Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 89

  1. قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ﴿89﴾

    1. قَدِ افْتَرَيْنَاالبتہ ہم نے بہتان باندھا (باندھیں گے)
    2. عَلَي اللّٰهِاللہ پر
    3. كَذِبًاجھوٹا
    4. اِنْاگر
    5. عُدْنَاہم لوٹ آئیں
    6. فِيْمیں
    7. مِلَّتِكُمْتمہارا دین
    8. بَعْدَبعد
    9. اِذْجب
    10. نَجّٰىنَاہم کو بچا لیا
    11. اللّٰهُاللہ
    12. مِنْهَااس سے
    13. وَمَا يَكُوْنُاور نہیں ہے
    14. لَنَآہمارے لیے
    15. اَنْ نَّعُوْدَکہ ہم لوٹ آئیں
    16. فِيْهَآاس میں
    17. اِلَّآمگر
    18. اَنْ يَّشَآءَیہ کہ چاہے
    19. اللّٰهُاللہ
    20. رَبُّنَاہمارا رب
    21. وَسِعَاحاطہ کرلیا ہے
    22. رَبُّنَاہمارا رب
    23. كُلَّ شَيْءٍہر شے
    24. عِلْمًاعلم میں
    25. عَلَيپر
    26. اللّٰهِاللہ
    27. تَوَكَّلْنَاہم نے بھروسہ کیا
    28. رَبَّنَاہمارا رب
    29. افْتَحْفیصلہ کردے
    30. بَيْنَنَاہمارے درمیان
    31. وَبَيْنَاور درمیان
    32. قَوْمِنَاہماری قوم
    33. بِالْحَقِّحق کے ساتھ
    34. وَاَنْتَاور تو
    35. خَيْرُبہتر
    36. الْفٰتِحِيْنَفیصلہ کرنے والا
Translation · Aasan Quran
ہم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں گے، اگر تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیں گے، (46) جبکہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے۔ ہمارے لیے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کی طرف واپس جائیں۔ ہاں اللہ ہمارا پروردگار ہی کچھ چاہے تو اور بات ہے۔ (47) ہمارے رب نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کر رکھا ہے۔ اے ہمارے رب ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرمادے۔ اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
46: حضرت شعیب ؑ کے دوسرے ساتھی تو پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے، بعد میں ایمان لائے اس لئے ان کے حق میں توپرانے دین کی طرف لوٹنے کا لفظ صحیح ہے ؛ لیکن حضرت شعیب ؑ کبھی بھی ان کے دین پر نہیں رہے البتہ ان کی نبوت سے پہلے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ انہی کے دین پر ہیں، اس لئے انہوں نے آپ کے لئے بھی لوٹنے کا لفظ استعمال کیا تھا، حضرت شعیب ؑ نے جواب بھی انہی کے الفاظ میں دیا۔ 47: یہ اعلی درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پکے عزم سے اللہ تعالیٰ کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتا، ہم نے اپنی طرف سے تو یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ کبھی تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے لیکن اپنے اس عزم پر عمل اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اگر وہ چاہے تو ہمارے دلوں کو بھی پھیر سکتا ہے یہ اور بات ہے کہ جب کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ راہ راست پر رہنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ اس کا دل گمراہی کی طرف نہیں پھیرتا اور ہر شخص کے اخلاص کی کیفیت کا اس کو پورا علم ہے، لہذا اخلاص کے ساتھ کسی بات کا پکا ارادہ کرلینے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ وہ اس ارادے کو پورا فرمائے گا، اس طرح حضرت شعیب ؑ نے اس جملے سے یہ عظیم سبق دیا ہے کہ کوئی بھی نیکی کرتے وقت بھروسہ اپنے عزم اور عمل کے بجائے اللہ تعالیٰ پر کرنا چاہیے۔