آسان قرآن
Aasan Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ﴿115﴾
- اَفَحَسِبْتُمْکیا تم خیال کرتے ہو
- اَنَّمَاکہ
- خَلَقْنٰكُمْہم نے تمہیں پیدا کیا
- عَبَثًاعبث (بیکار)
- وَّاَنَّكُمْاور یہ کہ تم
- اِلَيْنَاہماری طرف
- لَا تُرْجَعُوْنَنہیں لوٹائے جاؤگے
Translation · Aasan Quran
بھلا کیا تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہیں یونہی بےمقصد پیدا کردیا، (36) ، اور تمہیں واپس ہمارے پاس نہیں لایا جائے گا ؟
Tafseer · Aasan Quran
36: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، ان کے موقف کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بےمقصد پیدا کردی ہے۔ یہاں جس کے جو جی میں آئے کرتا رہے۔ اس کا کوئی بدلہ کسی اور زندگی میں ملنے والا نہیں ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی حکمت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی غلط بات منسوب کرے، لہذا آخرت پر ایمان اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا منطقی تقاضا ہے۔