آسان قرآن
Aasan Quran · 9. At-Tawba · Ayah 55
فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿55﴾
- فَلَا تُعْجِبْكَسو تمہیں تعجب نہ ہو
- اَمْوَالُهُمْان کے مال
- وَلَآاور نہ
- اَوْلَادُهُمْان کی اولاد
- اِنَّمَایہی
- يُرِيْدُچاہتا ہے
- اللّٰهُاللہ
- لِيُعَذِّبَهُمْکہ عذاب دے انہیں
- بِهَااس سے
- فِيمیں
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- وَتَزْهَقَاور نکلیں
- اَنْفُسُهُمْان کی جانیں
- وَهُمْاور وہ
- كٰفِرُوْنَکافر ہوں
Translation · Aasan Quran
تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب دے (45) اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔
Tafseer · Aasan Quran
45: یہ آیت دنیوی مال و دولت کے بارے میں ایک بڑی عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مال و دولت بذات خود کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے انسان اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ انسان کا اصل مقصد زندگی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول اور آخرت کی بہتری کا سامان ہونا چاہیے۔ البتہ چونکہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے مال کی ضرورت ہے، اس لیے جائز ذرائع سے اس کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں بھی یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ دنیا کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی مال اپنی ذات میں کوئی فائدہ براہ راست نہیں پہنچاتا۔ بلکہ وہ راحت و آرام کے وسائل حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن جب انسان مال کو بذات خود مقصود زندگی بنا لیتا ہے، اور ہر وقت اس فکر میں پڑا رہتا ہے کہ مال کی گنتی میں کس طرح اضافہ ہو تو وہ بےچارہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے اس فکر میں اپنی راحت و آرام تک کو قربان کر ڈالا ہے۔ بینک بیلنس میں بیشک اضافہ ہو رہا ہے، لیکن نہ دن کا چین میسر ہے، نہ رات کا آرام نہ بیوی بچوں سے بات کرنے کی فرصت ہے، نہ آرام کے وسائل سے مزہ لینے کا وقت۔ پھر اگر کبھی اس مال میں نقصان ہوجائے تو رنج و غم کے پہاڑ سر پر ٹوٹ پڑتے ہیں، کیونکہ یہ تصور تو ہے ہی نہیں کہ اس نقصان کا بدلہ آخرت میں مل سکے گا۔ اس طرح اگر غور سے دیکھو تو یہ مال و دولت نعمت بننے کے بجائے انسان کے لیے دنیا ہی میں عذاب بن جاتا ہے۔ یہی حال اولاد کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہ ہو تو وہ بکثرت انسان کے لیے مصیبت بن جاتی ہے۔