Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 8

  1. اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ﴿8﴾

    1. اَفْتَرٰىاس نے باندھا
    2. عَلَي اللّٰهِاللہ پر
    3. كَذِبًاجھوٹ
    4. اَمْیا
    5. بِهٖاسے
    6. جِنَّةٌ ۭجنون
    7. بَلِبلکہ
    8. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    9. لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں رکھتے
    10. بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
    11. فِي الْعَذَابِعذاب میں
    12. وَالضَّلٰلِاور گمراہی
    13. الْبَعِيْدِدور
Translation · Aasan Quran
پتہ نہیں اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اسے کسی طرح کا جنون لاحق ہے ؟ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ خود عذاب میں اور پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (2)
Tafseer · Aasan Quran
2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مذکورہ بات کا جواب ہے۔ انہوں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں دو احتمال ذکر کیے تھے۔ ایک یہ کہ (معاذ اللہ) آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے مرادف ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے عذاب الٰہی کو دعوت دینے والا کوئی کام نہیں کیا، اس کے برعکس آخرت کے منکرین ضرور عذاب کا کام کر رہے ہیں۔ دوسرا احتمال کافروں نے یہ ذکر کیا تھا کہ (معاذ اللہ) آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے، اور جنون کی حالت میں اگرچہ عذاب نہیں ہوتا، لیکن مجنون راستے سے بھٹکا ہوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آپ نہیں، بلکہ منکرین آخرت پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔