آسان قرآن
Aasan Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 44
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ﴿44﴾
- ذٰلِكَیہ
- مِنْسے
- اَنْۢبَآءِخبریں
- الْغَيْبِغیب
- نُوْحِيْهِہم یہ وحی کرتے ہیں
- اِلَيْكَتیری طرف
- وَمَا كُنْتَاور تو نہ تھا
- لَدَيْهِمْان کے پاس
- اِذْجب
- يُلْقُوْنَوہ ڈالتے تھے
- اَقْلَامَھُمْاپنے قلم
- اَيُّھُمْکون۔ ان
- يَكْفُلُپرورش کرے
- مَرْيَمَمریم
- وَمَااور نہ
- كُنْتَتو نہ تھا
- لَدَيْهِمْان کے پاس
- اِذْجب
- يَخْتَصِمُوْنَوہ جھگڑتے تھے
Translation · Aasan Quran
(اے پیغمبر) یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہیں دے رہے ہیں، تم اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ یہ طے کرنے کے لیے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا، (17) اور نہ اس وقت تم ان کے پاس تھے جب وہ (اس مسئلے میں) ایک دوسرے سے اختلاف کررہے تھے۔
Tafseer · Aasan Quran
17: جیسا کے اوپر آیت نمبر : 34 میں ذکر کیا گیا، حضرت مریم ؓ کے والد کی وفات کے بعد ان کی کفالت کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا، اس زمانے میں قرعہ قلموں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا اس لئے یہاں قلم ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔