Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 2

  1. وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ﴿2﴾

    1. وَلَآ اُقْسِمُاور نہیں میں قسم کھاتا ہوں
    2. بِالنَّفْسِدل کی
    3. اللَّوَّامَةِاپنے اوپر ملامت کرنیوالے
Translation · Aasan Quran
اور قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ (1) (کہ ہم انسان کو ضرور دوبارہ زندہ کریں گے)
Tafseer · Aasan Quran
1: ملامت کرنے والے نفس سے مراد انسان کا وہ ضمیر ہے جو اسے غلط کاموں پر ملامت کرتا ہے۔ نفس انسان کی اس اندرونی کیفیت کا نام ہے جس میں خواہشات اور ارادے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے تین قسم کے نفس کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک نفس امارہ یعنی برائی پر مائل کرنے والا (دیکھئے : 53)۔ دوسرے نفس لوامہ جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے اور جو اچھائی کی طرف مائل کرتا اور برائی پر ملامت کرتا ہے۔ تیسرے نفس مطمئنہ (دیکھئے : 27)۔ اس سے مراد وہ نفس ہے جو مسلسل کوشش کر کے اچھائی پر مطمئن ہوگیا ہو، اور برائی کے تقاضے اس میں یا تو پیدا ہی نہ ہوتے ہوں، یا بہت کمزور ہوگئے ہوں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کی قسم کھائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی طبیعت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا مادہ رکھا ہے جو اسے برائی پر ملامت کرتا رہتا ہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ یہ ملامت کرنے والی چیز جو خود اس کے وجود میں رکھی ہوئی ہے، خود اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات نے اسے پیدا کیا ہے، اس نے ساتھ ساتھ اس کو ایک تنبیہ کرنے والا وجود عطا فرما دیا ہے۔ اگر آخرت آنے والی نہ ہوتی، اور انسان کو اس کے اچھے برے اعمال کا بدلہ ملنے والا نہ ہوتا تو اس نفس لوامہ کی کیا ضرورت تھی۔