Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 30. Ar-Room · Ayah 3

  1. فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ﴿3﴾

    1. فِيْٓمیں
    2. اَدْنَى الْاَرْضِقریب کی زمین
    3. وَهُمْاور وہ
    4. مِّنْۢ بَعْدِبعد
    5. غَلَبِهِمْاپنے مغلوب ہونے
    6. سَيَغْلِبُوْنَعنقریب وہ غالب ہوں گے
Translation · Aasan Quran
قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ (1)
Tafseer · Aasan Quran
1: اس پیشینگوئی کی تفصیل اوپر سورت کے تعارف میں آچکی ہے، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ”چند سالوں“ کے لیے قرآن کریم نے ”بضع“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا ترجمہ اردو میں ”چند“ کیا جاتا ہے، لیکن عربی زبان میں ”بضع“ کا لفظ تین سے لے کر نو تک کیلئے بولا جاتا ہے۔ چنانچہ شروع میں ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر ؓ سے جو شرط لگائی تھی، وہ یہ تھی کہ اگر تین سال کے اندر اندر رومی فتح پا گئے تو وہ حضرت ابوبکر ؓ کو دس اونٹ دے گا، ورنہ حضرت ابوبکر ؓ اس کو دس اونٹ دیں گے۔ جب حضرت ابوبکر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس شرط کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں ”بضع“ کا لفظ آیا ہے، اور اس میں تین سے لے کر نو سال تک کا احتمال ہے، اس لیے تم ابی بن خلف سے دس کے بجائے سو اونٹوں کی شرط لگا لو، البتہ مدت کو تین سال سے بڑھا کر نو سال کردو۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے ایسا ہی کیا۔ چونکہ رومیوں کے فتح پانے کا دور دور بھی کوئی احتمال نظر نہیں آتا تھا، اس لیے ابی بن خلف بھی اس پر راضی ہوگیا، اور اب شرط یہ قرار پائی کہ اگر نو سال کے اندر اندر رومی غالب آگئے تو ابی بن خلف سو اونٹ حضرت ابوبکر ؓ کو دے گا، ورنہ حضرت ابوبکر ؓ اس کو سو اونٹ دیں گے۔ اور یہ بات اوپر عرض کی جا چکی ہے کہ اس وقت ایسی شرط لگانا حرام نہیں ہوا تھا، لیکن جب یہ پیشینگوئی پوری ہوگئی اور ابی بن خلف کے بیٹے نے سو اونٹ حضرت ابوبکر ؓ کو ادا کیے تو اس وقت ایسی شرط لگانا جائز نہیں رہا تھا اس لیے آنحضرت ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ان اونٹوں کو صدقہ کردیں۔