آسان قرآن
Aasan Quran · 57. Al-Hadid · Ayah 19
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ع﴿19﴾
- وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْااور وہ لوگ جو ایمان لائے
- بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖٓاللہ پر اور اس کے رسولوں پر
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ ڰوہ سچے ہیں
- وَالشُّهَدَآءُاور شہید ہیں
- عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭاپنے رب کے نزدیک
- لَهُمْ اَجْرُهُمْان کے لیے ان کا اجر ہے
- وَنُوْرُهُمْ ۭاور ان کا نور ہے
- وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ
- كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
- وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآاور انہوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِجہنم والے ہیں
Translation · Aasan Quran
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ (15) ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخی لوگ ہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
15: صدیق کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنے قول وفعل کا سچا ہو اور یہ انبیائے کرام کے بعد پرہیزگاری کا سب سے اونچا درجہ ہے، جیسا کہ سورة نساء (4: 70) میں گزرا ہے، اور شہید کے لفظی معنی تو گواہ کے ہیں، اور قیامت میں امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے پرہیزگار افراد پچھلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرۃ (143) میں گزرا ہے، نیز شہیدان حضرات کو بھی کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی پیش کریں، یہاں یہ بات منافقوں کے مقابلے میں فرمائی جارہی ہے کہ صرف زبان سے ایمان کا دعوی کرکے کوئی شخص صدیق اور شہید کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ وہی لوگ یہ درجہ حاصل کرسکتے ہیں جو دل سے سچا اور پکا ایمان لائے ہوں، یہاں تک کہ اس ایمان کے آثار ان کی عملی زندگی میں پوری طرح ظاہر ہوں۔