Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 121

  1. فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ﴿121﴾

    1. فَاَكَلَاپس دونوں نے کھایا
    2. مِنْهَااس سے
    3. فَبَدَتْتو ظاہر ہوگئیں
    4. لَهُمَاان پر
    5. سَوْاٰتُهُمَاان کی شرم گاہیں
    6. وَاور
    7. طَفِقَا يَخْصِفٰنِوہ دونوں لگے جوڑنے (ڈھانپنے)
    8. عَلَيْهِمَااپنے اوپر
    9. مِنْسے
    10. وَّرَقِ الْجَنَّةِجنت کے پتے
    11. وَعَصٰٓىاور نافرمانی کی
    12. اٰدَمُآدم
    13. رَبَّهٗاپنا رب
    14. فَغَوٰىتو وہ بہک گیا
Translation · Aasan Quran
چنانچہ ان دونوں نے اس درخت میں سے کچھ کھالیا جس سے ان دونوں کے شرم کے مقامات ان کے سامنے کھل گئے، اور وہ دونوں جنت کے پتوں کو اپنے اوپر گانٹھنے لگے۔ اور (اس طرح) آدم نے اپنے رب کا کہا ٹالا، اور بھٹک گئے۔ (52)
Tafseer · Aasan Quran
52: سورة بقرہ میں ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ حضرت آدم ؑ کی اجتہادی غلطی تھی جس کی حقیقت اوپر آیت نمبر 115 میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان سے بھول ہوگئی، اور اجتہادی غلطی اور بھول میں جو کام کیا جاتا ہے، وہ گناہ نہیں ہوتا، لیکن چونکہ پیغمبروں کی شان بہت بلند ہوتی ہے، اس لیے ان سے اس قسم کی اجتہادی غلطی کا سرزد ہونا بھی ان کے شایان شان نہیں ہوتا، اس لیے اسے حکم ٹالنے اور بھٹکنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس پر بھی توبہ کی تلقین فرمائی گئی ہے۔