آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 94
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ﴿94﴾
- وَلَمَّااور جب
- فَصَلَتِجدا جدا (روانہ ہو)
- الْعِيْرُقافلہ
- قَالَکہا
- اَبُوْهُمْان کا باپ
- اِنِّىْبیشک میں
- لَاَجِدُالبتہ پاتا ہوں
- رِيْحَہوا (خوشبو)
- يُوْسُفَیوسف
- لَوْلَآاگر نہ
- اَنْکہ
- تُفَنِّدُوْنِمجھے بہک گیا جانو
Translation · Aasan Quran
اور جب یہ قافلہ (مصر سے کنعان کی طرف) روانہ ہوا تو ان کے والد نے (کنعان میں آس پاس کے لوگوں سے) کہا کہ : اگر تم مجھے یہ نہ کہو کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے، تو مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ (58)
Tafseer · Aasan Quran
58: حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے سب گھر والوں کو مصر لے آئیں۔ چنانچہ وہ ایک قافلے کی صورت میں مصر سے روانہ ہوئے۔ ادھر وہ مسر سے نکلے اور ادھ رکنعان میں حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف ؑ کی خوشبو آنے لگی۔ یہ دونوں پیغمبروں کا معجزہ تھا۔ اور حضرت یعقوب ؑ کے لیے بشارت کہ ان کی آزمائش کا زمانہ ختم ہونے والا ہے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب حضرت یوسف ؑ کنعان کے قریب ہی کنویں میں موجود تھے اس وقت حضرت یعقوب ؑ کو ان کی خوشبو نہیں آئی۔ اس کے علاوہ مصر میں قیام کے دوران بھی انہیں اس سے پہلے اس کا احساس نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ کسی نبی کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں، اس کا مظاہرہ فرما دیتے ہیں۔