آسان قرآن
Aasan Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 11
ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ﴿11﴾
- ذَرْنِيْمجھے چھوڑدو
- وَمَنْاور جسے
- خَلَقْتُمیں نے پیدا کیا
- وَحِيْدًااکیلا
Translation · Aasan Quran
اس شخص کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ (5)
Tafseer · Aasan Quran
5: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا۔ اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی۔ وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کرچکا تھا کہ یہ ایک بےنظیر کلام ہے جو کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی، اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو۔ ولید کو اس پر غیرت آگئی، اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے پاس نہیں جاؤں گا۔ ابو جہل نے کہا کہ جب تک تم قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کہوگے، لوگ مطمئن نہیں ہوں گے۔ ولید نے کہا میں اسے نہ شعر کہہ سکتا ہوں، نہ کاہنوں کا کلام کہہ سکتا ہوں۔ نہ محمد ﷺ کو مجنون کہہ سکتا ہوں، کیونکہ یہ باتیں چلنے والی نہیں ہیں۔ پھر کچھ سوچنے کے بعد کہا کہ : البتہ اسے سحر (جادو) کہا جاسکتا ہے، کیونکہ جس طرح جادو کے ذریعے جادوگر میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دیتے ہیں، اسی طرح اس کلام کو سن کر جو مسلمان ہوجاتا ہے، وہ اپنے کافر ماں باپ وغیرہ سے الگ ہوجاتا ہے، اور بعض روایات میں ہے کہ ولید نے یہ بات اس موقع پر کہی تھی جب قریش کے لوگوں نے حج سے کچھ پہلے یہ مشورہ کیا کہ حج میں سارے عرب سے لوگ آئیں گے، اور محمد ﷺ کے بارے میں سوالات کریں گے، ہمیں یہ طے کرلینا چاہیے کہ ان سے کیا کہیں۔ ولید نے کہا کہ انہیں نہ مجنون کہا جاسکتا ہے، نہ شاعر نہ کاہن، نہ جھوٹا۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر کیا کہیں، تو اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا کہ اگر انہیں جادوگر کہا جائے تو بات کچھ چل جائے گی۔ (ابن کثیر)