Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 11. Hud · Ayah 31

  1. وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿31﴾

    1. وَاور
    2. لَآ اَقُوْلُمیں نہیں کہتا
    3. لَكُمْتمہیں
    4. عِنْدِيْمیرے پاس
    5. خَزَآئِنُ اللّٰهِاللہ کے خزانے
    6. وَاور
    7. لَآ اَعْلَمُمیں نہیں جانتا
    8. الْغَيْبَغیب
    9. وَاور
    10. لَآ اَقُوْلُمیں نہیں کہتا
    11. اِنِّىْکہ میں
    12. مَلَكٌفرشتہ
    13. وَّاور
    14. لَآ اَقُوْلُمیں نہیں کہتا
    15. لِلَّذِيْنَان لوگوں کو جنہیں
    16. تَزْدَرِيْٓحقیر سمجھتی ہیں
    17. اَعْيُنُكُمْتمہاری آنکھیں
    18. لَنْ يُّؤْتِيَهُمُہرگز نہ دے گا انہیں
    19. اللّٰهُاللہ
    20. خَيْرًاکوئی بھلائی
    21. اَللّٰهُاللہ
    22. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    23. بِمَاجو کچھ
    24. فِيْٓ اَنْفُسِهِمْان کے دلوں میں
    25. اِنِّىْٓبیشک میں
    26. اِذًااس وقت
    27. لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَالبتہ ظالموں سے
Translation · Aasan Quran
اور میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میرے قبضے میں اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی ساری باتیں جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔ (16) اور جن لوگوں کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں، ان کے بارے میں بھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ انہیں کبھی کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر میں ان کے بارے میں ایسی باتیں کہوں تو میرا شمار یقینا ظالموں میں ہوگا۔
Tafseer · Aasan Quran
16: یہ اس جاہلانہ خیال کی تردید ہے کہ اللہ کے کسی پیغمبر یا مقرب بندے کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہونے چاہئیں، اور اسے غیب کی ساری باتوں کا علم ہونا چاہیے۔ حضرت نوح ؑ نے واضح فرما دیا کہ کسی نبی یا اللہ کے کسی ولی کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کے خزانے لوگوں میں تقسیم کرے، یا غیب کی ہر بات بتائے۔ اس کا مقصد تو لوگوں کے عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہوتا ہے۔ اس کی ساری تعلیمات اسی مقصد کے گرد گھومتی ہیں۔ لہذا اس سے اس قسم کی توقعات رکھنا نری جہالت ہے۔ اس طرح اس آیت میں ان لوگوں کی ہدایت کا بڑا سامان ہے جو بزرگوں کے پاس اپنے دنیوی مقاصد کے لیے جاتے ہیں۔ اور انہیں دنیوی اور تکوینی امور میں اپنا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں۔ اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ انہیں مستقبل کی ہر بات بتادیا کریں گے۔ جب اللہ تعالیٰ کا اتنا برگزیدہ پیغمبر ان باتوں کو اپنے اختیار سے باہر قرار دے رہا ہے تو کون ہے جو ان اختیارات کا دعوی کرسکے۔ اور حضرت نوح ؑ کے ساتھیوں کے بارے میں کافروں نے جو کہا تھا کہ یہ حقیر لوگ ہیں، اور دل سے ایمان نہیں لائے، اس کا آگے یہ جواب دیا ہے کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ دل سے ایمان نہیں لائے اور اللہ تعالیٰ انہیں کوئی بھلائی یعنی ثواب نہیں دے گا۔