آسان قرآن
Aasan Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 1
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ﴿1﴾
- وَالنّٰزِعٰتِقسم ہے ان فرشتوں کی جو کھینچنے والے ہیں
- غَرْقًاغرق ہوکر/ ڈوب کر
Translation · Aasan Quran
قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (کافروں کی روح) سختی سے کھینچتے ہیں۔ (1)
Tafseer · Aasan Quran
1: قرآن کریم میں اصل لفظ صرف اتنا ہے کہ ”قسم ان کی جو سختی سے کھینچتے ہیں“ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد روح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (اور عام طور سے کافروں کی) روح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (اور عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان روحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی ان کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے حالات بیان فرمائے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔ پیچھے گذر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن عربی بلاغت کے قاعدے سے بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں اور عام طور سے جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے، وہ اس دعوے پر گواہ ہوتی ہے جو بعد میں بیان ہورہا ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس بات کے گواہ ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے روح قبض فرماتا ہے، اسی طرح فرشتوں سے صور پھنکوا کر انہیں دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے۔