آسان قرآن
Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 46
قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ﴿46﴾
- قُلْفرما دیں
- اِنَّمَآ اَعِظُكُمْمیں صرف نصیحت کرتا ہوں تمہیں
- بِوَاحِدَةٍ ۚایک بات کی
- اَنْ تَقُوْمُوْاکہ تم کھڑے ہوجاؤ
- لِلّٰهِاللہ کے واسطے
- مَثْنٰىدو ، دو
- وَفُرَادٰىاور اکیلے اکیلے
- ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا ۣپھر تم غور کرو
- مَا بِصَاحِبِكُمْنہیں تمہارے اس ساتھی کو
- مِّنْ جِنَّةٍ ۭکوئی جنون
- اِنْنہیں
- هُوَوہ
- اِلَّامگر۔ صرف
- نَذِيْرٌڈرانے والے
- لَّكُمْتمہیں
- بَيْنَ يَدَيْآگے ( آنے سے پہلے)
- عَذَابٍ شَدِيْدٍسخت عذاب
Translation · Aasan Quran
(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم چاہے دو دو مل کر اور چاہے اکیلے اکیلے اللہ کی خاطر اٹھ کھڑے ہو۔ (21) پھر (انصاف سے) سوچو (توفورا سمجھ میں آجائے گا کہ) تمہارے اس ساتھی (یعنی محمد ﷺ میں جنون کی کوئی بات بھی تو نہیں ہے۔ وہ تو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے تمہیں خبردار کررہے ہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
21: اٹھ کھڑا ہونا اہتمام اور سنجیدگی سے کنایہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تک تم لوگوں نے سنجیدگی نہیں کی، اس لیے یہ بےبنیاد الزام لگا رہے ہو کہ (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ جنون میں مبتلا ہیں۔ سنجیدگی سے سوچنے کا تقاضا یہ ہے کہ اول تو اس مسئلے کی اہمیت محسوس کرو، دوسرے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت سے سوچو، اور کبھی اکیلے سوچنے سے فائدہ ہوتا ہے، کبھی اجتماعی طور پر سوچنے سے، اس لیے دونوں صورتیں ذکر فرمائی گئی ہیں۔