Bayan-ul-Quran - Al-Israa : 83
وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ
وَدَاوٗدَ : اور داو ود وَسُلَيْمٰنَ : اور سلیمان اِذْ : جب يَحْكُمٰنِ : فیصلہ کر رہے تھے فِي الْحَرْثِ : کھیتی (کے بارہ) میں اِذْ : جب نَفَشَتْ : رات میں چوگئیں فِيْهِ : اس میں غَنَمُ الْقَوْمِ : ایک قوم کی بکریاں وَكُنَّا : اور ہم تھے لِحُكْمِهِمْ : ان کے فیصلے (کے وقت) شٰهِدِيْنَ : موجود
اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں وہ اعراض کرلیتا ہے اور رخ بدل کر دور ہوجاتا ہے۔ ا ورجب اسے تکلیف پہنچ جائے تو ناامید ہوجاتا ہے۔
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونابجانبہ “ سے مراد ہے وہ ہم سے دور ہوگیا۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کان یوسا “ سے مراد ہے ناامید ہونا مایوس ہونا ” کل یعمل علی شاکلتہ “ یعنی ہر شخص اپنے ارادہ کے مطابق عمل کرتا ہے۔ 3:۔ ھناد اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی شاکلتہ “ یعنی اپنی نیت کے مطابق ہر شخص عمل کرتا ہے۔
Top