Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 39

  1. فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿39﴾

    1. فَنَادَتْهُتو آواز دی اس کو
    2. الْمَلٰٓئِكَةُفرشتہ (جمع)
    3. وَھُوَاور وہ
    4. قَآئِمٌکھڑے ہوئے
    5. يُّصَلِّيْنماز پڑھنے
    6. فِيمیں
    7. الْمِحْرَابِمحراب (حجرہ)
    8. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    9. يُبَشِّرُكَتمہیں خوشخبری دیتا ہے
    10. بِيَحْيٰىیحییٰ کی
    11. مُصَدِّقًاتصدیق کرنیوالا
    12. بِكَلِمَةٍحکم
    13. مِّنَسے
    14. اللّٰهِاللہ
    15. وَسَيِّدًااور سردار
    16. وَّحَصُوْرًااور نفس کو قابو رکھنے والا
    17. وَّنَبِيًّااور نبی
    18. مِّنَسے
    19. الصّٰلِحِيْنَنیکو کار (جمع)
Translation · Aasan Quran
چنانچہ (ایک دن) جب زکریا عبادت گاہ میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، فرشتوں نے انہیں آواز دی کہ : اللہ آپ کو یحی کی (پیدائش) کی خوشخبری دیتا ہے جو اس شان سے پیدا ہوں گے کہ اللہ کے ایک کلمے کی تصدیق کریں گے، (13) لوگوں کے پیشوا ہوں گے، اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے مکمل طور پر روکے ہوئے ہوں گے، (14) اور نبی ہوں گے اور ان کا شمار راست بازوں میں ہوگا۔
Tafseer · Aasan Quran
13: اللہ کے کلمے سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ ہیں جیسا کہ اس سورت کے شروع میں اوپر واضح کیا گیا ہے انہیں کلمۃ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ باپ کے بغیر اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے تھے، حضرت یحییٰ ؑ ان سے پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد کی تصدیق فرمائی۔ 14: یہاں حضرت یحییٰ ؑ کی ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات پر قابو رکھنے والے ہوں گے، یہ صفت اگرچہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں پائی جاتی ہے ؛ لیکن ان کا خاص طور سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس درجہ مشغول رہتے تھے کہ ان کو نکاح کرنے کی طرف رغبت نہیں ہوئی، اگرچہ عام حالات میں نکاح سنت ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے ؛ لیکن اگر کوئی شخص اپنے نفس پر اتنا قابو یافتہ ہو جیسے حضرت یحییٰ ؑ تھے تو اس کے لئے کنوارا رہنا بلا کراہت جائز ہے۔