Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 4

  1. تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ﴿4﴾

    1. تَعْرُجُچڑھتے ہیں
    2. الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
    3. وَالرُّوْحُاور روح
    4. اِلَيْهِاس کی طرف
    5. فِيْ يَوْمٍایک دن میں
    6. كَانَ مِقْدَارُهٗہے اس کی مقدار
    7. خَمْسِيْنَپچاس
    8. اَلْفَ سَنَةٍہزار سال
Translation · Aasan Quran
فرشتے اور روح القدس اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ (3)
Tafseer · Aasan Quran
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے، وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت کے مطابق متعین ہوگا۔ اور تم جو سمجھ رہے ہو کہ اس کے آنے میں بہت دیر ہوگئی ہے تو درحقیقت تم جس مدت کو ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال سمجھتے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ چنانچہ سورة حج : 47 میں بھی یہ بات اسی سلسلے میں فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ عذاب کو جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور یہاں سورة معارج میں بھی اسی شخص کے جواب میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے جو عذاب مانگ رہا تھا۔