آسان قرآن
Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 51
قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى﴿51﴾
- قَالَاس نے کہا
- فَمَاپھر کیا
- بَالُحال
- الْقُرُوْنِجماعتیں
- الْاُوْلٰىپہلی
Translation · Aasan Quran
فرعون بولا : اچھا پھر ان قوموں کا کیا معاملہ ہوا جو پہلے گزر چکی ہیں ؟ (21)
Tafseer · Aasan Quran
21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے معاذ اللہ کوئی بھول چوک ہوگئی ہے بلکہ یہ اس کی حکمت کا فیصلہ ہے کہ اس کو دنیا کے بجائے آخرت میں عذاب دیا جائے۔