Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 51

  1. تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا﴿51﴾

    1. تُرْجِيْدور رکھیں
    2. مَنْ تَشَآءُجس کو آپ چاہیں
    3. مِنْهُنَّان میں سے
    4. وَ تُئْوِيْٓاور پاس رکھیں
    5. اِلَيْكَاپنے پاس
    6. مَنْ تَشَآءُ ۭجسے آپ چاہیں
    7. وَمَنِاور جس کو
    8. ابْتَغَيْتَآپ طلب کریں
    9. مِمَّنْان میں سے جو
    10. عَزَلْتَدور کردیا تھا آپ نے
    11. فَلَا جُنَاحَتو کوئی تنگی نہیں
    12. عَلَيْكَ ۭآپ پر
    13. ذٰلِكَ اَدْنٰٓىیہ زیادہ قریب ہے
    14. اَنْ تَقَرَّکہ ٹھنڈی رہیں
    15. اَعْيُنُهُنَّان کی آنکھیں
    16. وَلَا يَحْزَنَّاور وہ آزردہ نہ ہوں
    17. وَيَرْضَيْنَاور وہ راضی رہیں
    18. بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّاس پر جو آپ نے انہیں دیں
    19. كُلُّهُنَّ ۭوہ سب کی سب
    20. وَاللّٰهُاور اللہ
    21. يَعْلَمُجانتا ہے
    22. مَاجو
    23. فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭتمہارے دلوں میں
    24. وَكَانَاور ہے
    25. اللّٰهُاللہ
    26. عَلِيْمًاجاننے والا
    27. حَلِيْمًابردبار
Translation · Aasan Quran
ان بیویوں میں سے تم جس کی باری چاہو ملتوی کردو، اور جس کو چاہو، اپنے پاس رکھو، اور جن کو تم نے الگ کردیا ہو ان میں سے اگر کسی کو واپس بلانا چاہو تو اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔ (41) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان سب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، اور انہیں رنج نہیں ہوگا اور تم انہیں جو کچھ دے دو گے اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں گی۔ (42) اور اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں اور اللہ علم اور حلم کا مالک ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
41: عام مسلمانوں پر یہ بات فرض ہے کہ اگر ان کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو وہ ہر معاملے میں ان کے ساتھ برابری کا سلوک کریں، چنانچہ جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ گزاریں اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کے ساتھ گزارنا فرض ہے، لیکن اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے لئے باریاں مقرر کرنے کی یہ پابندی اٹھالی گئی ہے، چنانچہ آپ کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کی باری ملتوی فرماسکتے ہیں، لیکن یہ بھی وہ سہولت ہے جس سے آنحضرت ﷺ نے زندگی بھر فائدہ نہیں اٹھایا اور ہمیشہ تمام ازواج مطہرات سے مکمل برابری کا معاملہ فرمایا۔ 42: مطلب یہ ہے کہ جب ازواج مطہرات پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر برابری کا معاملہ کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں فرمائی، تو آپ کی طرف سے ان کے ساتھ جتنا بھی حسن سلوک ہوگا، وہ اسے اپنے استحقاق سے زیادہ سمجھ کر خوش ہوں گی۔