آسان قرآن
Aasan Quran · 17. Al-Israa · Ayah 5
فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا﴿5﴾
- فَاِذَاپس جب
- جَآءَآیا
- وَعْدُوعدہ
- اُوْلٰىهُمَادو میں سے پہلا
- بَعَثْنَاہم نے بھیجے
- عَلَيْكُمْتم پر
- عِبَادًا لَّنَآاپنے بندے
- اُولِيْ بَاْسٍلڑائی والے
- شَدِيْدٍسخت
- فَجَاسُوْاتو وہ گھس پڑے
- خِلٰلَ الدِّيَارِشہروں کے اندر
- وَكَانَاور تھا
- وَعْدًاایک وعدہ
- مَّفْعُوْلًاپورا ہونے والا
Translation · Aasan Quran
چنانچہ جب ان دو واقعات میں سے پہلا واقعہ پیش آیا تو ہم نے تمہارے سروں پر اپنے ایسے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو تھے، اور وہ تمہارے شہروں میں گھس کر پھیل گئے۔ (3) اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے پورا ہو کر رہنا ہی تھا۔
Tafseer · Aasan Quran
3: جب بنو اسرائیل کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئی تھیں تو بابل کے بادشاہ بخت نصر نے ان پر حملہ کرکے ان کا قتل عام کیا تھا اور جو زندہ رہ گئے تھے، انہیں گرفتار کرکے فلسطین سے بابل لے گیا تھا جہاں مدت دراز تک وہ اس کی غلامی میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرتے رہے، اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔