آسان قرآن
Aasan Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 140
اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ﴿140﴾
- اِذْجب
- اَبَقَبھاگ گئے وہ
- اِلَىطرف
- الْفُلْكِکشتی
- الْمَشْحُوْنِبھری ہوئی
Translation · Aasan Quran
جب وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے۔ (26)
Tafseer · Aasan Quran
26: حضرت یونس ؑ کا واقعہ اختصار کے ساتھ سورة یونس (10۔ 98) میں بھی گزر چکا ہے، اور سورة انبیاء (21۔ 87) میں بھی۔ وہ عراق کے شہر نینوا میں بھیجے گئے تھے، اور انہوں نے ایک عرصے تک اپنی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور جب وہ نہ مانی تو انہیں متنبہ کردیا کہ اب تم پر تین دن کے اندر اندر عذاب آکر رہے گا، قوم کے لوگوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ حضرت یونس ؑ چونکہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اس لئے اگر وہ بستی سے چلے جاتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، اس کے بعد حضرت یونس ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہ بستی چھوڑ کر باہر چلے گئے، ادھر بستی کے لوگوں نے جب دیکھا کہ آپ بستی میں نہیں ہیں اور کچھ عذاب کے آثار بھی محسوس کئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ توبہ کی جس کے نتیجے میں ان سے عذاب ٹل گیا، حضرت یونس ؑ کو ان کی توبہ کا حال معلوم نہیں تھا، اور جب انہوں نے یہ دیکھا کہ تین دن گزرگئے اور عداب نہیں آیا تو انہیں ڈرہوا کہ اگر میں بستی میں واپس جاؤں گا تو بستی والے مجھے جھوٹا بنائیں گے، اور اندیشہ یہ بھی تھا کہ جھوٹا سمجھ کر قتل نہ کردیں، اس لئے اس خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم آنے سے پہلے ہی وہ اپنی بستی میں جانے کے بجائے سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوئے اور ایک کشتی میں سوار ہوگئے جو آدمیوں سے بھری ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ کے ایک جلیل القدر پیغمبر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ بات پسند نہیں آئی کہ آپ اللہ تعالیٰ کا حکم آنے سے پہلے بستی کو چھوڑ کر کیوں چلے گئے، بڑے لوگوں کی معمولی چوک پر بھی گرفت ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ کشتی وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈدبنے کے قریب آگئی، اور قرعہ اندازی کی گئی کہ ایک شخص کو کشتی سے باہر پانی میں اتارا جائے، کئی مرتبہ قرعہ ڈالا گیا اور ہر بار قرعے میں انہی کا نام نکلا، چنانچہ انہیں پانی میں پھینک دیا گیا، جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی آپ کی منتظر تھی، اس نے آپ کو نگل لیا اور آپ کچھ عرصے مچھلی کے پیٹ میں رہے، جیسا کہ سورة ٔانبیاء میں گزرا ہے، وہاں آپ یہ تسبیح پڑھتے رہے کہ : لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَکَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔