Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Jalalain - Al-Waaqia : 49
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ
: وہ
الَّذِيْ
: اللہ وہ ذات ہے
جَعَلَ
: جس نے بنایا
لَكُمُ الْاَرْضَ
: تمہارے لیے زمین
ذَلُوْلًا
: تابع۔ فرش
فَامْشُوْا
: پس چلو
فِيْ مَنَاكِبِهَا
: اس کے اطراف میں
وَكُلُوْا
: اور کھاؤ
مِنْ رِّزْقِهٖ
: اس کے رزق میں سے
وَاِلَيْهِ
: اور اسی کی طرف
النُّشُوْرُ
: دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔
ترجمہ : وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر نرم، اس پر چلنے کے قابل کر رکھا ہے تاکہ تم اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور خدا کی روزی میں سے جس کو اس نے تمہارے لئے پیدا کیا، کھائو، اور قبروں میں سے جزاء کے لئے اسی کی طرف اٹھ کھڑا ہونا ہے، کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ؟ (اامنتم) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کی تسہیل کے ساتھ، اور مسہلہ اور غیر مسہلہ کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کر کے، اور اس کو الف سے بدل کر، کہ آسمان والا یعنی آسمان میں جس کی سلطنت اور قدرت ہے تم کو زمین میں دھنسا دے (ان یخسف) من سے بدل ہے اور اچانک زمین لرزنے لگے، یعنی تم کو لے کر تھرتھرانے لگے اور تمہارے اوپر پلٹ جائے، کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ؟ اس بات سے کہ وہ ایسی آندھی بھیج دے کہ جو تمہارے اوپر سنگ ریزے برسائے، عنقریب معائنہ عذاب کے وقت، تم کو معلوم ہوجائے گا کہ عذاب سے میرا ڈرانا کیسا رہا ! ! اس سے پہلے جو امتیں گزر چکی ہیں انہوں نے بھی (دین حق کو) جھٹلایا (سو دیکھ لو ! ) موت کے وقت میرا عذاب ان کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسا رہا ! ! یعنی وہ عذاب مقتضٰی کے مطابق رہا، کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر ہوا میں پر پھیلائے اور پروں کو سمیٹے ہوئے پر پھیلانے کے بعد پرندوں پر نظر نہیں کی حالت بسط وقبض میں رحمن ہی (ان کو) اپنی قدرت سے تھامے رہتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے (آیت کا) مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ پرندوں کے ہوا میں ٹھہرے رہنے سے ہماری قدرت پر استدلال نہیں کرتے، کہ ہم ان کے ساتھ ماقبل میں مذکور وغیرہ عذاب کا معاملہ کرسکتے ہیں خدا کے سوا تمہارا وہ کونسا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے ؟ یعنی تم سے اس کے عذاب کو دفع کرسکے (امن) مبتداء ہے (ھذا) اس کی خبر ہے (الذی) ھذا سے بدل ہے (جند) بمعنی اعوان ہے (لکم) الذی کا صلہ ہے اور ینصر کم جند کی صفت ہے، یعنی اس کے سوا تمہارے عذاب کو دفع کرسکے، مطلب یہ ہے کہ تمہارا کوئی مددگار نہیں، یہ کافر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، شیطان نے یہ کہہ کر ان کو دھوکے میں ڈال دیا ہے کہ ان پر عذاب ہونے والا نہیں ہے، وہ کون ہے ؟ جو تم کو روزی پہنچا سکے گا اگر رحمن اپنی روزی یعنی بارش کو تم سے روک لے اور جواب شرط محذوف ہے، جس پر اس کا ماقبل دلالت کر رہا ہے، (اور وہ) فمن یرزقکم ہے، یعنی اس کے علاوہ تمہارا کوئی رازق نہیں، بلکہ یہ لوگ سرکشی اور نفرت میں حق سے دوری پر اڑے ہوئے ہیں (اچھا بتائو ! ) وہ شخص جو اوندھا، منہ کے بل چلے منزل مقصود پر پہلے پہنچنے والا ہوگا یا وہ شخص جو سیدھا کھڑے ہو کر ہموار سڑک پر چلے ثانی من کی خبر محذوف ہے جس پر پہلے من کی خبر یعنی اھدی دلالت کر رہی ہے اور (مذکورہ) مثال مومن اور کافر کیے، یعنی ان میں سے کونسا ہدایت پر ہے ؟ آپ ان سے کہئے وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور بدل بنائے، تم میں بہت کم لوگ ہیں جو شکر گزار ہیں (ما) زائدہ ہے اور جملہ مستانفہ ہے، ان نعمتوں پر ان کی بہت کم شکر کی خبر دے رہا ہے آپ (یہ بھی) کہئے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلایا (پیدا کیا) اور حساب کے لئے، اسی کے پاس جمع کئے جائو گے، اور یہ لوگ مومنین سے کہتے ہیں یہ حشر کا وعدہ کب (پورا ہوگا ؟ ) اگر تم اس وعدہ میں سچے ہو (تو بتلائو ! ) آپ کہئے کہ اس کی آمد کے وقت کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں، جب یہ لوگ حشر کے بعد عذاب کو قریب تر دیکھیں گے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے یعنی سیاہ ہوجائیں گے اور کہا جائے گا یعنی دوزخ کے نگران ان سے کہیں گے یہی ہے وہ عذاب کہ جس سے ڈرانے کے سبب تم دعویٰ کرتے تھے کہ تم کو مرنے کے بعد نہیں اٹھایا جائے گا، یہ آنے والی حالت کا بیان ہے جس کو متحقق الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کردیا گیا ہے، آپ ان سے کہئے کہ اچھا تم بتائو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو جو مومن ہیں اپنے عذاب سے ہلاک کر دے جیسا کہ تم چاہتے ہو یا ہمارے اوپر رحم فرمائے کہ ہم کو عذاب نہ دے، تو کافروں کو عذاب الیم سے کوئی بچائے گا ؟ یعنی ان کو عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں، آپ فرما دیجئے کہ وہی رحمان ہے ہم تو اسی پر ایمان لا چکے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے، عذاب دیکھنے کے وقت تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا، فستعلمون تاء اور یاء کے ساتھ کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ؟ ہم یا تم یا وہ ؟ آپ ان سے کہئے کہ اچھا یہ بتائو اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے یعنی زمین میں نیچے چلا جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے چشمہ کا پانی لائے ؟ جس کو تم ہاتھوں اور ڈولوں سے حاصل کرسکوجیسا کہ تمہارا (موجودہ) پانی، یعنی اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں لاسکتا پھر تم تمہارے زندہ ہو اٹھنے کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ اور مستحب ہے کہ تلاوت کرنے والا (معین) کے بعد کہے اللہ رب العالمین جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، بعض جبارین کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی گئی تو اس نے کہا پھاوڑے اور کدال لے آئیں گے، چناچہ اس کی آنکھ کا پانی خشک ہوگیا اور اندھا ہوگیا، ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اللہ اور اس کی آیتوں پر بےباکی کرنے سے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : مناکبھا جمع منتہی الجموع ہے، واحد منکب بمعنی جانب، طرف، اسی نسبت سے آدمی کے مونڈھوں کو منکب کہا جاتا ہے۔ قولہ : بتحقیق الھمزتین الخ اس میں کل پانچ قراءتیں ہیں، پہلا ہمزہ محقق ہی ہوتا ہے، دوسرا کبھی محقق اور کبھی مسہل، دونوں صورتوں میں دونوں کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کر کے، یہ چار صورتیں ہوگئیں، اور ایک صورت دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل کر کل پانچ صورتیں ہوگئیں۔ قولہ : ان یخسف یہ من سے بدل الاشتمال ہے۔ قولہ : حاصب باد سخت کہ سنگ ریزہ بردارد (صراح) حاصبا، بادسنگبار، سخت آندھی، حصباء کنکریوں کو کہتے ہیں۔ قولہ : انذاری اس میں اشارہ ہے کہ نذیر بمعنی انداز ہے اور یاء محذوف ہے۔ قولہ : اولم یروا وائو عاطفہ ہے اور ہمزہ محذوف پر داخل ہے تقدیر عبارت یہ ہے اغفلو ولم یروا۔ قولہ : صفت و یقبضن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ سوال : یقبضن کا عطف صافات پر ہے، کیا وجہ ہے کہ معطوف علیہ اسم ہے اور معطوف فعل ؟ جواب : پرندوں میں اصل یہ ہے کہ ان کے پر کھلے ہوئے اور پھیلے ہوئے ہوں اس لئے کہ طائر کو طائر یا پرندہ کو پرندہ اسی لئے کہتے ہیں کہ اس میں صفت طیر اور صفت پرواز اصل ہے اور قبض یعنی پروں کو سکیڑنا یہ طاری (خلاف اصل) ہے لہٰذا اصلی صفت کو اسم سے تعبیر کیا اس لئے کہ اسم استمرار اور دوام پر دلالت کرتا ہے، اور قبض (یعنی سکیڑنے) کو فعل سے تعبیر کیا کیونکہ وہ طاری اور حادث ہے اور فعل حدوث پر دلالت کرتا ہے۔ قولہ : قابضات اس میں اشارہ ہے کہ یقبضن، قابضات کی تاویل میں ہے تاکہ عطف درست ہوجائے، دونوں جگہ اجنحتھن ظاہر کر کے اشارہ کردیا کہ دونوں کے دونوں مفعول محذوف ہیں، دوسرے من مبتداء کی خبر پہلے من مبتداء کی خبر پر قیاس کرتے ہوئے حذف کردی گئی ہے ای اھدی اور اھدی اسم تفضیل اسم فاعل کے معنی میں ہے، مفسر علام نے اپنے قول ایتھما علی ھدی سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : مامزیدۃ، قلیلاما میں ما تاکید قلت کے لئے زائدہ ہے اور قلیلا موصوف محذوف کی صفت ہے ای شکرا قلیلا۔ قولہ : ان کنتم صادقین یہ شرط ہے اس کی جزاء محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے ان کنتم صادقین فبینوا وقتۃ۔ قولہ : بمجیئہ ای بوقت مجیئہ مضاف محذوف ہے۔ قولہ : زلفۃ یہ ازلاف کا اسم مصدر ہے، بمعنی قریب۔ قولہ : انکم لا تبعثون اس میں اشارہ ہے کہ تدعون کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : وھذہ حکایۃ حال تاتی یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : فرشتے روز قیامت کافروں سے کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا اور تم اس کی تردید و تکذیب کرتے تھے، یہ سوال و جواب سب زمانہ مستقبل (قیامت) میں ہوں گے اس کا تقاضا تھا کہ قیل کے بجائے یقولون سے تعبیر کرتے ؟ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ وقوع یقینی کی وجہ سے حکایت حال آتیہ کو ماضی سے تعبیر کردیا ہے، مذکورہ عبارت سے اسی سوال کا جواب دیا ہے۔ قولہ : ارایتم، ارایتم بمعنی اخبرونی ہے جو دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے، ان اھلکنی اللہ الخ جملہ شرطیہ قائم مقام دو مفعولوں کے ہے۔ قولہ : لا مجیرلھم اس میں اشارہ ہے کہ فمن یجیر کم میں استفہام انکاری ہے۔ قولہ : ام انتم کا تعلق فستعلمون میں تاء کی قرأت کی صورت میں ہے اور ام ھم کا تعلق فسیعلمون یاء کی قرأت کی صورت میں ہے۔ قولہ : معین یہ اصل میں معیون بروزن مفعول ہے جیسا کہ مبیع اصل میں مبیوع تھا یاء کا ضمہ ماقبل عین کو دیدیا اور وائو میں التقاء ساکنین ہوا وائو حذف ہوگیا عین کو ی کی مناسبت سے کسرہ دیدیا گیا۔ قولہ : وعمی یہ ذھب ماء عینہ کا عطف تفسیری ہے۔ تفسیر و تشریح ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا (الآیۃ) ذلول کے معنی مطیع و منقاد کے ہیں، اس جانور کو ذلول کہا جاتا ہے جو سواری دینے میں سرتابی اور شوخی نہ کرے، زمین کو مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا قوام اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا کہ نہ تو پانی کی طرح سیال و رقیق اور نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا، کیونکہ اگر زمین ایسی ہوتی تو اس پر چلنا اور ٹھہرنا مشکل ہوجاتا، اسی طرح زمین کو لوہے اور پتھر کی طرح سخت بھی نہیں بنایا اگر ایسا ہوتا تو اس میں نہ کھیتی کی کاشت کی جاتی اور نہ درخت لگائے جاتے اور نہ اس میں کنویں اور نہریں کھودی جاسکتیں۔ زمین کا اپنی بےحدو حساب مختلف النوع آبادی کے لئے جائے قرار ہونا بھی کوئی معمولی یا سرسری بات نہیں ہے، اس کرہ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، ان کی تفصیلات پر انسان غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادر مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی تھیں۔ یہ کرہ ارض فضائے بسیط میں معلق ہے کسی چیز پر ٹکا ہوا نہیں ہے باوجود یکہ زمین مغرب سے مشرق کی جانب 51035 /6 میل برابر تقریباً 155 کلو میٹر فی گھنٹہ محوری حرکت کرتی ہے (فلکیات جدیدہ) اس میں کوئی اضطراب و اہتزاز نہیں ہے اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز (جھٹکا) ہوتا جس کے خطرناک نتائج کا ہم کبھی زلزلہ آنے سے بآسانی لگا سکتے ہیں تو کرہ ارض پر کوئی آبادی ممکن نا ہوتی یہ کرہ ارضی باقاعدگی سے سورج کے سامنے آتا اور جاتا ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں، اگر اس کا ایک ہی رخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا رخ ہمیشہ پوشیدہ رہتا تو یہاں کسی ذی حیات کا وجود ممکن نہ ہوتا، کیونکہ پوشیدہ رخ کی سردی اور بےنوری، نباتات اور حیوانات کو پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رخ کی گرمی کی شدت روئے زمین کو بےآب وگیاہ اور غیر آباد بنا دیتی، اس کرہ ارضی پر پانچ سو میل تقریباً 750 کیلو میٹر بلندی تک ہوا کا ایک کثیف غلاف چڑھا ہوا ہے جو شہابوں کی خوفناک بمباری سے اسے بچائے ہوئے ہے ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب جو ہوا میں فی سیکنڈ 30 میل برابر کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں کرہ ارض پر وہ تباہی مچاتے کہ کسی بھی ذی حیات اور نباتات کی بقا ممکن نہ ہوتی۔ وکلوا من رزقہ والیہ النشور پہلے زمین میں چلنے پھرنے کی ہدایت فرمائی تھی، اس میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ تجارت کے لئے سفر اور مال کی درآمد برآمد اللہ کے رزق کا دروازہ ہے الیہ النشور میں بتلا دیا کہ کھانے پینے رہنے سہنے کے فوائد زمین سے حاصل کرنے کی اجازت ہے مگر موت اور آخرت سے بےفکر ہو کر نہیں، انجام کار اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، زمین پر رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں لگے رہو۔
Top