آسان قرآن
Aasan Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 14
قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿14﴾
- قُلْکہہ دیجئے
- لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْاان لوگوں کو جو ایمان لائے
- يَغْفِرُوْادرگزر کریں
- لِلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے
- لَا يَرْجُوْنَنہیں وہ امید رکھتے
- اَيَّامَ اللّٰهِاللہ کے دنوں کی
- لِيَجْزِيَتاکہ وہ بدلہ دے
- قَوْمًۢاایک قوم کو
- بِمَابوجہ اس کے جو
- كَانُوْاتھے وہ
- يَكْسِبُوْنَکمائی کرتے
Translation · Aasan Quran
(اے پیغمبر) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان سے کہو کہ جو لوگ اللہ کے دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے، (2) ان سے درگزر کریں (3) تاکہ اللہ لوگوں کو ان کاموں کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (4)
Tafseer · Aasan Quran
2: اللہ کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال جزاء دے، چاہے دنیا میں یا آخرت میں، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس بات سے بےفکر ہیں، بلکہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ کوئی ایسے دن آنے والے ہیں۔
3: درگزر کرنے کا مطلب یہاں یہ ہے کہ ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچائی جائیں ان کا بدلہ نہ لیں، یہ حکم مکی زندگی میں دیا گیا تھا جہاں مسلمانوں کو مسلسل صبر کی تلقین کی جارہی تھی، اور ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا تھا۔
4: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ کافر لوگ ان پر جو ستم ڈھا رہے ہیں تم ان کا فی الحال بدلہ نہ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کا بدلہ لے لے گا، چاہے وہ اسی دنیا میں ہو یا آخرت میں، اور ساتھ ہی یہ مطلب بھی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں صبر سے کام لیں گے، اور بدلہ نہیں لیں گے، اللہ تعالیٰ ان کی اس نیکی کا بدلہ آخرت کی نعمتوں کی صورت میں ضرورعطا فرمائے گا۔