Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 44

  1. بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴿44﴾

    1. بَلْبلکہ
    2. مَتَّعْنَاہم نے سازوسامان دیا
    3. هٰٓؤُلَآءِان کو
    4. وَاٰبَآءَهُمْاور ان کے باپ دادا
    5. حَتّٰىیہانتک کہ
    6. طَالَدراز ہوگئی
    7. عَلَيْهِمُان پر۔ کی
    8. الْعُمُرُعمر
    9. اَفَلَا يَرَوْنَکیا پس وہ نہیں دیکھتے
    10. اَنَّا نَاْتِيکہ ہم آرہے ہیں
    11. الْاَرْضَزمین
    12. نَنْقُصُهَااس کو گھٹاتے ہوئے
    13. مِنْسے
    14. اَطْرَافِهَااس کے کنارے (جمع)
    15. اَفَهُمُکیا پھر وہ
    16. الْغٰلِبُوْنَغالب آنے والے
Translation · Aasan Quran
بلکہ معاملہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباؤاجداد کو سامان عیش عطا کیا، یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان پر ایک عمر گزر گئی۔ (21) بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو اس کے مختلف کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ (22) پھر کیا وہ غالب آجائیں گے ؟
Tafseer · Aasan Quran
21: یعنی ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو عیش و عشرت کا جو سامان دے دیا تھا، اس سے وہ لمبے عرصے تک مزے اراتے رہے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ ان کا حق ہے، اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس غرور میں مبتلا ہو کر وہ حق کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ 22: یہ وہی بات ہے جو سورة رعد آیت 41 میں بھی گذری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب کے مختلف اطراف سے شرک اور مشرکین کا اثر و رسوخ گھٹتا چلا جا رہا ہے، اور اسلام اور مسلمانوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔