Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 65. At-Talaaq · Ayah 12

  1. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ع﴿12﴾

    1. اَللّٰهُ الَّذِيْاللہ وہ ذات ہے
    2. خَلَقَ سَبْعَجس نے پیدا کیا سات
    3. سَمٰوٰتٍآسمانوں کو
    4. وَّمِنَ الْاَرْضِاور زمین میں سے
    5. مِثْلَهُنَّانہی کی مانند
    6. يَتَنَزَّلُاترتا ہے
    7. الْاَمْرُحکم
    8. بَيْنَهُنَّان کے درمیان
    9. لِتَعْلَمُوْٓاتاکہ تم جان لو
    10. اَنَّ اللّٰهَبیشک اللہ تعالیٰ
    11. عَلٰي كُلِّاوپر ہر
    12. شَيْءٍچیز کے
    13. قَدِيْرٌقادر ہے
    14. وَّاَنَّ اللّٰهَاور بیشک اللہ تعالیٰ نے
    15. قَدْ اَحَاطَتحقیق گھیر رکھا ہے
    16. بِكُلِّہر
    17. شَيْءٍچیز کو
    18. عِلْمًاعلم کے اعتبار سے
Translation · Aasan Quran
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین بھی انہی کی طرح (14) اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے، تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
14: احادیث سے اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔ البتہ ان کی کوئی تفصیل قرٓان و حدیث نے نہیں بتائی کہ یہ سات زمینیں تہہ بر تہہ ہیں، یا ان کے درمیان فاصلہ ہے، اور اگر فاصلہ ہے تو وہ کہاں واقع ہیں۔ کائنات کی بیشمار چیزیں ایسی ہیں جن تک ابھی انسان کے علم کی رسائی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کی حقیقت جانتا ہے، اور قرآن کریم کے مقصد کے لیے یہ ساری تفصیلات جاننا ضروری بھی نہیں ہے۔ آیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ کائنات کے ان حقائق سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر ایمان لانا ہی عقل سلیم کا تقاضا ہے۔