Aasan Quran - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے (روبرو) بات کرے۔ (10) سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام لانے والا (فرشتہ) بھیج دے، اور وہ اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کا پیغام پہنچا دے۔ یقینا وہ بہت اونچی شان والا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔
10: اس دنیا میں کسی انسان سے اللہ تعالیٰ روبرو ہو کر ہم کلام نہیں ہوتا، البتہ تین طریقوں سے کوئی طریقہ اختیار فرماتا ہے، ایک کو وحی سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بات فرمانا چاہتا ہے، وہ کسی کے دل میں ڈال دیتا ہے، دوسرے کو پردے کے پیچھے سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی صورت نظر آئے بغیر کوئی بات کانوں کے ذریعے ہی سنادی جاتی ہے، جیسے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوا تھا، اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنا کلام کسی فرشتے کے ذریعے کسی پیغمبر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔
Top