آسان قرآن
Aasan Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 2
یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ﴿2﴾
- يَّهْدِيْٓوہ رہنمائی کرتا ہے
- اِلَى الرُّشْدِہدایت کی طرف
- فَاٰمَنَّاتو ہم ایمان لائے
- بِهٖ ۭاس پر
- وَلَنْ نُّشْرِكَاور ہم ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے
- بِرَبِّنَآاپنے رب کے ساتھ
- اَحَدًاکسی کو
Translation · Aasan Quran
جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اب اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو (عبادت میں) ہرگز شریک نہیں مانیں گے۔ (1)
Tafseer · Aasan Quran
1: حضور نبی کریم ﷺ کو جس طرح انسانوں کے لئے پیغمبر بنایا گیا تھا، اسی طرح آپ جنات کے لئے بھی پیغمبر تھے، چنانچہ آپ نے جنات کو بھی تبلیغ فرمائی، اور جنات کو تبلیغ کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ آپ کی نبوت سے پہلے جنات کو آسمانوں کے قریب تک پہنچنے دیا جاتا تھا، لیکن حضور اقدس ﷺ کی بعثت کے بعد انہیں آسمانوں کے قریب جانے سے اس طرح روک دیا گیا تھا کہ جب کوئی جن یا شیطان آسمان کے قریب پہنچنا چاہتا تو اسے ایک شعلے کے ذریعے ماربھگادیا جاتا تھا، جیسا کہ سورة حجر (17: 15) اور سورة صافات (10: 37) میں گزرچکا ہے، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جنات نے جب اس بدلی ہوئی صورت حال کو دیکھا تو ان کے دل میں یہ جستجو پیدا ہوئی کہ اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے کہ اب انہیں آسمان کے پاس بھی پھٹکنے سے روک دیا جاتا ہے، اس غرض کے لئے ان کی ایک جماعت دنیا کا دورہ کرنے کے لئے نکلی، یہ وہ وقت تھا جب آنحضرت ﷺ طائف سے واپس تشریف لارہے تھے اور نخلہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے، وہاں آپ نے فجر کی نماز میں قرآن کریم کی تلاوت شروع کی تو جنات کی یہ جماعت اس وقت وہاں سے گزررہی تھی، اس نے یہ کلام سنا تو وہ اسے اطمینان سے سننے کے لئے رک گئے، حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک زبان سے فجر کے وقت قرآن کریم کے پر اثر کلام نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ جنات مسلمان ہوگئے اور پھر اپنی قوم کے پاس بھی اسلام کے داعی بن کر پہنچے، انہوں نے اپنی قوم سے جاکر جو باتیں کیں، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کا خلاصہ بیان فرمایا ہے۔ اس واقعے کی طرف مختصر اشارہ سورة احقاف : 30 میں بھی گذر چکا ہے۔ اس کے بعد جنات کے کئی وفود آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے، اور آپ نے انہیں تبلیغ وتعلیم کا فریضہ انجام دیا۔