آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 23
وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴿23﴾
- وَرَاوَدَتْهُاور اسے پھسلایا
- الَّتِيْوہ عورت جو
- هُوَاس
- فِيْمیں
- بَيْتِهَااس کا گھر
- عَنْ نَّفْسِهٖاپنے آپ کو روکنے سے
- وَغَلَّقَتِاور بند کردئیے
- الْاَبْوَابَدروازے
- وَقَالَتْاور بولی
- هَيْتَ لَكَآ جا جلدی کر
- قَالَاس نے کہا
- مَعَاذَ اللّٰهِاللہ کی پناہ
- اِنَّهٗبیشک وہ
- رَبِّيْٓمیرا مالک
- اَحْسَنَبہت اچھا
- مَثْوَايَاور رہنا سہنا
- اِنَّهٗبیشک
- لَا يُفْلِحُبھلائی نہیں پاتے
- الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
Translation · Aasan Quran
اور جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے، اس نے ان کو ورغلانے کی کوشش کی، (14) اور سارے دروازوں کو بند کردیا، اور کہنے لگی : آ بھی جاؤ !۔ یوسف نے کہا : اللہ کی پناہ ! وہ میرا آقا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ (15) سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ ظلم کرتے ہیں انہیں فلاح حاصل نہیں ہوتی۔
Tafseer · Aasan Quran
14: یہ وہی عزیز مصر کی بیوی زلیخا تھی جس کا ذکر پچھلے حاشیہ میں گذرا ہے وہ حضرت یوسف ؑ کے غیر معمولی مردانہ حسن پر اتنی فریفتہ ہوئی کہ انہیں گناہ کی دعوت دے بیٹھی۔ قرآن کریم نے اس کا نام لینے کے بجائے یہ فرمایا ہے کہ جس کے گھر میں وہ رہتے تھے اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے لیے اس کی فرمائش سے انکار اور بھی زیادہ مشکل تھا، کیونکہ وہ اسی کے گھر میں قیام پذیر تھے، اور وہ ان پر ایک سے حاکمہ کا درجہ رکھتی تھی۔