آسان قرآن
Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 96
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿96﴾
- فَلَمَّآپھر جب
- اَنْکہ
- جَآءَآیا
- الْبَشِيْرُخوشخبری دینے والا
- اَلْقٰىهُاس نے وہ (کرتہ) ڈالا
- عَلٰيپر
- وَجْهِهٖاس کا منہ
- فَارْتَدَّتو لوٹ کر ہوگیا
- بَصِيْرًادیکھنے والا
- قَالَبولا
- اَلَمْ اَقُلْکیا میں نے تمہیں کہا تھا
- لَّكُمْتم سے
- اِنِّىْٓ اَعْلَمُبیشک میں جانتا ہوں
- مِنَ(طرف) سے
- اللّٰهِاللہ
- مَاجو
- لَا تَعْلَمُوْنَتم نہیں جانتے
Translation · Aasan Quran
پھر جب خوشخبری دینے والا پہنچ گیا تو اس نے (یوسف کی) قمیص ان کے منہ پر ڈال دی، اور فورا ان کی بینائی واپس آگئی۔ (60) انہوں نے (اپنے بیٹوں سے) کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے ؟
Tafseer · Aasan Quran
60: خوشخبری دینے والے حضرت یوسف ؑ کے سب سے بڑے بھائی تھے جن کا نام بعض روایات میں یہوداہ اور بعض میں روبن آیا ہے، اور خوشخبری دینے سے مراد یہ خوشخبری ہے کہ حضرت یوسف ؑ ابھی زندہ ہیں اور انہوں نے سب گھر والوں کو اپنے پاس بلایا ہے، یہ بھی ایک معجزہ تھا کہ حضرت یوسف ؑ کی قمیص چہرے پر ڈالنے سے حضرت یعقوب ؑ کی بینائی واپس آگئی، مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے قمیص سے کئی اہم واقعات ظاہر ہوئے انہی کے قمیص کو ان کے بھائی خون لگا کر لائے تھے، اور اس کو صحیح سالم دیکھ کر حضرت یعقوب ؑ یہ سمجھ گئے تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو بھیڑئے نے نہیں کھایا اور انہی کا قمیص تھا جو زلیخا نے پیچھے سے پھاڑا اور اس سے ان کی بےگناہی ثابت ہوئی، اور اب یہی قمیص تھا جس کی خوشبو حضرت یعقوب ؑ کو دور سے محسوس ہوئی بالآخر اسی سے ان کی بینائی واپس آئی۔