آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 54
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ﴿54﴾
- وَقَالَاور کہا
- الْمَلِكُبادشاہ
- ائْتُوْنِيْلے آؤ میرے پاس
- بِهٖٓاس کو
- اَسْتَخْلِصْهُاس کو خاص کروں
- لِنَفْسِيْاپنی ذات کے لیے
- فَلَمَّاپھر جب
- كَلَّمَهٗاس سے بات کی
- قَالَاس نے کہا
- اِنَّكَبیشک تم
- الْيَوْمَآج
- لَدَيْنَاہمارے پاس
- مَكِيْنٌباوقار
- اَمِيْنٌامین
Translation · Aasan Quran
اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو میرے پاس لے آؤ، میں اسے خالص اپنا (معاون) بناؤں گا۔ چنانچہ جب (یوسف بادشاہ کے پاس آگئے اور) بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو اس نے کہا : آج سے ہمارے پاس تمہارا بڑا مرتبہ ہوگا، اور تم پر پورا بھروسہ کیا جائے گا۔ (34)
Tafseer · Aasan Quran
34: بادشاہ نے حضرت یوسف ؑ سے جو باتیں کیں، ان کی تفصیل بعض روایات میں اس طرح آئی ہے کہ اس نے پہلے تو خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف ؑ سے سننے کی خواہش ظاہر کی، اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ کے خواب کی کچھ ایسی تفصیلات اس سے بیان کیں جو بادشاہ نے اب تک کسی اور کو نہیں بتائی تھیں، اس پر وہ نہایت حیرت زدہ ہوا، پھر حضرت یوسف ؑ نے قحط کے سالوں کا انتظام کرنے کے لئے بھی بڑی مفید تجویزیں پیش کیں، جو اسے بہت پسند آئیں اور اسے آپ کی نیکی کا اطمینان ہوگیا، اس موقع پر اس نے آپ سے کہا کہ آپ پر چونکہ ہمیں پورا بھروسہ ہوچکا ہے، اس لئے آپ کا شمار حکومت کے معتمد افراد میں ہوگا، نیز جب حضرت یوسف ؑ نے قحط کے اثرات سے بچنے کی تدبیر بتائی تو بادشاہ نے پوچھا کہ اس کا انتظام کون کرے گا اس پر حضرت یوسف ؑ نے پیشکش کی کہ میں یہ ذمہ داری لینے کو تیار ہوں۔