آسان قرآن
Aasan Quran · 57. Al-Hadid · Ayah 23
لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ﴿23﴾
- لِّكَيْلَاتاکہ نہ
- تَاْسَوْاتم افسوس کرو
- عَلٰي مَااوپر اس کے جو
- فَاتَكُمْنقصان ہوا تم کو۔ کھو گیا تم سے
- وَلَا تَفْرَحُوْااور نہ تم خوش ہو
- بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭساتھ اس کے جو اس نے دیا تم کو
- وَاللّٰهُاور اللہ
- لَانہیں
- يُحِبُّپسند کرتا
- كُلَّ مُخْتَالٍہر خود پسند
- فَخُوْرِۨفخر جتانے والے کو
Translation · Aasan Quran
یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرمادے، اس پر تم اتراؤ نہیں، (18) اور اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اتراہٹ میں مبتلا ہو، شیخی بگھارنے والا ہو۔
Tafseer · Aasan Quran
18: جس شخص کا اس بات پر ایمان ہو کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اسی تقدیر کے مطابق ہورہا ہے، جو لوح محفوظ میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے، اسے کسی ناگوار واقعے پر اتنا صدمہ نہیں ہوتا جو اسے دائمی پریشانی اور حسرت میں مبتلا رکھے ؛ بلکہ یہ چیز اس کی تسلی کا باعث ہوتی ہے کہ جو کچھ تقدیر میں لکھا تھا وہی ہوا، اور یہ کہ اس دنیا کی تکلیفیں آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، اس طرح اگر کوئی خوشی کا واقعہ پیش آتا ہے تو انسان اس پر اتراکر تکبر میں مبتلا نہیں ہوتا، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تقدیر کے مطابق ہے، اور اس پر انسان کو اترانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔