آسان قرآن
Aasan Quran · 47. Muhammad · Ayah 19
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ع﴿19﴾
- فَاعْلَمْسو جان لو
- اَنَّهٗیہ کہ
- لَآ اِلٰهَنہیں کوئی معبود
- اِلَّا اللّٰهُاللہ کے سوا
- وَاسْتَغْفِرْاور بخشش مانگیں آپ
- لِذَنْۢبِكَاپنے ذنب (اپنے اوپر لگائے گئے الزام) کیلئے
- وَلِلْمُؤْمِنِيْنَاور مومن مردوں کیلئے
- وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭاور مومن عورتوں
- وَاللّٰهُاور اللہ
- يَعْلَمُجانتا ہے
- مُتَقَلَّبَكُمْتمہارا چلنا پھرنا
- وَمَثْوٰىكُمْاور تمہارے رہنے سہنے کا مقام
Translation · Aasan Quran
لہذا (اے پیغمبر) یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور اپنے قصور پر بھی بخشش کی دعا مانگتے رہو، (9) اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی بخشش کی بھی، اور اللہ تم سب کی نقل و حرکت اور تمہاری قیام گاہ کو خوب جانتا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
9: حضور اکرم ﷺ گناہوں سے معصوم تھے، آپ سے گناہ کا کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا تھا، لیکن آپ کی کسی کسی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کے مقام بلند کے مناسب نہیں تھی (مثلاً جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ کا فیصلہ جس کا ذکر سورة انفال : 22، 23 میں گذرا ہے، نیز بشری تقاضے سے کبھی کبھی آپ سے نماز کی رکعتوں وغیرہ میں بھول بھی ہوئی۔ اسی قسم کی باتوں کو یہاں قصور سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور در حقیقت اس میں آپ کی امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی جو گناہ نہیں ہیں، استغفار فرماتے ہیں تو امت کے لوگوں کو اپنے ہر چھوٹے بڑے گناہ پر اور زیادہ اہتمام کے ساتھ استغفار کرنا چاہیے۔