بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Ahsan-ut-Tafaseer - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
1۔ معتبر سند سے تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت سورت نحل کی یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ بھی ڈر گئے اور صحابہ بھی ڈر گئے اور سب نے جانا کہ قیامت آگئی اتنے میں دوسرا یہ ٹکڑا آیت کا نازل ہوا کہ جلدی نہ کرو 1 ؎۔ پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر فرمایا کہ میں اور قیامت یوں ملے ہوئے ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں مطلب آپ کا یہ ہے کہ جب نبی آخر الزمان آچکے تو پھر قیامت کے آنے میں اب کیا دیر ہے۔ یہ حدیث مختصر طور پر صحیح بخاری و مسلم میں بھی سہل بن سعد انس بن مالک ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے 2 ؎۔ جس میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جس روز سے حضرت جبرئیل نے آنحضرت ﷺ کے پاس وحی لانی شروع کی آسمان پر فرشتوں میں اسی وقت سے قیامت کا ایک خوف اور چرچہ پھیل گیا ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم طبرانی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ صور پھونکنے سے ذرا پہلے آسمان پر ایک کالا ابر اٹھے گا اور اس ابر میں سے پہلے اس آیت کے پڑھنے کی آواز لوگوں کے کانوں میں آوے گی لوگ اس آواز کا چرچہ کر رہے ہوں گے کہ اتنے میں صور پھونک دیا جاوے گا 3 ؎۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ دنیا کے کسی عذاب کا آنا اگر کسی مصلحت الٰہی سے ٹل گیا تو وقت مقررہ پر آئندہ قیامت کا آنا ایسا یقینی ہے جیسے زمانہ گزشتہ کی بہت سی باتیں ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے گزر چکی ہیں ان مشرکوں میں سرکش لوگ اب تو نادانی سے کبھی عذاب اور کبھی قیامت کی جلدی کرتے ہیں لیکن جب اپنے شرک کے وبال میں یہ لوگ پکڑے گئے تو ان کو اس جلدی کرنے کی قدر کھل جاوے گی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 4 ؎ کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ایسے سرکش لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور پھر وقت مقررہ پر جب ان کو پکڑتا ہے تو بالکل برباد کردیتا ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایتیں بھی گزر چکی ہیں 5 ؎ جن میں مشرکین مکہ میں بڑے بڑے سرکشوں اور بدر کی لڑائی میں مارے جانے کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ مرتے ہی ان لوگوں پر عقبیٰ کا سخت عذاب شروع ہوگیا اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کو سچا پالیا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک شخص کے مردہ کو اس کا جنت کا ٹھکانا اور بد شخص کے مردہ کو اس کا دوزخ کا ٹھکانا صبح شام دکھایا جا کر یہ کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تجھ کو اس ٹھکانے میں جانا پڑے گا 6 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے مشرکوں میں سرکش لوگ وقت مقررہ سے پہلے عذاب اور قیامت کی جو جلدی کرتے تھے وقت مقررہ آنے پر ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا میں ذلت سے وہ مارے گئے مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوئے قیامت کے دن دوزخ میں جو ٹھکانا ان کے لئے ٹھہرا وہ صبح شام قیامت تک ان کو دکھایا جاتا ہے۔ غرض ان لوگوں کو عذاب اور قیامت دونوں چیزوں کی جلدی کرنے کی قدر کھل گئی۔ 1 ؎ 1 باب قول ص 133 و تفسیر الدارالمنثور ص 109 ج 4۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 963 ج 2 باب قول النبی ﷺ بعثت انا والساعۃ کھاتین الخ۔ 3 ؎ الترغیب ص 293 ج 2 فصل النفح فی الصور۔ 4 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری۔ 5 ؎ صحیح مسلم ص 102 ج 2 باب غزوۃ بدر۔ 6 ؎ الترغیب ص 287 ج 2 الترھیب من المرد بقبور الظالمین الخ۔
Top