Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 90. Al-Balad · Ayah 4

  1. لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ﴿4﴾

    1. لَقَدْ خَلَقْنَاتحقیق ہم نے پیدا کیا
    2. الْاِنْسَانَانسان
    3. فِيْ كَبَدٍمشقت میں
Translation · Aasan Quran
کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ (3)
Tafseer · Aasan Quran
3: یہ ہے وہ بات جو قسم کھاکر فرمائی گئی ہے، مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی مشقت میں لگارہتا ہے، چاہے کتنا بڑا حاکم ہو یا دولت مند شخص ہو اسے زندہ رہنے کے لئے مشقت اٹھانی ہی پڑتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اسے دنیا میں کبھی کوئی محنت کرنی نہ پڑے تو یہ اس کی خام خیالی ہے، ایسا کبھی ممکن ہی نہیں ہے، ہاں مکمل راحت کی زندگی جنت کی زندگی ہے جو دنیا میں کی ہوئی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے، ہدایت یہ دی گئی ہے کہ انسان کو دنیا میں جب کسی مشقت کا سامنا ہو تو اسے یہ حقیقت یاد کرنی چاہیے، خاص طور پر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ میں جو تکلیفیں پیش آرہی تھیں اس آیت نے ان کو بھی تسلی دی ہے، اور یہ بات کہنے کے لئے اول تو شہر مکہ کی قسم کھائی ہے، شاید اس لئے کہ مکہ مکرمہ کو اگرچہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا سب سے مقدس شہر بنایا ہے، لیکن وہ شہر بذات خود مشقتوں سے بنا، اور اس کے تقدس سے فائدہ اٹھانے کے لئے آج بھی مشقت کرنی پڑتی ہے، پھر خاص طور پر اس میں آنحضرت ﷺ کے مقیم ہونے کا حوالہ دینے میں شاید یہ اشارہ ہے کہ افضل ترین پیغمبر ﷺ ، افضل ترین شہر میں مقیم ہیں، لیکن مشقتیں ان کو بھی اٹھانی پڑرہی ہیں، پھر حضرت آدم ؑ اور ان کی ساری اولاد کی قسم کھانے سے اشارہ ہے کہ انسان کی پوری تاریخ پر غور کرجاؤیہ حقیقت ہر جگہ نظر آئے گی کہ انسان کی زندگی مشقتوں سے پُر رہی ہے۔