آسان قرآن
Aasan Quran · 31. Luqman · Ayah 15
وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿15﴾
- وَاِنْاور اگر
- جَاهَدٰكَوہ تیرے ساتھ کوشش کریں
- عَلٰٓيپر (کی)
- اَنْ تُشْرِكَکہ تو شیرک ٹھہرائے
- بِيْمیرا
- مَا لَيْسَجس کا نہیں
- لَكَتجھے
- بِهٖاس کا
- عِلْمٌ ۙکوئی علم
- فَلَا تُطِعْهُمَاتو ان دونوں کا کہا نہ مان
- وَصَاحِبْهُمَااور ان کے ساتھ بسر کر
- فِي الدُّنْيَادنیا میں
- مَعْرُوْفًا ۡاچھے طریقے سے
- وَّاتَّبِعْاور تو پیروی کر
- سَبِيْلَراستہ
- مَنْجو
- اَنَابَرجوع کرے
- اِلَيَّ ۚمیری طرف
- ثُمَّپھر
- اِلَيَّمیری طرف
- مَرْجِعُكُمْتمہیں لوٹ کر آنا ہے
- فَاُنَبِّئُكُمْسو میں تمہیں آگاہ کروں گا
- بِمَاجو کچھ
- كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَتم کرتے تھے
Translation · Aasan Quran
اور اگر وہ تم پر یہ زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو (خدائی میں) شریک قرار دو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی بات مت مانو، اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے رہو، (8) اور ایسے شخص کا راستہ اپناؤ جس نے مجھ سے لو لگا رکھی ہو۔ (9) پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
Tafseer · Aasan Quran
8: دین کے معاملے میں اگر والدین کوئی غلط بات کہیں تو ان کی بات ماننا تو جائز نہیں ہے ؛ لیکن ان کی بات رد کرنے کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جو ان کے لئے تکلیف دہ نہ ہو، یا جس سے وہ اپنی توہین محسوس کریں، بلکہ نرم الفاظ میں ان کو بتادینا چاہیے کہ میں آپ کی یہ بات ماننے سے معذور ہوں اور صرف اتنا ہی نہیں اپنے عام برتاؤ میں بھی ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرتے رہنا چاہیے، مثلاً ان کی خدمت کرنا، ان کی مالی امداد کرنا، وہ بیمارہوجائیں تو ان کی تیمار داری کرنا وغیرہ۔
9: چونکہ والدین غلط راستے پر ہیں، اس لئے ان کا غلط راستہ اپنانا جائز نہیں ؛ بلکہ راستہ انہی کا اپنانا چاہیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کیا ہوا ہو، یعنی وہ اسی کی عبادت اور اطاعت کرتے ہوں، اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دین پر عمل بھی صرف اپنی سمجھ اور رائے سے نہیں کرنا چاہیے ؛ بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ بات واضح طور پر معلوم ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے لولگائی ہوئی ہے، ان کو دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے دین پر کس طرح عمل کیا، اور پھر انہی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اسی لئے کہا جاتا ہے اور بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ قرآن و حدیث کے صرف ذاتی مطالعے پر کوئی ایسا نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے، جو امت کے علماء اور بزرگوں کی تشریح کے خلاف ہو۔