Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 51

  1. وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ﴿51﴾

    1. وَمَا كَانَاور نہیں ہے
    2. لِبَشَرٍکسی بشر کے لیے
    3. اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُکہ کلام کرے اس سے اللہ
    4. اِلَّا وَحْيًامگر وحی کے طور پر
    5. اَوْ مِنْیا، سے
    6. وَّرَآئِ حِجَابٍپردے کے پیچھے سے
    7. اَوْ يُرْسِلَیا وہ بھیجتے
    8. رَسُوْلًاکوئی پہنچانے والا
    9. فَيُوْحِيَتو وہ وحی کرے
    10. بِاِذْنِهٖساتھ اس کے اذن کے
    11. مَا يَشَآءُجو وہ چاہے
    12. اِنَّهٗیقینا وہ
    13. عَلِيٌّ حَكِيْمٌبلند ہے، حکمت والا ہے
Translation · Aasan Quran
اور کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے (روبرو) بات کرے۔ (10) سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام لانے والا (فرشتہ) بھیج دے، اور وہ اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کا پیغام پہنچا دے۔ یقینا وہ بہت اونچی شان والا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
10: اس دنیا میں کسی انسان سے اللہ تعالیٰ روبرو ہو کر ہم کلام نہیں ہوتا، البتہ تین طریقوں سے کوئی طریقہ اختیار فرماتا ہے، ایک کو وحی سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بات فرمانا چاہتا ہے، وہ کسی کے دل میں ڈال دیتا ہے، دوسرے کو پردے کے پیچھے سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی صورت نظر آئے بغیر کوئی بات کانوں کے ذریعے ہی سنادی جاتی ہے، جیسے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوا تھا، اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنا کلام کسی فرشتے کے ذریعے کسی پیغمبر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔