آسان قرآن
Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 90
وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ﴿90﴾
- وَاور
- لَقَدْ قَالَتحقیق کہا
- لَهُمْان سے
- هٰرُوْنُہارون
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- فُتِنْتُمْتم آزمائے گئے
- بِهٖاس سے
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكُمُتمہارا رب
- الرَّحْمٰنُرحمن ہے
- فَاتَّبِعُوْنِيْسو میری پیروی کرو
- وَاَطِيْعُوْٓااور اطاعت کرو (مانو)
- اَمْرِيْمیری بات
Translation · Aasan Quran
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! تم اس (بچھڑے) کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوگئے ہو، اور حقیقت میں تمہارا رب تو رحمن ہے، اس لیے تم میرے پیچھے چلو اور میری بات مانو (37)
Tafseer · Aasan Quran
37: قرآن کریم کی اس آیت نے بائبل کی اس روایت کی واضح طور پر تردید فرما دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت ہارون ؑ خود بھی (معاذ اللہ) بچھڑے کی پرستش میں مبتلا ہوگئے تھے (دیکھئے خروج 1 تا 6) یہ روایت اس لیے بھی قطعی طور پر لغو ہے کہ حضرت ہارون ؑ نبی تھے، اور کسی نبی کے شرک میں ملوث ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔