آسان قرآن
Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 19
فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴿19﴾
- فَقَالُوْاوہ کہنے لگے
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- بٰعِدْدوری پیدا کرے
- بَيْنَ اَسْفَارِنَاہمارے سفروں کے درمیان
- وَظَلَمُوْٓااور انہوں نے ظلم کیا
- اَنْفُسَهُمْاپنی جانوں پر
- فَجَعَلْنٰهُمْتو ہم نے بنادیا انہیں
- اَحَادِيْثَافسانے
- وَمَزَّقْنٰهُمْاور ہم نے انہیں پراگندہ کردیا
- كُلَّ مُمَزَّقٍ ۭپوری طرح پراگندہ
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيٰتٍنشانیاں
- لِّكُلِّ صَبَّارٍہر بڑے صبر کرنے والے
- شَكُوْرٍشکر گزارے
Translation · Aasan Quran
اس پر وہ کہنے لگے کہ : ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر کی منزلوں کے درمیان دور دور کے فاصلے پیدا کردے، اور یوں انہوں نے اپنی جانوں پر ستم ڈھایا، جس کے نتیجے میں ہم نے انہیں افسانہ ہی افسانہ بنادیا، اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بالکل تتر بتر کردیا۔ (13) یقینا اس واقعے میں ہر اس شخص کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو صبر و شکر کا خوگر ہو۔
Tafseer · Aasan Quran
13: یہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور انعام کا ذکر ہے جو سبا کی قوم پر فرمایا گیا تھا، یہ لوگ تجارتی مقاصد کے لئے یمن سے شام کا سفر کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سہولت کے لئے یہ انتظام فرمایا تھا کہ یمن سے لے کر شام تک کے پورے علاقے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں بسائی تھیں، جو سفر کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے سے نظر آتی رہتی تھیں، اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سفر کو آسان مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا تھا اور مسافر جہاں چاہے کھانے پینے اور سونے کے لئے ٹھہر سکتا تھا، اور دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اس طرح بستیوں کے تسلسل کی وجہ سے نہ چوری ڈاکے کا خطرہ تھا، نہ راستہ بھٹک جانے کا، نہ کھانے پینے کے سامان کے ختم ہوجانے کا ؛ لیکن بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس نعمت کی قدر پہچان کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے، انہوں نے الٹا اللہ تعالیٰ سے یہ کہنا شروع کردیا کہ بستیوں کے اس تسلسل کی وجہ سے ہمیں سفر کی مہم جوئی کا مزہ ہی نہیں آتا، اس لئے یہ بستیاں ختم کرکے منزلوں کا فاصلہ بڑھا دیجئے ؛ تاکہ صحراؤں اور جنگلوں میں سفر کرنے کا لطف آئے۔