Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 67

  1. مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿67﴾

    1. مَا كَانَنہیں ہے
    2. لِنَبِيٍّکسی نبی کے لیے
    3. اَنْکہ
    4. يَّكُوْنَہوں
    5. لَهٗٓاس کے
    6. اَسْرٰيقیدی
    7. حَتّٰيجب تک
    8. يُثْخِنَخونریزی کرلے
    9. فِيمیں
    10. الْاَرْضِزمین
    11. تُرِيْدُوْنَتم چاہتے ہو
    12. عَرَضَمال
    13. الدُّنْيَادنیا
    14. وَاللّٰهُاور اللہ
    15. يُرِيْدُچاہتا ہے
    16. الْاٰخِرَةَآخرت
    17. وَاللّٰهُاور اللہ
    18. عَزِيْزٌغالب
    19. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Aasan Quran
یہ بات کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی رہیں (47) جب تک کہ وہ زمین میں (دشمنوں کا) خون اچھی طرح نہ بہا چکا ہو (جس سے ان کا رعب پوری طرح ٹوٹ جائے) تم دنیا کا سازوسامان چاہتے ہو اور اللہ (تمہارے لیے) آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔
Tafseer · Aasan Quran
47: جنگ بدر میں ستر قریشی افراد گرفتار ہوئے تھے، ان لوگوں کو جنگی قیدی کے طور پر مدینہ منورہ لایا گیا تھا، آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا کہ ان سے کیا سلوک کیا جائے ؟ بعض صحابہ کرام مثلاً حضرت عمر ؓ کی رائے یہ تھی کہ ان کو قتل کردیا جائے، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان کی بنا پر ان کا عبرت ناک انجام ہونا چاہیے، دوسرے حضرات کی رائے یہ تھی کہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا جائے۔ (فدیہ اس مال کو کہا جاتا ہے جو کسی جنگی قیدی سے اس کی آزادی کے بدلے طلب کیا جائے) چونکہ زیادہ تر صحابہ اس دوسری رائے کے حق میں تھے، اس لئے آنحضرت ﷺ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ان سب قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جنگ بدر کا سارا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتبہ کفار کی طاقت اور شوکت کا زور اچھی طرح ٹوٹ جائے، اور جن لوگوں نے سالہا سال تک دین حق کا نہ صرف راستہ روکنے کی کوشش کی ہے بلکہ مسلمانوں پر وحشیانہ ظلم ڈھائے ہیں، ان پر ایک مرتبہ مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جائے، اس کے لئے ضروری تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی کا معاملہ کرنے کے بجائے ان سب کو قتل کردیا جاتا ؛ تاکہ واپس جاکر مسلمانوں کے لئے خطرہ بھی نہ بن سکتے اور ان کے عبرت ناک انجام سے دوسروں کو بھی سبق ملتا، یہاں یہ واضح رہے کہ جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے پر ناپسندیدگی کا یہ اظہار جنگ بدر کے وقت مذکورہ مصلحت کی بنا پر کیا گیا تھا، بعد میں سورة محمد کی آیت نمبر : 4 میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اب چونکہ کفار کی جنگی طاقت ٹوٹ چکی ہے اس لئے اب نہ صرف فدیہ لے کر ؛ بلکہ بغیر فدیہ کے، محض احسان کے طور پر بھی جنگی قیدیوں کو آزاد کیا جاسکتا ہے۔ (توضیح القرآن)