Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 7

  1. وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ﴿7﴾

    1. وَاِذْاور جب
    2. يَعِدُكُمُتمہیں وعدہ دیتا تھا
    3. اللّٰهُاللہ
    4. اِحْدَىایک کا
    5. الطَّآئِفَتَيْنِدو گروہ
    6. اَنَّهَاکہ وہ
    7. لَكُمْتمہارے لیے
    8. وَتَوَدُّوْنَاور چاہتے تھے
    9. اَنَّکہ
    10. غَيْرَبغیر
    11. ذَاتِ الشَّوْكَةِکانٹے والا
    12. تَكُوْنُہو
    13. لَكُمْتمہارے لیے
    14. وَاور
    15. يُرِيْدُچاہتا تھا
    16. اللّٰهُاللہ
    17. اَنْکہ
    18. يُّحِقَّثابت کردے
    19. الْحَقَّحق
    20. بِكَلِمٰتِهٖاپنے کلمات سے
    21. وَيَقْطَعَاور کاٹ دے
    22. دَابِرَجڑ
    23. الْكٰفِرِيْنَکافر (جمع)
Translation · Aasan Quran
اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا، اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمہیں ملے (3) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھائے، اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔
Tafseer · Aasan Quran
3: اس سے مراد ابو سفیان کا قافلہ ہے اور ”کانٹے“ سے مراد خطرہ ہے۔ قافلے میں مسلح افراد کی تعداد کل چالیس تھی۔ لہذا اس پر حملہ کرنے میں کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا۔ لہذا طبعی طور پر اس پر حملہ کرنا آسان تھا۔