Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 77

  1. وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى﴿77﴾

    1. وَلَقَدْ اَوْحَيْنَآاور تحقیق ہم نے وحی کی
    2. اِلٰىطرف۔ کو
    3. مُوْسٰٓىموسیٰ
    4. اَنْ اَسْرِکہ راتوں رات لے جا
    5. بِعِبَادِيْمیرے بندے
    6. فَاضْرِبْپس بنا لینا
    7. لَهُمْان کے لیے
    8. طَرِيْقًاراستہ
    9. فِي الْبَحْرِدریا میں
    10. يَبَسًاخشک
    11. لَّانہ
    12. تَخٰفُخوف ہوگا
    13. دَرَكًاپکڑنا
    14. وَّلَا تَخْشٰىاور نہ ڈر
Translation · Aasan Quran
اور ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ : تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ (28) پھر ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ اس طرح نکال لینا کہ نہ تمہیں (دشمن کے) آپکڑنے کا اندیشہ رہے، اور نہ کوئی اور خوف ہو (29)
Tafseer · Aasan Quran
28: جادوگروں سے مقابلے میں فتح پانے کے بعد بھی حضرت موسیٰ ؑ کافی عرصے مصر میں رہے۔ اور اس دوران فرعون کو ان کی تبلیغ بھی جاری رہی، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعدد نشانیاں بھی دکھائی جاتی رہیں، جن کا ذکر سورة اعراف میں گذرا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ٰیہ حکم دیا کہ تمام بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں 29: یعنی تمہارے راستے میں سمندر آئے گا، تم اپنا عصا اس پر مارو گے تو اس میں تمہاری قوم کے گذرنے کے لیے خشک راستہ بن جائے گا۔ اس کی تفصیل سورة یونس : 89 تا 92 میں بھی گذری ہے، اور سورة شعراء : 60 تا 66 میں بھی آئے گی۔ چونکہ یہ راستہ اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لیے پیدا کیا ہوگا۔ اس لیے فرعون کا لشکر اس سے گذر کر تمہیں نہیں پکڑ سکے گا۔ لہذا نہ تمہیں پکڑے جانے کا خوف ہوگا، نہ ڈوب جانے کا