. لَمَّآجب
    10. اٰمَنُوْاوہ ایمان لائے
    11. كَشَفْنَاہم نے اٹھا لیا
    12. عَنْھُمْان سے
    13. عَذَابَعذاب
    14. الْخِزْيِرسوائی
    15. فِيمیں
    16. الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    17. وَمَتَّعْنٰھُمْاور نفع پہنچایا انہیں
    18. اِلٰى حِيْنٍایک مدت تک
Translation · Aasan Quran
بھلا کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایسے وقت ایمان لے آتی کہ اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچا سکتا ؟ البتہ صرف یونس کی قوم کے لوگ ایسے تھے۔ (39) جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے اٹھا لیا، اور ان کو ایک مدت تک زندگی کا لطف اٹھانے دیا۔
Tafseer · Aasan Quran
39: پچھلی آیتوں میں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی تھی کہ کسی انسان کے لیے ایمان لانا اسی وقت کار آمد ہوتا ہے جب وہ موت سے پہلے اور عذاب الٰہی کا مشاہدہ کرنے سے ہپلے ایمان لائے۔ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت ایمان لانا کار آمد نہیں ہوتا۔ اس اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ پچھلی جتنی قوموں پر عذاب آیا، ان سب کا حال یہ تھا کہ وہ عذاب کو دیکھنے سے پہلے ایمان نہیں لائے، اس لیے عذاب کا شکار ہوئے۔ البتہ ایک یونس ؑ کی قوم ایسی تھی کہ وہ عذاب کے نازل ہونے سے ذرا پہلے ایمان لے آئی تھی۔ اس لیے اس کا ایمان منظور کرلیا گیا، اور اس کی وجہ سے اس پر آنے والا عذاب ہٹا لیا گیا۔ حضرت یونس ؑ کا واقعہ یہ ہوا تھا کہ جب وہ اپنی قوم کو عذاب کی پیشگوئی کر کے بستی سے چلتے گئے تو ان کی قوم کو ایسی علامتیں نظر آئیں جن سے انہیں حضرت یونس ؑ کے انتباہ کے سچے ہونے کا یقین ہوگیا، چنانچہ وہ عذاب کے آنے سے پہلے ہی ایمان لے آئے۔ حضرت یونس ؑ کے واقعے کی پوری تفصیل انشاء اللہ سورة صافات (139:37) میں آئے گی۔ ان کے واقعے کا مختصر ذکر سورة انبیاء (87:21) اور سورة قلم (48:68) میں بھی آیا ہے۔