Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 19

  1. وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا﴿19﴾

    1. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    2. بَعَثْنٰهُمْہم نے انہیں اٹھایا
    3. لِيَتَسَآءَلُوْاتاکہ وہ ایکدوسرے سے سوال کریں
    4. بَيْنَهُمْآپس میں
    5. قَالَکہا
    6. قَآئِلٌایک کہنے والا
    7. مِّنْهُمْان میں سے
    8. كَمْ لَبِثْتُمْتم کتنی دیر رہے
    9. قَالُوْاانہوں نے کہا
    10. لَبِثْنَاہم رہے
    11. يَوْمًاایک دن
    12. اَوْیا
    13. بَعْضَ يَوْمٍایک دن کا کچھ حصہ
    14. قَالُوْاانہوں نے کہا
    15. رَبُّكُمْتمہارا رب
    16. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    17. بِمَا لَبِثْتُمْجتنی مدت تم رہے
    18. فَابْعَثُوْٓاپس بھیجو تم
    19. اَحَدَكُمْاپنے میں سے ایک
    20. بِوَرِقِكُمْاپنا روپیہ دے کر
    21. هٰذِهٖٓیہ
    22. اِلَىطرف
    23. الْمَدِيْنَةِشہر
    24. فَلْيَنْظُرْپس وہ دیکھے
    25. اَيُّهَآکون سا ان میں سے
    26. اَزْكٰىپاکیزہ تر
    27. طَعَامًاکھانا
    28. فَلْيَاْتِكُمْتو وہ تمہارے لیے لے آئے
    29. بِرِزْقٍکھانا
    30. مِّنْهُاس سے
    31. وَلْيَتَلَطَّفْاور نرمی کرے
    32. وَاور
    33. لَا يُشْعِرَنَّاور وہ خبر نہ دے بیٹھے
    34. بِكُمْتمہاری
    35. اَحَدًاکسی کو
Translation · Aasan Quran
اور (جیسے ہم نے انہیں سلایا تھا) اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا : تم اس حالت میں کتنی دیر رہے ہوگے ؟ کچھ لوگوں نے کہا : ہم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم (نیند میں) رہے ہوں گے۔ دوسروں نے کہا : تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی دیر اس حالت میں رہے ہو۔ اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو، وہ جاکر دیکھ بھال کرے کہ اس کے کون سے علاقے میں زیادہ پاکیزہ کھانا (مل سکتا) ہے۔ (12) پھر تمہارے پاس وہاں سے کچھ کھانے کو لے آئے، اور اسے چاہیے کہ ہوشیاری سے کام کرے، اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔
Tafseer · Aasan Quran
12: پاکیزہ کھانے سے مراد بظاہر حلال کھانا ہے ان حضرات کو فکر یہ تھی کہ بت پرستوں کے شہر میں حلال کھانا ملنا آسان نہیں۔ اس لیے جانے والے کو یہ تاکید کی کہ وہ ایسی جگہ سے کھانا لائے جہاں حلال کھانا میسر ہو۔ نیز چونکہ ان کے خیال میں ابھی تک اسی بت پرست بادشاہ کی حکومت تھی، اس لیے انہیں دوسری فکر یہ تھی کہ کہیں کسی کو ان کے غار میں چھپنے کا پتہ نہ لگ جائے۔ اس لیے جانے والے کو دوسری تاکید یہ کی کہ ہوشیاری سے جا کر کھانا لائے۔