آسان قرآن
Aasan Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 17
اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ﴿17﴾
- اِنَّابیشک ہم نے
- بَلَوْنٰهُمْآزمائش میں ڈالا ہم نے ان کو
- كَمَا بَلَوْنَآجیسا کہ آزمایا ہم نے
- اَصْحٰبَ الْجَنَّةِباغ والوں کو
- اِذْ اَقْسَمُوْاجب انہوں نے قسم کھائی
- لَيَصْرِمُنَّهَاالبتہ ضرور کاٹ لیں گے اس کو
- مُصْبِحِيْنَصبح سویرے
Translation · Aasan Quran
ہم نے ان (مکہ والوں) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جیسے (ایک) باغ والوں کو اس وقت آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم اس باغ کا پھل توڑ لیں گے۔ (7)
Tafseer · Aasan Quran
7: مکہ مکرمہ کے بعض مال دار کافروں کو یہ زعم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو ہمیں مال و دولت سے نہ نوازتا، جیسا کہ سورة مومنون : 56 میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ہم بعض اوقات کسی کو مال و دولت اس آزمانے کے لیے دیتے ہیں، اور اگر وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرے تو اس پر دنیا ہی میں عذاب آجاتا ہے۔ چنانچہ ان آیات میں اسی طرح کا ایک واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جو اہل عرب میں مشہور تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک نیک شخص کا بہت بڑا باغ تھا۔ اس نیک آدمی کا معمول یہ تھا کہ وہ اپنے باغ اور کھیت کی پیداوار کا ایک اچھا خاصہ حصہ غریبوں کو دیا کرتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں نے یہ طے کیا کہ ہمارا باپ بیوقوف تھا جو اتنی ساری پیداوار غریبوں کو دے کر اپنی دولت میں کمی کردیتا تھا۔ اب جو ہم باغ کی کٹائی کریں گے تو ایسا انتظام کریں گے کہ کوئی غریب آدمی وہاں آنے ہی نہ پائے۔ اس کے نتیجے میں جب وہ کٹائی کے لیے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ پر ایک ایسی آفت بھیج دی کہ سارا باغ تباہ ہو کر رہ گیا۔ اکثر روایتوں کے مطابق یہ واقعہ یمن کے شہر صنعاء سے کچھ فاصلے پر ضروان نامی ایک علاقے میں پیش آیا تھا۔ یہ علاقہ اب بھی ضروان کہلاتا ہے، اور میں نے دیکھا ہے۔ وہاں چاروں طرف پھیلے ہوئے سبزے کے درمیان ایک کالے کالے پتھروں والا ویران علاقہ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہی اس باغ کی جگہ تھی جو بعد میں آباد نہیں ہوسکی۔ واللہ اعلم۔