آسان قرآن
Aasan Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 53
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿53﴾
- ذٰلِكَیہ
- بِاَنَّاس لیے کہ
- اللّٰهَاللہ
- لَمْ يَكُنہیں ہے
- مُغَيِّرًابدلنے والا
- نِّعْمَةًکوئی نعمت
- اَنْعَمَهَااسے دی
- عَلٰي قَوْمٍکسی قوم کو
- حَتّٰيجب تک
- يُغَيِّرُوْاوہ بدلیں
- مَاجو
- بِاَنْفُسِهِمْان کے دلوں میں
- وَاَنَّاور یہ کہ
- اللّٰهَاللہ
- سَمِيْعٌسننے والا
- عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Aasan Quran
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو اسے اس وقت تک بدلنا گوارا نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت تبدیل نہ کرلیں (36) اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
36: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو عذاب سے اسی وقت بدلتا ہے جب کوئی قوم اپنی حالت کو خود بدل لیتی ہے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن میں سب سے بڑی نعمت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کو انہی کے درمیان مبعوث کیا گیا اگر وہ اس وقت ضد سے کام لینے کے بجائے حق طلبی اور انصاف سے کام لیتے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا کچھ مشکل نہیں تھا لیکن انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کرکے اور ضد سے کام لے کر اپنی حالت کو بدل لیا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا جس سے حق کو قبول کرنا ان کے لئے مشکل ہوگیا، جب انہوں نے اپنی حالت اس طرح بدل لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمتوں کو عذاب سے تبدیل کردیا۔